شاہ صدر دین کی ننگی قندیل بلوچ سے مٹ گرہ کی ننگی شریفاں تک (1)
اگر آپ یہ کالم اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ اس کا عنوان انتہائی ہیجان خیز ہے تو یقین کییجے آپ کو اس میں ایسا کچھ بھی نہ ملے گا۔ لہذٰا ایسے تمام حضرات جو کالم کے عنوان کی وجہ سے ایسی کوئی توقع لگائے بیٹھے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے ارمانوں پر ایک بالٹی ٹھنڈا پانی ڈال لیں۔ تو میں بات کرنے جا رہی ہو حوا کی دو ننگی بیٹیوں کی اور ان سے جڑے آدم کے بیٹوں کی زنا شدہ غیرت کی۔ جس کا بچاؤ صرف اور صرف عورت کو ذلیل و رسوا کرنے سے ممکن ہے۔ کسی بھی صورت میں کسی بھی حال میں۔
کبھی اس کے چہرے پہ تیزاب ڈال کر تو کبھی اس کے کان، ناک، ٹانگ یا پھر چٹیا کاٹ کر۔ کبھی اسے قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے تو کبھی بوری بند لاش کو نہر میں بہا کر یا پھر اس کو کتوں کے آگے ڈال کر۔ کبھی اس کو زندہ جلا کے تو کبھی اس کو برہنہ کر حالت میں سر بازار پھرا کر ابن آدم کا سینہ اور چوڑا ہو جاتا اور گردن مذید اکڑ جاتی ہے۔ کچھ لوگ اتنے غیرت مند ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی بہن بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ لے تو یہ اس کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس قتل کی سزا سے بچنے کے لئے یہ اسی بہن بیٹی کو مقتول کے باپ تک کے نام پر ونی کر دیتے ہیں اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے جیل سے باہر آجاتے ہیں۔ تب ان کی یہ غیرت یقیناً بے غیرتی کی آخری حدوں سے بھی سو پچاس سو کلو میٹر آگے کی حد پھلانگ رہی ہوتی ہے۔
یہ لوگ اتنے غیرت مند ہوتے ہیں کہ ان کی کوئی بہن بیٹی اپنی مرضی سے کسی کو اپنا جیون ساتھ چن لے (وہ حق جو خدا اور رسولؐ اس کو دیتے ہیں) یا ایسی خواہش کے اظہار کی جرت کر بیٹھے تو اس کو گاڑی میں باندھ کر اس کو زندہ جلا دیا جاتا ہے اور اس کی فلک شگاف چیخوں سے اپنی حیوانی غیرت کو تسکین دی جاتی ہے اور جب ایسا ہی کوئی غیرت مند بھائی کسی دوسرے کی بہن سے تعلق کی سزا سے بچنے کے لئے اپنی کم سن کنواری بہن کو بھری پہنچائیت میں کچھ غیرت مند درندوں کے حوالے کر دیتا ہے جو مل کو اس کی معصومیت کوداغدار کر کے اپنی میلی غیرت کو اجلا کرتے ہیں تو اس بھائی کی غیرت چوں تک نہیں کرتی۔
یہ ایسے غیرت مند لوگ ہیں کہ شاہ صدر دین کی فوزیہ (قندیل بلوچ) بھوک و افلاس اور گھٹن زدہ ماحول سے بغاوت کر تے ہوئے ماڈلنگ کرنے پر مجبور کر دی جاتی ہے۔ وہ خود کو بھی پالتی ہے اور بوڑھے ماں باپ کو بھی اور ایک دس سالہ بھائی کو پال پوس کر بڑا کرتی ہے اور اپنی اسی ماڈلنگ کی کمائی سے موبائل شاپ بنا کر دیتی ہے۔ اس کا وہ غیرت مند بھائی ماڈلنگ کی یہ کمائی قبول کرتے ایک پل کے لئے بھی نہیں ہچکچاتا نہ اس کی غیرت دم مارتی ہے۔ بلکہ اپنی ذمہ داریوں (ماں باپ) کا بوجھ بھی قندیل پر ڈالتے ہوئے اس کے بھائیوں کی نہ تو غیرت جاگتی ہے نہ احساس ذمہ داری۔
مگر وہی فوزیہ (قندیل)جب ایک مذہبی مگر مچھ کی کچھ ٹھرک پن پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتی ہے تو ہر طرف سے غیرت! غیرت! حیا! حیا! کی ہا ہا کار مچ جاتی ہے۔ اس کے بھائیوں کی سوئی غیرت جاگ اٹھتی ہے اوران کو فوزیہ کی ادھ ننگی تصاویر اور ویڈیوز پر ان کے پیٹ میں غیرت کے مروڑ اٹھنے لگتے ہیں (وہ غیرت جس کی موت شاہ صدر دین میں واقع بوسیدہ گھر کی گرتی دیواروں کے ملبے تلے دب کر اسی دن ہو گئی تھی جب قندیل بلوچ نے پیٹ کی بھوک سے تنگ آئے والدین کو ملتان بلالیا تھا) اور وہ غیرت کے نام پراس کو قتل کر دیتے ہیں۔
اسی پر بس نہیں ہوتی اور کئی گھنٹوں تک اس کی بے ترتیب لباس والی اور مسخ شدہ ہونٹوں والی لاش بے گو رو کفن ملتان میں واقع کرائے کے مکان میں بان کی چارپائی پر پڑی رہتی ہے تو کبھی سرکاری ہسپتال کے پوسٹ مارٹم وارڈ کی گیلری میں لوہے کے ٹوٹے پھوٹے سٹریچر پر تب اس کا سیاہ پڑتا چہرا اور سوجے ہونٹ خاندان کی غیرت کو چار چاند لگا رہا ہوگا اور اسی حالت میں لی گئی اس نوحہ کناں لاش کی تصاویر یقیناًپاکستان سمیت پوری دینا میں اپنے بھائیوں اور خاندان کی غیرت پر بین کرتی رہی ہوگی۔ میں سوچتی ہوں کہ تب اس کے بھائیوں کوہلکا سا بھی احساس غیرت ہوا ہو گا؟ بلکہ اسی قندیل یا فوزیہ سے پیسے لیتے ہوئے، اس کو ماں باپ کی ذمہ داری دیتے ہوئے تو غیرت نہیں جاگی ہوگی ان غیرت مند بھائیوں کی؟
اس کی زندگی میں اور موت کے بعد بہت سے غیرت مند اس بات کو ہر گلی کوچے میں اچھالتے تھے کی فوزیہ عظیم بے غیرت ہے جس کو خاندان کی غیرت کا کوئی احساس نہیں ہے اور خود کو ادھ ننگا کر کے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر اپلوڈ کرتی ہے۔ پر میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں؟ آدھے سے زیادہ پاکستان کو اس کی اسی نیم عریانی سے اس قدر دلچسپی تھی کہ وہ سوشل میڈیا اور وکی پیڈیا پر سب سے زیادہ سرچ اور discuss کی جانے والی دس شخصیات میں سے ایک بن گئی تھی۔ ہر طرف اس کی بے حیائی کے چرچے تھے تو ایسا کیوں تھا؟ کیوں کہ اس نے اپنی مرضی سے خود کو ننگا کیا تھا تو سوال اب آدم کی غیرت کابن گیا تھا۔
اس لئے بہت اچھالا اس کو زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ حوا کی بیٹی تھی ناں۔ تو اس کو یہ اختیار کس نے دیا تھاکہ خود کو خود ننگا کرے؟ لہٰذا سزا تو ملنی تھی۔ مگر یہی کام جب ابن آدم کرتا ہے بنت حوا کے ساتھ تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوتا، بلکہ اس کو بھی غیرت کے نام پر سر انجام دیا جانے والا کارنامہ مانا جاتا ہے۔ جی ہاں۔ ہم ایسے غیرت مند لوگ ہیں کہ ایک لڑکی خود نیم عریاں ہو تو ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ (یہاں یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ میں عریانی کو سپورٹ کر رہی ہوں بلکہ میرا مقصد منافقت اور دہرے معیار پر مبنی ان رویوں پر احتجاج کرنا ہے جن کو ہم غیرت کا نام دیتے ہیں )جب کہ یہی کام جب ابن آدم نام نہاد غیرت کے نام پہ کرتا ہے تو ہرشخص اس کو دبانے اور چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور اس پر بات کرنے والے کو بھی بے حیا اور بے غیرت کا نام دیا جاتا ہے۔ کیوں۔ ؟
اور اس کی تازہ ترین مثال مٹ گرہ کی سولہ سالہ شریفاں ہے جس کو کچھ درندوں نے سر بازار برہنہ کر کے پورے گاؤں میں پھرایا اور اس کی ویڈیوز بنائیں، اس کو گھسیٹا، اس کے جسم کے مختلف حصوں کو چھیڑتے رہے اور اس پر آوازے کستے رہے۔ ! نہ زمین پھٹی نہ آسمان پھٹا۔ ! وہ ننگی گلیوں میں چیختی رہی۔ لوگوں کے گھروں کے دروازے بجا بجا کر ایک کپڑے کی بھیک مانگتی رہی جس سے وہ اپنی ستر پوشی کر سکے۔ مگر شاید پورے گاؤں میں ایک بھی غیرت مند نہیں تھا۔
کہاں ہے ارض و سما کا مالک
کہ چاہتوں کی رگیں کریدے
حوس کی سرخی، رخ بشر کا
حسین غازہ بنی ہوئی ہے
کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے
کوئی تو چارہ گری کو آئے
افق کا چہرہ لہو میں تر ہے
زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے۔
ہم بات کرتے ہیں برما کی، کشمیر کی، فلسطین کی۔ جہاں غیر مسلموں کے ہاتھوں مسلمان بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مگر شریفاں کے معاملے میں توملک بھی مسلمان۔ شریفاں بھی مسلمان اور اس پر ظلم ڈھانے والے درندے بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ کہاں ہے حکومت پاکستان۔ کہاں ہے قانون اور کہاں ہیں حقوق نسواں والے اور کہاں ہیں وہ سارے غیرت مند جن کو فوزیہ عظیم (قندیل بلوچ)کی عریانی پر پیٹ درد رہتا تھا؟ اب جب اسی بیلٹ (سرائیکی )کی شریفاں پر انسانیت سوز ظلم کی ایک نئی داستاں رقم کی گئی تو وہ سب خاموش کیوں ہیں؟ ان کی لبوں پر قفل کیو ں لگ گئے؟ اور ان کی زبانیں تالوسے کیوں چپک گئی ہیں؟ کیا اب کسی کی غیرت نہیں جاگی؟ اب کوئی کیوں نہیں بولتا؟ بلکہ پولیس سے لے کر سیاسی وڈیروں تک ہر کوئی اس بات کو دبانے اور رفع دفع کروانے میں کیوں لگا ہے؟ فوزیہ عظیم کی بے لباسی پراعتراض اٹھانے والوں میں سے کوئی مجھے بتائے گا کی اس سولہ سالہ یتیم شریفاں کا کیا قصور تھا؟ وہ کس بے غیرتی کی پاداش میں ذلیل و رسوا کی گئی؟
کوئی نہیں بتائے گا نہ کسی کو اس سے دلچسپی ہے۔ کیونکہ نہ تو وہ کوئی سیاسی گدھ ہے نہ کوئی سلیبرٹی کی اس سے کسی کو ریٹنگ ملے۔ بلکہ اس کی اوقات تو کرینہ کپور کے ہاں بیٹے کی پیدائش والی خبر سے بھی کم تر ہے۔ چلئے میں بتائے دیتی ہوں کہ عمران خان کے نئے پاکستان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک چھوٹے سے گاؤ ں مٹ گرہ کی یتیم شریفاں کس کی غیرت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اس معصوم کا جرم یہ ہے کہ وہ ایک ایسے بھائی کی بہن ہے جس پر مخالف پارٹی کو شک تھا کہ اس نے ان کی بیٹی کو موبائل دیا اور اس سے بات کرتا تھا۔ جی ہاں موبائل پر بات چیت کا شک۔ جس کی وجہ سے دوسرے خاندان کی غیرت پر حرف آیا۔ یہ کہانی ہے دو خاندانوں سیہار، قونب اور ان کے مخالف اور نسبتا غریب خاندان سیال کی۔ شریفاں کا تعلق سیال خاندان سے ہے اور اس کے علاوہ اس کی پانچ چھوٹی بہنیں اور ایک سترہ سالہ بھائی ساجد ہے۔ شریفاں کا باپ بہت سال پہلے فوت ہو گیا تھا اور اس کی بیوہ ماں نے یہ سات بچے کیسے پالے اور ایام بیوگی کیسے گزارے وہ وہی جانتی ہے یا اس کا خدا۔ غربت و تنگدستی کا یہ عالم ہے کہ لگتا ہے سفید پوشی ابھی اپنا ضبط توڑ کر بین ڈالنے لگے گی۔
مضمون کا آخری حصہ پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں
آخری حصہ: شاہ صدر دین کی ننگی قندیل بلوچ سے مٹ گرہ کی ننگی شریفاں تک (2)


