ابراہم لنکن کے دیس میں اسلام کی شکل

لیکن جب ہم مسلمان ممالک سے ہٹ کر اس دنیا کی بات کریں جہاں دین اسلام اقلیت میں ہو یا وہ ممالک جو مسلمان ممالک سرے سے ہی نہیں وہاں رہنے والے مسلمان اور ان کی طرز زندگی کی فکر ایک اہم موضوع ضرور ہوسکتا ہے۔ خا ص کر وہ ترقی یافتہ ممالک جو نہ صرف سپر پاور ہیں بلکہ ان کی کامیابی کی دھاک پوری دنیا پر قائم ہے۔ وہ زمین برطانیہ کی ہو یا چین کی، روس ہو یا بر اعظم آسٹریلیا یا پھر وہ امریکہ جس کے فرمان کو دنیا کے پاس تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں وہاں اسلام کی شکل کیسی ہے یہ سنا تو بہت لوگوں سے جاتا ہے پر دیکھنے کو کم ہی ملتا ہے۔ ویسے بھی ہم سنی سنائی باتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں بلکہ اسے کل سچائی مان کر اس کو ذہن نشین بھی کر لیتے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چائیے کہ ہم تحقیق کریں، مشاہدہ کریں اور پھر ہی اس کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کر کے کوئی ٹھوس دلیل پیش کر یں۔
میں نے بھی مختلف علما اور لوگوں سے یہ سنا کہ وہ اس فکر میں ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمان نہ صرف مسائل کا شکار ہیں بلکہ ایک کمتر زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ ان کے مذہب کو بھی شدید خطرہ ہے لیکن فکر معاش اور اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر وہ چند ڈالر اور پاونڈ کمانے پر مجبور ہیں۔ یہ واقعی ایک تشویش کی بات ہے لیکن اس کا حل کیا ہے؟ اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے یہ جواب ملنا مشکل تھا۔
ہم برسوں سے سنتے آرہے تھے لیکن پھر ہمیں یہ دیکھنے کا ایک موقع میسر آیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے تحت پاکستان میں کام کر نے والے اردو صحافیوں کو ایک فیلو شپ میں جانے کا موقع دیا گیا جس کا مقصد صحافت کے مسائل اس کی حساسیت اور اس میں استعمالکیے جانے والی نئی ٹیکنالوجی سے پاکستانی صحافیوں کو متعارف کروانا تھا اس ضمن میں کئی دورے رکھے گئے، کئی شخصیات، صحافیوں، تھنک ٹینکس، اور پروفیسروں سے ملاقات بھی کروائی گئی لیکن شام کے بعد ہم سب تمام تر پابندی سے آزاد ہوتے تھے۔ بحیثیت صحافی میرے لئے وہ سوال اور مسلم امہ کے لئے دل میں اٹھنے والی کسک مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی۔ میں نے جن جگہوں پر قیام کیا وہاں میں نے مسلم کمیونٹی سے ملنے اور ان کی طرز زندگی کے حوالے سے جاننے کی کھوج شروع کی۔
امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئس میں ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم مسیحی اور یہودیوں کی عبادت گاہو ں میں جائیں ان سے ملیں اور یہ جانیں کہ امریکہ میں یہ تمام مذاہب کس طرح سے رہ رہے ہیں۔ ملاقات دلچسپ رہی ان عبادت گاہوں میں ملنے والے پادری ہوں یا ربائی سب کے حسن سلوک نے بہت متاثر کیا لیکن مسلمان کمیونٹی کہاں ہے کس حال میں ہے یہ فکر باقی تھی۔ سینٹ لوئس میں ہی ہمارے ایک صحافی دوست کے توسط سے ایک عشائیہ کی دعوت ملی۔ دعوت کی شرط تھی کہ مرد صحافیوں کو عشا کی نماز باجماعت پڑھنی ہوگی اور خواتین کو مغربی لباس پہننے سے گریز کرنا ہوگا ہم نے شرائط بخوشی تسلیم کیں۔ یہ دعوت وہاں کی جامعہ مسجد کے مفتی عمر کی جانب سے تھی جن کا تعلق یوں تو کراچی سے تھا لیکن پشاور ان کے والدین کا آبائی شہر تھا۔ ایک ایسا ملک جو ماڈرن بھی ہو اور جدت پسند بھی وہاں ایک جوان خوش شکل مولانا جو سر پر ٹوپی رکھے ہو، جن کی داڑھی بھی ہو اور ٹخنے سے اونچی شلوار بھی ان کا نظر آنا حیران کن تو نہیں تھا لیکن یہ ضرور محسوس ہوا کہ جو ہمیں لگا ہے کیا انھیں بھی ایسا اس ملک میں محسوس ہوتا ہوگا۔ یقیناً میرا مطلب امریکی معاشرے میں ” مس فٹ“ سے ہی ہے۔
مفتی عمر اپنے بھائی کے ہمراہ ہم گیارہ صحافیوں کو لینے ہوٹل آئے جن میں پانچ مرد اور چھ خواتین صحافی شامل تھیں۔ ہم جب ان کے گھر گئے تو ان کے گھر کی خواتین نے ہمارا شاندار استقبال کیا اور پر تکلف عشائیہ دیا اس دوران سامنے کی جامعہ مسجد جس میں مفتی عمر اور ان کے بھائی مرد صحافیوں کو عشاء کی نماز پڑھوانے لے گئے۔ اس گھرانے کی ایک خاتون جن کی عمر تیس برس ہوگی جامعہ مسجد میں قائم مدرسے میں صبح سے شام تک بچیوں کو قرآن کی تعلیم دیتی ہیں۔
ان کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ اس گھر انے کے علاوہ مسجد کے اطراف باقی گھر بھی مسلمانوں کے ہیں۔ جن میں پاکستانی، بھارتی، بنگالی، یمنی، عراقی، سوڈانی اور ملائشین فیملیز آباد ہیں جبکہ ایک گھر ایک عیسائی خاتون کا ہے جن سے تمام مسلمانوں کی درخواست ہے کہ مستقبل میں جب بھی وہ گھر بیچنے کا ارادہ کریں تو انھیں یاد رکھیں لیکن وہ عیسائی خاتون اتنے سارے مسلمانوں کے درمیان رہنے میں خوش ہیں۔ یہ علاقہ سینٹ لوئس کے جنوب میں ہے اور اچھے علاقوں میں نہ صرف شمار ہوتا ہے بلکہ پر امن اور مستحکم بھی سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کے بالکل عین مقابل ایک کمیونٹی اسکول بھی ہے جو مسلمان کمیونٹی کے لئے بنایا گیا ہے جو بارہویں جماعت تک ہے اور ایک بچے کی فیس چار سو ڈالر مقرر ہے جو کہ یقیناًبہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ وہ گھرانے جو امریکہ میں میسر مفت تعلیم مہیا کرنے والی پبلک اسکولوں سے مطمئن نہیں وہ اس مہنگے اسکول میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ اس اسکول میں اس وقت چھ سو سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جنھیں تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھا جاتا ہے۔
رات کو جب ہم ہوٹل واپس جانے لگے تو مفتی صاحب سے میں نے کافی سوالات کیے جس کے سبب بہت سے ابہام دور ہوئے بلکہ گرہیں کھلنا شروع ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں طب کا شعبہ سب سے مہنگا شعبہ ہے اور سینٹ لوئس کے سب سے مہنگے اور بڑے اسپتال میں کئی پاکستانی اور مسلم ڈاکٹرز اس وقت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ڈاکٹرز نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ امراء طبقے میں شمار ہوتے ہیں ان کی جانب سے مسلم کمیونٹی کو چندے اور امداد کی مد میں خطیر رقم ملتی ہے یہ ڈاکٹرز اپنا نام بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ میرے اس سوال پر کہ ملنے والی خطیر رقم کو کن کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب مجھے یوں ملا کہ ان دنوں شامی مہاجرین کی بحالی کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور اب روہنگیا کے مسلمانوں کا حال بھی بہت ابتر ہے۔ روہنگیا کے مسلمانوں کی امداد ان تک پہنچائی جارہی ہے جبکہ وہ شامی خاندان جو جیسے تیسے کر کے امریکہ کی زمین پر قدم رکھ چکے ہیں ان کی بحالی کا کام مسلم کمیونٹی نے اپنے سر لے رکھا ہے۔ اس خطیر رقم سے نہ صرف کچھ فلیٹس اور گھر کرائے پر لئے گئے ہیں بلکہ ان میں ان متاثرین خاندانوں کو بسایا گیا ہے ان کی کفالت کی ذمہ داری اس وقت تک اٹھائی جائے گی جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہوجاتے۔ اس رقم سے نہ صرف مزید مساجد قائم کی جارہی ہیں بلکہ ان لوگوں کی مدد بھی کی جارہی ہے جو سفید پوش ہیں لیکن اس کے لئے مسلمان ہونا کوئی شرط نہیں۔
مفتی عمر کا گھر اور طرز زندگی سادہ ہے لیکن ان کا گھر اور زیر استعمال قیمتی گاڑیاں یہ بتاتی ہے کہ وہ خوشحال ہیں اور امریکہ میں خود کو محفوظ اور مستحکم سمجھتے ہیں۔ سینٹ لوئس سے واشنگٹن روانگی سے قبل جمعے کے روز ہماری اسی جامعہ مسجد میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک ملاقات اور دورے کا اہتمام رکھا گیا۔ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ ہم چند روز قبل اسی مقام پر آ چکے ہیں اور سیر حاصل گفتگو بھی کر چکے ہیں۔ اس بار جب ملاقات ہوئی تو کئی اور نئے لوگوں سے ملنے اور انھیں جاننے کا موقع میسر آیا۔
صحافت کا اصول ہے کہ ایک سے زیادہ لوگوں کی بات کہانی کو جامع اور متوازن بناتی ہے۔ اب جس شخص سے ہماری ملاقات ہوئی وہ مفتی عمر نہیں بلکہ کوئی اور تھے۔ جو ستر کی دہائی میں ہی امریکہ آ بسے تھے۔ کراچی کی میمن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے محترم حنیف صاحب کئی برس آڈیٹر کی حیثیت سے امریکہ میں اپنی خدمات ادا کر کے ریٹائر ہو چکے تھے اور اب دین کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے وہ اس وقت مسجد کی شوری ممبر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ سینٹ لوئس کی اس بڑی جامع مسجد جس کا نام اسلامک فاونڈیشن آف گریٹر سینٹ لوئس ہے اس کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی لیکن تگ ودو 1974 سے کی جارہی تھی۔ اس مسجد و مدرسے کے لئے زمین کے حصول اس کی تعمیر اور پھر اس کو کس مصرف میں لانا ہے ان سب کو دیکھنے اور سال میں دو بار ایف بی آئی سے ملاقاتوں کا ذمہ حنیف صاحب کے کاندھوں پر ہے۔
حنیف صاحب کے مطابق یوں تو مسجد میں ہزاروں نمازیوں کی گنجائش ہے لیکن اس کے باوجود رش کے سبب یہاں جمعے کے دو خطبے رکھے جاتے ہیں پارکنگ میں گاڑیوں کی جگہ کم پڑ جائے تو نزدیکی چرچ کی انتظامیہ کی جانب سے پارکنگ فراہم کردی جاتی ہے۔ ان ہی کے ہم مزاج اور ہم عمر محترم باسط بھی کراچی سے سینٹ لوئس کئی دہائیوں قبل آ بسے تھے۔ باسط صاحب کے بچے امریکہ میں پیدا ہوئے یہی تعلیم حا صل کی اور مہنگی تعلیم کے باوجود ڈاکٹر بھی بنے۔ باسط صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ القرآن بھی ہیں اور انھوں نے ایک اہل کتاب خاتون کو مسلمان کر کے شادی کی اور بتایا کہ دنیا بھر میں اسلام کے خلاف کوئی بھی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ انھیں فخر ہے کہ وہ امریکی مسلمان ہیں اور انھیں وہ تمام حقوق اور سہولیات میسر ہیں جو ایک امریکی کو میسر ہیں۔ فرق مذہب کا ہے لیکن امریکہ اس فرق کے سبب کسی کی بھی حق تلفی نہیں کرتا تاہم ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے ایک مخصوص گروہ نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے کی کوشش کی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور یقین دہانیوں کے سبب انھیں ایسے لوگوں سے نہ تو خوف محسوس ہوا نہ ہی کوئی مشکل کیونکہ وہ بھی اس ملک کے شہری ہیں۔
امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر نورمن کی ایک جامعہ مسجد میں جمعے کا خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کے مرکزی گیٹ پر کوئی اسلحہ بردار گارڈ یا پولیس والا موجود نہ تھا واضح رہے کہ اس ریاست کا سب سے بڑا ووٹ بینک ٹرمپ کو ملا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ لگی کہ امریکہ میں قائم مساجد میں خواتین بھی اہتمام سے نماز پڑھنے آتی ہیں جن کے لئے خصوصی جگہ رکھی گئی ہے یہ خواتین اپنے ہمراہ بچوں کو بھی لاتی ہیں تاکہ وہ بھی ماں کے ساتھ نماز پڑھنا سیکھ سکیں۔ میں نے جب نماز ظہر کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو مجھے اشارتاً ایک اجنبی خاتون جن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کی جانب سے کہا گیا کہ میرے لئے دعا کرنا۔ وہ خاتون مجھ سے پہلے نماز ادا کر چکی تھیں۔ دعا سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو میں نے وہ منظر دیکھا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
ہال میں کوئی دس سے زائد خواتین تھیں جبکہ دیگر اندر ایک کمرے میں بڑی تعداد میں موجود تھیں جہاں درس ہورہا تھا۔ سب کا ایک دوسرے سے نماز ادا کرنے اور دعا کرنے کا انداز جدا تھا سب نے نماز کے بعد ایک دوسرے سے بات چیت کی اور اپنی اپنی راہ لی۔ باہر نکل کر میں نے اپنے ایک ساتھی صحافی سے سوال کیا کہ آپ نے مردوں کے ساتھ نماز ادا کی کیا محسوس ہوا اس مسجد میں؟ جواب ملا ہر رنگ، ہر زبان، ہر خطے کا بندہ صف میں کھڑاتھا سب نے توجہ سے خطبہ سنا اپنے اپنے انداز سے نماز ادا کی۔ امام سے ہاتھ ملایا ایک دوسرے سے گلے ملے اور باہر آگئے۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ کو پڑھ کر اس نے کہا سدرہ جو آپ نے محسوس کیا وہ ہی میں نے بھی کیا مجھے اپنے ملک کو یاد کر کے اس وقت اقبال کا وہ شعر یاد آیا۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانیں میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
سینٹ لوئس کے معروف و مقبول اخبار سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ میں واحد مسلم کالم نویس عائشہ سلطان ایک قابل اور معزز امریکی شہری ہیں۔ جو حکومت کی پالیسیوں پر بلا خوف و خطر نہ صرف تنقید کرتی ہیں بلکہ اس پر اپنے قلم کو بھی خوب استعمال کرتی ہیں ان کے شوہر ڈاکٹر ہیں اور وہ لاہور سے بچپن میں ہی اپنے والدین کے ہمراہ امریکہ آ بسی تھیں یہ ہی ان کا ملک ہے۔ واشنگٹن میں ڈاکٹر علی سے میری ملاقات ایک مقامی ریستوران میں ہوئی جو میرے پاکستانی لباس کے سبب مجھ سے مخاطب ہوئے اور انھیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرا تعلق ان کے ملک اور ان کے شہر سے ہے آج سے پچیس برس قبل وہ اس ملک میں آبسے، بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ وسیم بنگش بھی پاکستان سے ہیں سترہ برس قبل جب امریکہ آئے تو ہر چھوٹی ملازمت کی اور پھر شب و روز کی محنت کے بعد آج اپنی لیموزین گاڑیوں کا بزنس کرتے ہیں خاندان امریکہ سیٹل ہوچکا ہے سال میں دو سے تین بار اپنے وطن کا چکر ایسے لگتا ہے کہ ائیر لائن اور امیگریشن والے بھی اب انھیں پہچاننے لگے ہیں۔ وہ امریکہ کو ایک بہترین اور انصاف پسند ملک قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھیں کبھی بھی مسلمان اور پاکستانی ہونے کے سبب پیچھے نہیں رکھا گیا۔
امریکہ کے سب سے معتبر اور دنیا بھر میں دو کروڑ سامعین و ناظرین کے پسند کیے جانے والے نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ میں کام کرنے والے خیبر پختونخواہ کے کئی صحافی نہ صرف اہم مناصب پر براجمان ہیں بلکہ امریکی مسلمان ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور اس بات کے خواہشمند ہیں کہ پاکستان میں بھی صحافت کے بندھے ہاتھ پاوں کبھی نہ کبھی ضرور آزاد ہوں گے۔ پاکستان کے ریاستی نشریاتی ادارے پی ٹی وی سے تعلق رکھنے والے نیوز کاسٹر خالد حمید کو کون بھول سکتا ہے جو ہمارے ملک کا فخر بھی ہیں اور سرمایہ بھی۔ جن کی آواز، دھیما لہجہ، اور انداز آج بھی خبریں پڑھنے والوں کے لئے رول ماڈل ہے ان دنوں وائس آف امریکہ میں اپنی ذمہ داریا ں سر انجام دے رہے ہیں۔ اس ملک کے نظام، انصاف اور طرز زندگی سے یہ شخصیت بھی مطمئن اور آسودہ نظر آتی ہے۔
ان ہی کی طرح کوئی اسلام آباد سے تو کوئی لاہور سے کوئی ریڈیو پاکستان سے تو کوئی کسی اخبار سے اس ادارے میں کام کرتا دکھائی دیا۔ سب کی زبان پر اس ملک میں ملنے والی عزت اور آسودگی کے لئے خدا کا شکر ہی سنا۔ ایک ماہ کی اس مختصر دورے میں میری کھوج تمام نہیں ہوئی تاہم کئی راز آشکا ر ضرور ہوتے گئے۔ ایک بات ضرور سمجھ آئی کہ دوسرے کے گھر کی فکر کرنے سے قبل اگر اپنے گھر کی حالت بہتر کی جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ پرائے گھر کو روشن کرنے کے لئے دیے اور تیل کی تلاش کی فکر سے قبل اپنے گھر کی ویرانی کو ختم کرنا کیا ہی بہتر ہو۔ واشنگٹن سے ابو ظہبی کی طویل فلائیٹ کے اڑان بھرنے سے قبل جب معمول کی اناونسمنٹ ہوئی کہ خواتین و حضرات جہاز میں کسی بھی لمحے آکسیجن کم ہونے کی صورت میں آکسیجن ماسک آپ کے سامنے خود بخود گر جائیں گے لیکن دوسروں کی مدد سے پہلے اپنا آکسیجن ماسک لگانا ہر گز نہ بھولئے۔ اس بار اس رسمی اناونسمنٹ پر میں مسکرائے بنا نہ رہ سکی۔

