آگے ترقیاتی کام ہو رہا ہے
”بے روزگار نوجوان نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کرلی“
”ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر نہ ہونے کی وجہ سے بچی کی موت ہوگئی“
”ادویات اور ڈاکٹڑ نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال کھنڈر بن گیا“
”سکول کی عمارت میں مویشی“
”سرکاری اداروں میں ہزاروں آسامایاں خالی پڑی ہیں“
”غریب آدمی ”بچے برائے فروخت“ کا بورڈ لے کر سڑک پر“
”ہسپتال میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے سڑک پر بچی کی پیدائش“
”زمیندار طبقہ مہنگی کھاد، تیل ادویات اور سستی زرعی اجناس کی وجہ سے کوڑی کوڑی کا محتاج“
”اورنج لائن ٹرین کی زد میں کئی ثقافتی، تاریخی، رہائشی اور کاروباری عمارتیں ”
یہ ایسی خبروں کی چند مثالیں ہیں جن کی گونج سے ہر روز ایک حساس اور با شعور انسان کے کان ”لال“ اور روح جل جل کے ”کالی کلوٹی“ہوتی رہتی ہے۔ مگر آفریں ہے ارباب اختیار اور ان کے ذہین فطین وزیروں، مشیروں، حواریوں اور مشیروں کے مشیروں پر کہ جو 70فیصد زرعی پیشے سے تعلق رکھنے والے ملک میں اورنج لائن، میٹرو بس، سستی روٹی اور دانش سکول جیسے غیر دانشمندانہ اور نا قبت اندیش قسم کے منصوبے متعارف کرواتے ہیں اور پھر اسمبلیوں میں بیٹھے ان 70فیصد لوگوں کے نمائندوں پر جو چپ چاپ ایسے منصؤبہ جات کو پاس کردیتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جب پہننے کو کپڑا، کھانے کو روٹی، رہنے کو چھت، کرنے کو کام، پڑھنے کو کتاب، سکول اور استاد، اور بیمار کو دوائی تو دور کھانے کو زہر بھی میسر نہ ہو تو ایسے ملک میں یہ منصوبے دیے جاتے ہیں؟ ؟ یہ ہے ایک ”عوام دوست ” گورنمنٹ کی need based assesment۔ ؟ نہیں نہیں جناب۔ ! یہ need based assesment ہوسکتی ہے۔ مگر کسی غریب، کسان، چھوٹئے ملازم، مزدور یا پھر عام پاکستانی کے لئے نہیں بلکہ تاجر، صنعتکار اور حکمران کے لئے۔ یا پھر اس کے لئے جس کی لوہے کی فیکٹریاں ہوں، آٹے اور شوگر کی ملز ہوں!
ایک عام آدمی جس کو صبح کے ناشتے اور شام کی روٹی کی فکر لاحق رہتی ہےوہ ان سڑکوں، ٹرینوں اور دانش سکولوں کو آگ لگائے؟ اور یہ منصوبے بھی کہاں کے لئے بنتے ہیں؟ جناب! نہ تو لاہوراور سارا پنجاب ہے اور نہ ہی اسلام آباد سارا پاکستان۔ مگر لگتا ہے کہ حکمران طبقہ یہی سمجھتا ہے کہ لاہور سارا پنجاب ہے اور اسلام آباد سارا پاکستان۔ اگر زیادہ دوڑ لگائی جائے تو کراچی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ جہاں ”ترقیاتی کام“ پچھلے دس سال سے جاری ہیں اور جب دیکھو لگتا ہے آج ہی کام شروع ہوا ہے۔ اب تو ”آگے ترقیاتی کام جاری ہے، تکلیف کے لئے معزرت خواہ ہیں“ کا بورڈ دیکھ دیکھ کر ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم معذرت کر لیں کہ ”ہمیں معاف کر دیں، ہم بہت ہی گستاخ، نا ہنجار اور بھلکڑ قسم کی عوام ثابت ہوئے ہیں جو روز روز منہ اٹھا کر ان شہروں میں آ نکلتے ہیں“۔
اب تو یہ پوچھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ”کس کی ترقی“ کا کام ہو رہا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال جو ہم نے ”استاد لوگوں“ سے سن رکھی ہے آپ کو بھی سنائے دیتے ہیں کہ دنیا میں جنگ اس لئے ختم نہیں ہوتی کہ عالمی طاقتوں کے ”بادشاہ گر (کنگ میکر)“ اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالک ہیں۔ یا اس کو دیسی طریقے سے یوں سمجھ لیجیے کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے گا تو کھائے گا کیا؟ تو قارعین! یہ ترقیاتی کام بھی کچھ ایسے ہی ہیں جن کا کبھی نہ ختم ہونا ٹھہر گیا ہے۔ یقینا ترقیاتی کام کروانا اچھی بات ہے اور ایک حکومت کا اولین فرض ہی ملک و قوم کی ترقی ہے مگر گزارش بس اتنی ہے کہ اس ”ترقی“ کی تعریف میں اگر غریب عوام کی ترقی کو بھی شامل کر لیا جائے تو مہربانی ہوگی۔ وگرنہ ہم (عوام) کہاں ہماری اوقات کہاں۔ یعنی کہ کہاں ووٹر اورکہاں آپ جناب میاں، چوہدری، میر، سائیں، وڈیرہ، سردار، جام ٹائپ ہستیاں جن کے ناموں کے ساتھ اس قسم کے ”چھج“ ہی عام آدمی کی گھگی بندھیا دیتے ہیں۔ ووٹ تو بیچارےنے دینا ہی ہوتا ہے۔ نہ دے گا تو ووٹ خود جا کر آپ کو پڑ جائے گا۔ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ! اور پھر سے ”ترقیاتی کام“ جاری ہو جائیں گے۔ اربوں ڈالر سستی روٹی پکانے کے لئے تندور میں جھونکے جائیں گے، تمام اضلاع سے بجٹ واپس لے کر لاہور اور اسلام آباد میں پھر سےسڑکیں بنیں گی اور سرکاری سکول پرائیویٹائز کر کے دانش سکول کھولے جائیں گے جہاں فرشتے پڑھیں گے اور حوریں پڑھائیں گی۔ اس کو کہتے ہیں ”آگا دوڑ پیچھا چوڑ“۔
کوئی ہے جو ان ”عقلمندان ملت ” کو بتائے کہ حضور۔ اگرگستاخی معاف ہو اور جان کی امان پائیں تو عرض ہے کہ یہ اربوں ڈالر جو سستی روٹی سکیم کے نام پر تندور میں جھونکے گئے ہیں اورجن کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر بندر بانٹ کی گئی ہے ان سے بے شمار صنعتیں لگ سکتی تھیں، جن سے غریب عوام کی روٹٰی کا پکا پکا انتظام ہو جاتا، کشکول ٹوٹ جاتا۔ مگر آپ توروٹی کھلا کھلا کرایک بھکاری قوم کی نشونما کر رہے ہیں۔ کب تک اس طرح روٹی کھلائیں گے اور انکم کو سپورٹ کریں گے؟ اس کو کہتے ہیںsustainability؟ خدارا روٹی کمانے کے منصوبے دیجیے نا کہ روٹی کھانے کے۔ جس ملک میں 35سیٹوں پر پا انچ ہزار درخواستیں آتی ہوں اور وہ بھی NTSجیسے ”خون نچوڑ“ ادارے کے ذریعے (اس پر کسی دن الگ سے لکھوں گی انشاللہ)وہاں اورنج لائن نہیں ”گرین کھیت“ اور ”سنہری صنعت“ جیسے منصوبے دیے جاتے ہیں۔ جس ملک میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہو اور کھیت پانی کو ترستے ہوں وہاں پہلے میٹرو بس نہیں چلائی جاتی بلکہ نہریں، ڈیم اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے دیے جاتے ہیں۔
جس ملک کوغذا مہیا کرنے والا کسان حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے کسی آڑھتی سےدہری تہری قیمتوں پر ادھار کا تیل کھاد خریدتا ہواور سال کے آخر پر اپنے خون پسینے کی کمائی اس ادھار کو تارنے کے لئے اس آڑھتی کے ہاں پھینک آنے کے باوجود مقروض ہو کر گھر لوٹ جاتا ہو اس ملک میں کسان پیکج کے نام پر بھیک دے کر اس کو ذلیل نہیں کیا جاتا بلکہ وہاں تیل، کھاد اور زرعی ادویات سستی جبکہ اجناس کی قیمت بڑھائی جاتی ہے۔ اور وہاں پاسکو کے گوداموں مین زرعی اجناس گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ کر باہر سے پیاز، ٹماٹر اور گندم نہیں منگوائی جاتی بلکہ وہاں اپنی زرعی پیداوار کی برآمد کے لئے نئی نئی منڈیاں تلاش کی جاتی ہیں نہ کہ ادھار کے پیسوں سے ترکی اور چائینا سے آئے روز ”بسیں اور مستری“ منگوا کر ”رنگ برنگی“ ٹرینیں اور بسیں چلائی جاتی ہیں۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ پیٹ درد کا علاج سر درد کی گولی سے کیا جا رہا ہے۔ یہاں لوگ مر رہے ہیں۔ بھوک سے، پیاس سے، غربت سے، گرمی سے۔ اور جو بچ جاتے ہیں ان کو ”دہشت گرد“ یا پھر ”دہشت“ مار دیتی ہے۔ اور ایسے میں ان کی لاشوں کے اوپر تخت لاہور یا پھر تخت اسلام آباد سجانا ظلم ہے۔ کوئی پوچھے ان ارباب اختیار سے کہ دیہاتوں میں کتنے ترقیاتی منصوبے دیے؟ چھوٹے شہروں کو کیا دیا؟ وہ 70 فیصد لوگ جن کا تعلق دیہات اور زراعت سے ہے ان کی فلاح کے لئے کیا کیا حکومت نے؟ یا پھر ان کو صرف ووٹ دینے اور اناج اگانے کے لئے رکھا ہوا ہے؟ کوئی ہوچھے ان سے کہ جناب سڑکیں تو بہت بنا ڈالیں مگر ان پر اب لاشیں ڈھوئیں یا ٹائر جلائیں؟
یہ کیسا ملک ہے جہاٰں تیل، کھاد، زرعی ادویات اور ٹھیکا بڑھتا ہے اور زرعی اجناس کی قیمت ہر سال نیچے آتی ہے؟ یہ کیسے لوگ ہیں جو بجٹ بناتے ہوئے مہنگائی اور ٹیکس میں 300فیصد اضافہ کر کے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ دیتے ہیں؟ جناب باقی کا 290فیصد پورا کرنے کے لئے کسی شوگر مل یا پھر لوہے کے کارخانے میں ڈاکہ ڈالیں؟ یہ کیسا ملک ہے جہاں گھر اور دکانیں گرا کر سڑکیں بنائی جاتی ہیں؟ جہاں تاریخی اور ثقافتی ورثہ جات تباہ کر کے ان پر پل بنائے جاتے ہیں۔ کوئی ان کو بتائے کہ سڑکیں اور پل بنانے کے لئے مغل پیدا ہوتے رہیں گے مگر شاہی قلعہ، چوبرجی اور شالامار باغ وغیرہ تعمیر کرنے کے لئے اکبر، جانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب نہیں آئیں گے۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پر پارک بنا دیے جاتے ہیں۔ ؟ جہاں ہر خالی آسامی کا ٹھیکہ NTS جیسے ادراوں کو دے کر اس پر ہزاروں بے روزگار اور غریب نوجوانوں سے درخواستیں وصول کر کے اربوں روپے ہتھیائے جاتے ہیں، ان سے ٹیسٹ لے کر اور ان کو میدانوں میں ننگے پاؤں دوڑا کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کر کے ان کی غربت کا تماشا لگایا جاتا ہے اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ آسامی تو صرف ایک تھی اور وہ بھی پہلے سے ”فروخت شد!“
اور یہ کس طرح کا ملک ہے کہ جس کے حکمران بائی پاس، شوگراور بلڈ پریشر تک چیک کروانے کے لئے لندن جاتے ہیں اور واپس آکر بے شرمی و ڈھٹائی کے سارے ریکارڈ توڑٹے ہوئے سڑکوں اور رکشوں میں بچے جننے والی ننگ دھڑنگ قوم کے سامنے اپنے ”ترقیاتی کاموں“ کو انگلیوں پر گنتے ہوئے ان سے اگلے پانچ سال کے لئے ووٹ مانگتے ہیں اور یہ لوگ ان کو پھر خالی نہیں لوٹاتے؟ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ا ایسے ملک کے حکمرانوں کو درندہ کہا جائے یا پھر عوام کوجانور؟ ایسے ملک کے حکمران کسی بدیسی ہسپتال میں اپنا علاج کرواتے ہوئے وہیں پر شرم سے مر کیوں نہیں جاتے؟ کیا پیغام دیتے ہیں یہ لوگ دنیا کو کہ ہم ایک ایسے ملک کے حکمران ہیں جہاں ”بائی پاس“ اور ”بلڈ پریشر“ کا علاج میسر نہیں ہے؟
جس ملک کا بیشتر بجٹ دو شہروں میں سڑکیں اور پل بنانے پر خرچ ہوجاتا ہو اس ملک کے حکمران یہ دعوی کیسے کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے سارا ملک اور اس ملک کے سارے صوبے اور ان سارے صوبوں کے سارے شہر شہر اور ان شہروں کےسارے باشندے برابر ہیں؟ اس ملک میں معاشرتی مساوات و عدل و انصاف کے کیسے پروان چڑھایا جا سکتا ہے؟ کیسے نکال سکتے ہیں اس ملک کے لوگوں کے دل سے احساس محرومی و کمتری کو؟ ایسے میں کیسے روک سکتے ہیں اپ صوبہ پرستی، شہر پرستی طبقہ پرستی اور ذات پرستی کو؟
اس ملک کے حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ ان سے پہلے بھی حکمران گزرے ہیں جن کو بڑی بڑی عمارتیں، محلات، باغات، پل اور سڑکیں بنانے کا شوق تھا۔ جو یہ بھول گئے تھے کہ ترجیحی منصوبے یا بنیادی ضروریات پر مبنی منصوبے چھوڑ کر ثانوی اور اضافے منصوبے دینے کا انجام کیا ہو تا ہے۔ پھر ان کا جوانجام ہوا وہ یا تو تاریخ بتاتی ہے یا پھر ان کی بنائی ہوئی سڑکیں، باغات اور محلات۔
ان کو یاد رکھنا چاہیے تاریخ کا وہ دور جب ڈھاکہ سے آنے والے نوجوان اسلام آباد کی سڑکوں پر مشرقی پاکستان میں اگنے والی پٹ سن کی خوشبو سونگھا کرتے تھے۔ پھر جو ہوا سب نے دیکھا۔ اور اب بھی وہ وقت دور نہیں ہے کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی سڑکوں سے پنجاب اور سندھ کی گندم، چاول اور دیگر فصلوں جبکہ بلوچستان کی گیس اور خیبر پختونخواہ کی بجلی کی بو آنا شروع ہو جائے گی۔
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو!
پاکستان زندہ باد!


