سیاست دانوں کی گھٹیا گفتاری کے مزید نمونے


خان عبدالولی خان نے ایک دفعہ بینظیر بھٹو کے بارے میں کہا کہ جس طرح انھوں نے باپ کو (یعنی بھٹو)’’کیفر کردار‘‘تک پہنچایاہے اسی طرح اب وہ اس ’’چھوکری ‘‘کو بھی انجام تک پہنچائیں گے۔‘‘ ایک دفعہ اکبر بگٹی نے بینظیر کے لیے کوئی مقامی زبان کا نہایت خراب لفظ کہا تھا جو ایک اخبار نے شایع کر دیا تو پی پی کے کارکنوں نے اس اخبارکے دفتر کا گھیراؤ کر لیا۔

بینظیر بھٹو نے ایک دفعہ ایم کیو ایم پر اپنی تقریر میں تنقید کی تو ان پر الزام لگا کہ انھوں نے مہاجروں کو دہشت گرد اور بزدل چوہا قرار دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے بیان دیا کہ وزیر اعظم نے ’’مہاجروں کے خلاف‘‘ جو پست زبان استعمال کی ہے، اس کے جواب میں وہ بھی بینظیر بھٹو کو ’’بزدل چوہیا ‘‘اور ’’شیطان کی خالہ ‘‘کہہ سکتے ہیں لیکن ’’مہاجر جس اعلیٰ تہذیب اور جن مثبت روایات کے علمبردار ہیں وہ ہمیں اجازت نہیں دیتیں کہ مخالفت کی بنیاد پر کسی کی منفی صفات کو منظر عام پر لایا جائے۔ ‘‘مگر دوسری طرف اسی بیان میں ’’اعلیٰ تہذیب ‘‘کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وزیراعظم اگر کراچی سے الیکشن لڑنا چاہیں تو ایم کیوایم وہاں سے کسی کتے کو نامزد کر سکتی ہے جو وزیر اعظم کو ہرا دے گا۔‘‘

1990 ء کی انتخابی مہم کے دوران رضیہ بھٹی کی ادارت میں’’نیوز لائن‘‘ کے ایک مضمون پر الطاف حسین اس قدر بگڑے کہ جلسے میں جریدے کی ٹیم کے بارے میں ناقابل اشاعت گفتگو کی۔ الطاف حسین کا صحافیوں کو ٹھوک دینے والا بیان تو ہم سب کو یاد ہے۔ بانی ایم کیو ایم نے عمران خان کے بارے میں بڑی گندی زبان استعمال کی۔ ایک تقریر میں سکیورٹی اداروں پر ان کی تنقید بھی اخلاق کے دائرے سے باہر نکل گئی تھی۔

دسمبر 2010 میں چودھری نثار علی خان نے جب ایم کیوایم کے قائد کے بارے میں کہا کہ ’’وہ جب بولتے ہیں تو اکثر ہوش میں نہیں ہوتے۔ ہم ذاتیات پر نہیں جانا چاہتے، مگر ’’حضرت ‘‘ اسی زبان میں بات کرتے رہے تو ہمیں ان کے کردار کے حوالے سے ان کی سابق اہلیہ کا بیان ریکارڈ پرلانا پڑے گا۔‘‘ اس بیان پرایم کیوایم کے رہنماؤں کو تتیے لگ گئے۔ حیدر عباس رضوی بولے کہ ہمیں معلوم ہے کس کی بہن، بیٹی کی شادی کیسے ہوئی۔ وسیم اختربھی آپے سے باہرہوگئے اور کہا کہ پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں، یہ بھی بتایا کہ نواز لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو شہباز شریف کے کمروں سے غیر اخلاقی چیزیں برآمد ہوئی تھیں۔

مہاجروں کے بارے میں اے این پی کے شاہی سید نے چند سال پہلے فرمایا ’ہندوستان میں جوتے کھا نے والے جب وہاں نہ بچ سکے تو یہاں پناہ لینے آگئے، یہ پناہ گزین ہیں، اور پناہ گزین اگر کسی کو کہے کہ اسے یہاں نہیں رہنے دیں گے، تو اس کے منہ پہ چماٹ مارو یا اسے پاگل خانے بھیجو۔‘ اسی طرح ذوالفقارمرزا نے 2011ء میں مہاجر صوبے کے قیام کی بات پر ردعمل دیا کہ یہ صوبہ اس وقت بھی تھا جب تم بھوکے ننگے آئے تھے اور اس صوبے والوں نے تمہیں پناہ دی۔‘‘عمران خان نے ایم کیوایم کے قائد کا خطاب سننے والوں کو زندہ لاش قراردیا تو قادربلوچ نے فرمایا تھا کہ ان کی تقریر کے دوران شرکا جانور کی طرح بیٹھے زمین کھرچ رہے ہوتے ہیں۔

کئی سیاستدانوں کی شہرت متانت سے عبارت ہوتی ہے لیکن بعضے حالات میں وہ خود پرقابو نہیں رکھ پاتے۔ مولانا مودودی شائستہ کلام تھے لیکن ایک دفعہ مولانا مودودی نے بھی مخالفین کی زبان گدی سے کھینچ لینے کی بات کردی تھی۔ 70 ء کے الیکشن نے لہجوں میں بگاڑ پیدا کردیا۔ نظریاتی یُدھ نے بھی اس تناتنی میں اضافہ کیا۔ رضا علی عابدی نے ’’اخبار کی راتیں‘‘میں لکھا ہے:

’’اس زمانہ میں سیاست دانوں کا لہجہ تلپٹ ہورہا تھا۔ مجھے یاد ہے، جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی نے اپنی تقریر میں کچھ اس طرح کا جملہ ادا کیا جس کا مطلب تھا کہ ہم ملک وملت کے خلاف باتیں کرنے والوں کی زبانیں بند کر دیں گے۔

ذرا دیر بعد یہ خبر انگریزی میں میرے ہاتھ میں آئی۔ اب میں الجھن میں پڑ گیا۔ کسی کا منہ بند کرنے کا مطلب اسے رشوت کھلانا اور زبان بند کردینے کا سیدھا سادا مطلب اسے جان سے مار ڈالنا ہوتا ہے،اس کے بجائے میں نے اس کا جو ترجمہ کیا اس کی حریت میں سرخی لگی ’’ملک وملت کے خلاف باتیں کرنے والوں کی زبانیں کھینچ لی جائیں گی۔ ‘‘

رضا علی عابدی مزید لکھتے ہیں

’’ بھٹو کا ایک فقرہ نامہ نگاروں نے ازراہ ہمدردی مہذب بنا دیا مگر مجھے ہمارے رپورٹر ثناء اللہ نے خود بتایا کہ مارچ سنہ 71ء میں ملک کی نئی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں طلب کیا گیا اور مغربی پاکستان سے اسمبلی کے نو منتخب ارکان کو وہاں لے جانے کیلئے ہوائی جہاز تیار کھڑا تھا۔ بھٹو صاحب نے ملک کی قومی اسمبلی میں شرکت کے لیے نہ صرف خود جانے سے انکار کر دیا بلکہ جو کچھ کہا اس کا مطلب یہ تھا کہ جوکوئی اس طیارے میں سوار ہوگا ہم اس کے لباس کا نچلا حصہ اتارلیں گے، گویا… نامہ نگاروں نے کہا کہ یہ بات طیش کے عالم میں کہی گئی ہے،اسے ذرا ملائم کر دیا جائے۔ چنانچہ خبر یوں لکھی گئی کہ جوکوئی اس طیارے میں سوار ہونے کی کوشش کرے گا، ہم اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ ‘‘

جاوید ہاشمی بھی مہذب سیاست دان ہیں، لیکن مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ کرتحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی تو لاہورمیں ایک تقریب میں ان کی زبان بھی پھسل گئی اور انھوں نے لفظ سالا کو خاص مفہوم میں برتا۔ لاہور کے ایک ضمنی انتخاب میں پرویز رشید بھی اپنی روایتی احتیاط پسندی کو ترک کر کے عمران خان کی ذاتیات پرکیچڑ اچھال رہے تھے۔ اس پر ممتاز دانشور وجاہت مسعود نے ان کی آمریت کے خلاف بے مثال جدوجہد کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’’انھیں حریف سیاستدان پرذاتی حملے کرنا زیب نہیں دیتا۔‘‘

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ بھی غیر شائستہ زبان برتنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ پرویزمشرف کے دورمیں فوج سے متعلق ایسا کچھ کہہ بیٹھے تھے کہ پھر ایجنسیوں کے ہاتھوں ان کی خوب ٹھکائی ہوئی۔ اور ان کی مونچھیں اور بھنویں تک مونڈ دی گئی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن عام طور پر محتاط گفتگو کرتے ہیں،لیکن عمران خان کے بارے میں سخت کلامی کرتے ہیں، ان کو یہودیوں کا ایجنٹ کہناتو ان کے لیے عام سی بات ہے،جس پرتحریک انصاف کے چیئرمین کہتے ہیں کہ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو کسی ایجنٹ کی کیا ضرورت ہے۔ وہ جلسوں میں فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل بھی کہتے ہیں۔عمران خان نے شیخ رشید کو کسی زمانے میں بے شرم اور شیدا ٹلی قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ ایسے شخص کواپنا چپڑاسی بھی نہ رکھیں۔اور اس بات پرعمل کر کے دکھایا۔ انھیں چپڑاسی تو نہیں، لیکن اپنا مشیر ضرور بنا لیا ہے، اور جس طرح آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے، اپنے مشیروں سے بھی جانا جاتا ہے۔

2009ء میں سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹی وی پروگرام میں کشمالہ طارق کو مخاطب کرکے کہا تھا ’’میں تمہاری طرح کسی کے بیڈروم کے ذریعے اسمبلی میں نہیں آئی تھی۔‘‘1988ء میں غلام مصطفی کھر نے کہا کہ نواز شریف کینسر ہے۔ شہبازشریف کی زبان بھی قابو سے باہر ہوتی رہتی ہے،خاص طور سے، ان کے وہ بیان جن میں آصف علی زرداری کو سڑکوں پرگھسیٹنے اور الٹا لٹکا دینے کی بات کی گئی تھی۔ زرداری کو وہ زر بابا اور مداری بھی کہتے رہے۔ بلاول بھٹو کا زوربیان بھی سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے میں صرف ہوتا ہے۔

موجودہ قومی رہنماؤں میں عمران خان کی زبان کو سب سے زیادہ قابل اعتراض اور غیرذمہ دارانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے اکا دکا فرمودات جن میں شلوار کا ذکر ہے، نقل بھی نہیں کئے جا سکتے۔ دھرنے کے دوران انھوں نے کہا کہ میرا دل کرتا ہے نوازشریف کو گربیان سے پکڑ کروزیراعظم ہاؤس سے باہر نکال دوں۔ انتخابی مہم کے دوران بلا ہاتھ میں پکڑ کر کہتے رہے میاں صاحب! یہ بلا پھینٹی بھی لگاتا ہے۔ یکم مئی 2016ء کو جلسۂ عام میں کہا کہ ’’ ٹاک شو میں خواجہ آصف نیب کے چیئرمین جنرل منیر حفیظ کے سامنے بیٹھا ایسے لگ رہا تھا جیسے پینٹ کوٹ میں چوہا بیٹھا ہو۔‘‘ خیر، خواجہ آصف بھی اپنا حساب فوراً برابر کر لیتے ہیں۔ دھرنوں کے بعد قومی اسمبلی میں عمران خان کی آمد پر کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ ایک دفعہ تو اسمبلی میں عمران خان کو’’میسنا ‘‘کہہ ڈالا۔

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نوازشریف خود چپ رہتے ہیں اور پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت مخالفین کی گوشمالی کرتی ہے۔ تحریک انصاف میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، عارف علوی اور شفقت محمود خود معقول انداز اختیار کرتے ہیں اور حریفوں پر گرجنے برسنے کا کام عمران خان پر چھوڑ رکھا ہے۔ نوازشریف نے زبان پر قابو پانا سیکھ لیا ہے، اور سیاسی حریفوں کے بارے میں کوئی ہلکی بات نہیں کرتے۔ پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لہجے میں تلخی آجاتی ہے مگر پرویز مشرف کے بارے میں کوئی گری بات ان کے منہ سے سنی نہیں گئی۔

سیاستدانوں کو ہمیشہ گفتار کے اسلوب پر قابو رکھنا چاہیے، اس سے ان کی عزت اور نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔

Facebook Comments HS