شاہ صدر دین کی ننگی قندیل بلوچ سے مٹ گرہ کی ننگی شریفاں تک (2)


(پہلا حصہ اس لنک پر)

آج سے ڈیڑھ سال قبل سیہار خاندان کی لڑکی کے پاس اس کے گھر والوں کو موبائل ملا جس پر شک تھا کہ یہ ساجد یعنی شریفاں کے بھائی نے دیا ہے۔ لڑکی کو بہت مارا پیٹا گیا، اس کے بازو توڑ دیے گئے۔ مطالبہ یہ تھا کہ ساجد کے خلاف تھانے میں بھگتو تب جا کر خاندان کی وہ غیرت جس کوموبائل پر بات چیت سے ٹھیس پہنچی تھی اس کو سہارا ملتا۔ ساجد پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ پھر خاندان کی کسی بچی کو فائر مار کر خود ہی زخمی کیا گیا اور ساجد پر ایف آئی آر کٹوائی گئی۔ اس طرح بات جو چار دیواری میں تھی گھر کی دیواریں پھلانگ کر گلی محلے کو لونڈوں تک پہنچی، تالاب پر پانی بھرنے والی عور توں کے ہاتھ لگی اور پھر تھانے کچہری تک جا پہنچی۔ چٹخارے بازی سے بات طعنے بازی پر آئی اور پھر سوال خاندان کی غیرت کا بن گیا۔

لڑائی جھگڑے شروع ہوئے تو غیرت کی اس بات نے جرگے میں ڈیرے ڈال لئے۔ جس میں تحصیل درابن کے ناظم ہمایوں خان، یونین کونسل بھکھی کے ناظم پیر چن شاہ قریشی، نائب ناظم غریب نواز شاہ، خالد خان آف ڈاکخانہ چودھواں اور دیگر معززین علاقہ جیسے کہ عطاللہ گڈوار اور سلیمان لنگراہ آف جھوک امین سمیت لڑکی کا باپ شاہ جہان اور دونوں خاندانوں کے مرد حضرات موجود تھے۔ بات دس لاکھ سے شروع ہو کر ساڑھے تین لاکھ پر ختم ہوئی۔ معاہدے پر سب کے دستخط ہوئے۔ اور رقم ادا ہوگئی۔ یعنی کہ اگر غیرت کی قیمت ساڑھے تین لاکھ لگ جائے تو پھر اس لٹی پٹی غیرت کی مرمت ہوجاتی ہے۔ گویا غیرت کے ساتھ کسی قسم کی بے غیرتی نہ ہوئی ہو۔ مطلب پیسے ملنے پر غیرت گنگا اشنان کر کے اپنا میلا تن اجلا کر آتی ہے۔

مگر پیسے لینے کے بعد بھی بات ختم نہیں ہوئی اور بات جو پانی کے تالاب اور گاؤں کے لونڈوں کے پاس تھی وہ نفرت کو ہوا دیتی رہی۔ سیہار خاندان کے سارے غیرت مند سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ ہوا کہ خاندان کی غیرت تب قائم رہ سکتی ہے اگر ساجد کی بہن شریفاں کو برہنہ کر کے پورے گاؤں میں گھمایا جائے۔ اس کے لئے ستائس اکتوبر کا انتخاب کیا گیا جب سیال خاندان کے زیادہ تر مرد گاؤں سے باہر تھے۔ نو درندے دو دو کی ٹولیوں کی صورت میں مختلف راستوں پر اسلحہ لے کر کھڑے ہوگئے تا کہ کسی کو اس طرف آنے سے روکا جا سکے۔ شریفاں جو اپنی کزن سکینہ اور ایک لڑکی کے ساتھ پانی بھر کے آ رہی تھی اس کو گن پوئنٹ پر روک کر اس کے کپڑے پھاڑے گئے اسے برہنہ کیا گیا اور سکینہ کی چادر جو اس نے شریفاں کو دی کہ جسم ڈھانپ دے سکے وہ چھین کر پھاڑ دی۔ وہ چیخ رہی تھی، رب کے واسطے ڈال رہی تھی، پاؤں پکڑ رہی تھی کے اس کو پر رحم کریں۔ وہ نہ تو کافر ہے اور نہ کسی دشمن ملک کی ماں بہن۔ بلکہ وہ تو مسلمان ملک کی مسلمان ماں بہن۔ بلکہ ایسے مذہب کی ماننے والی ہے جو غیر مسلموں کی عورتوں کی بھی عزت و تکریم کا درس دیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی پر جہنم کی وعید سناتا ہے۔ مگر نام نہاد غیرت کے سامنے مذہب، تہذیب، انسانیت اور احساس۔ سب ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

شریفاں ان کے چنگل سے کسی طرح نکل کرحافظ قاری کلیم اللہ نامی شخص کے گھر داخل ہوئی اور ان سے چادر کی بھیک مانگی۔ تو ان نو میں سے دو لوگ ناصر اور رمضان اس کے پیچھے گھر میں داخل ہوئے، ایک نے قاری کلیم اللہ کو گن پوائنٹ پر روکے رکھا جبکہ دوسرا اس کے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا۔ جہاں رحمت اللہ بن سید اللہ نے اس کی ویڈیو بنانی شروع کر دی اور باقی اس کو گھسیٹتے ہوئے سید اللہ کے گھر لے گئے۔ جہاں جس قدر ہو سکا اس کو ذلیل کیا گیا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ گاؤں نہیں جنگل ہوجہاں انسان نہیں درندوں کا راج ہو اور ایک ہرنی چند بھیڑیوں میں گھری ہو جو اس کو باری باری ایک دوسرے کی طرف دھکا دے کر اس کی بے چارگی و بے بسی کا مزا لے رہے ہوں۔ یہ حیوانی کھیل ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران پورے گاؤں میں ایک بھی غیرت مند نہیں سامنے آیا۔

یہ حوا کی مظلوم بیٹی کسی نہ کسی طرح بھاگ کر اپنے ماموں کے گھر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی جہاں اس کے بے لباس جسم کوتو ڈھانپ دیا گیا مگر اس زخمی روح اور مجروح عزت نفس و جذبات کو شاید کبھی نہ ڈھانپا جا سکے۔ اس کے بعد ان و غیرت مندوں میں سے سجاول نامی شریفاں کے پھٹے کپڑے اپنے خاندان کی ایک عورت کو پہنا کر تھانے پہنچ گیا اور شریفاں سے پہلے ساجد کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔ ایسے میں غیرت نامی چڑیل یقیناً دور کھڑی قہقے لگا رہی ہو گئی۔ کیا غیرت ہے۔ ! جس میں حوا کی بیٹیاں ہی ذلیل و رسوا ہو رہی ہیں۔ ایک کو موبائل رکھنے کی پاداش میں تھانے کچہری سے لے کر جرگے تک رسوا کیا گیا اور پیسے وصول کیے گئے دوسری کو بے لباس کر کے گاؤں پھرایا گیا اور تیسری کے کپڑے پھاڑ کر اس نیم برہنہ حالت میں تھانے پیش کر دیا گیا۔ تالیاں!

ایسے میں جب ساجد لوگ تھانے پہنچتے ہیں تو پولیس والے جو سیاسی اثر و رسوخ اور بابا جی کے نذرانوں کے بوجھ تلے دب چکے تھے انھوں کافی لیل و لعت کے بات یک لولی لنگڑی ایف آئی آر کاٹی وہ بھی کراس۔ مگر جب بات آئی جی تک پہنچی تو ایس ایچ او کے کان کھڑے ہوئے اور نئی ایف آئی آر کاٹی گئی وہ بھی کانی۔ خدا خدا کر کے آٹھ بندے گرفتار ہوئے مگر نواں اور مرکزی ملزم سجاول تاوقت تحریر ہذا مفرور ہے۔

مجھے اس مظلوم خاندان تک پہنچتے پہنچتے گیارہ دن لگ گئے۔ شریفاں کے بھائی ساجد (جس کو بات کرنا بھی نہیں آرہا تھا اس کا چہرہ سپاٹ تھا اور زبان گنگ) پھر اس کے خالہ زاد حافظ ہدایت اللہ سے بات ہوئی۔ و ہ کہہ رہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا بتاؤں کیا نہ بتاؤں۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور زبان لڑکھڑا رہی تھی۔

وہ کہہ رہا تھا کہ باجی ہم سادہ اور غریب لوگ ہیں۔ یہاں ہر روز لوگ آتے ہیں کیمرے لے کر اور انٹرویو کر کے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں تو ان کی بولی بھی سمجھ نہیں آتی ٹھیک سے۔ ان کے سوال ہمارا سینہ چھلنی کر دیتے ہیں۔ گیارہ دن ہو گئے ہیں۔ ہم تھک چکے بتا بتا کے مگر تا حال کچھ ایسا نہیں ہوا کہ ہمارے رستے زخموں پر مرہم آئے۔ گیارہ دن سے ہم لوگ لگے ہیں مہمانوں اور آنے جانے والوں کی خاطر مدارت میں۔ چائے، پانی، کھانا۔ سو خرچے۔ اور ساجد کی فیملی بہت غریب ہے اوپر سے تھانے کچہری اور عدالتوں کے خرچے الگ۔ ہمیں پتا ہے عدالتوں کی ایک لمبی جنگ شروع ہو چکی ہے اور ساجد لوگوں کے پاس تو بس کا خرچہ مشکل سے نکلتا ہے۔ سادہ لوحی کا یہ عالم ہے یہ لوگ بات تک نہیں کر پا رہے اس لئے ان کی مدد کے لئے میں ادھر رکا ہوا ہوں۔ یہاں اب تک نہ کوئی حکومتی رکن آیا ہے، نہ حقوق نسواں کی کوئی ٹیم اور نہ ہی نئے پاکستان کا کوئی دعویدار۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ان کے مجروح جذبات اور عزت پر پھاہے رکھوں یا پھر ان کے لئے مالی مدد اور انصاف مانگوں۔ کیونکہ یہ تو پاکستان ہے جہاں انصاف کے لئے بھی خرچہ چاہیے۔ عمران خان کے نئے پاکستان (کے پی کے) میں بھی انصاف لینے کے لئے پیسہ چاہیے۔

جب میں نے ہدایت اللہ سے پوچھا کہ اب شریفاں کیسی ہے تو اس نے کہا کہ اس کی ذہنی حالت عجیب ہے۔ گھنٹوں چپ رہتی ہے پھر چیخیں مارتی ہوئی گھر سے باہر بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔ کبھی کونوں میں چھپتی ہے اور کبھی بین ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ ابھی سوئی ہے آپ کہتی ہیں تو جگا دیتا ہوں۔ مگر ہر کوئی اس سے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ تمہارے ساتھ یہ کیوں ہوا اور کیسے ہوا۔ اور وہ ایک تماشا بن کے رہ گئی ہے۔ میں نے اس جگانے سے منع کر دیا اور اس مظلوم بنت حوا کے نوحہ کناں چہرے پر نظر ڈال کر لوٹ آئی۔ شاید مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں اس تباہ حال لڑکی سے نظر ملا کر پوچھ سکوں کہ بتاؤ آدم کی غیرت مند بیٹوں نے اپنی غیرت میں آکر تمہاری عفت وعظمت کوکیسے سر بازار ننگا کیا؟ مگر اس ملک بلکہ پوری دنیا کے غیرت مند وں اور حقوق نسواں کے فلگ شگاف نعرے لگا لگا کر لاکھوں ڈالر بٹورنے والوں اور والیوں سے اتنا ضرور کہوں گی کہ

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یہ شہدا کی ہم جنس، رادھا کی بیٹی
پیغمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثنا خوان تقدیس مشرق بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق بلاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

اس آفت زدہ خاندان کے نمائندہ حافظ ہدایت اللہ سے جب میں نے پوچھ کے اب ان کا مطالبہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ باجی کوئی بات اس زخم کا ازالہ ہو سکتی ہے کیا؟ میں لا جواب تھی اور شاید اپنے سوال پر شرمندہ بھی۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ پھر بھی اگر ہو سکے تو حقوق نسواں کے علمبرداروں اور حکمرانوں تک یہ بات پہنچا دیں کے غیرت کے نام پر بنت حوا کی پامالی بند کروا دیں خدارا۔ دیگر تین مطالبات جو اس نے پیش کیے وہ حرف بحرف منقل ذیل ہیں۔

1۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے وکلاء سے ہماری پر زور اپیل ہے کہ سجاول پارٹی کا کیس نہ لیں اگر یہ لوگ واقعی غیرت مند ہیں۔ کیونکہ بہنیں بیٹیا ں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں پیسہ تو کسی اور کیس سے بھی مل جائے گا۔
2۔ سجاول کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔
3۔ سجاول لوگ جب تک ادھر رہیں گے یہ آگ بھڑکتی رہے گی اور زخم تازہ رہیں گے۔ لہٰذا حکومت اس خاندان کو شہر بدر یا صوبہ بدر کرے تا کہ آئندہ کوئی کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ دست درازی سے پہلے سو بار سوچ لے۔

میرا خیال ہے کے تینوں مطالبات انتہائی معقول اور منطقی ہیں۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان نہیں تو انسان ہی ہم سب کو آواز اٹھانا ہوگی اس ظلم کے خلاف۔ جہاں کبھی مختاراں مائی کی چیخیں سنائی دیتی ہیں تو کبھی ڈاکٹر شازیہ خالد کی کی۔ کبھی دیر کی اس کم سن لڑکی کی جس کو ڈانس کرنے کے جرم میں قتل کر دیا گیا تو کبھی گاڑی میں باندھ کر زندہ جلائی جانے والی اس لڑکی کی جس کا قصور صرف اپنی مرضی کے لئے منہ کھولنا تھا۔ کبھی قندیل بلوچ کی اجڑی پجڑی لاش پوری دنیا میں ہماری غیرت کو چار چاند لگاتی ہے تو کبھی معصوم شریفاں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز ظلم کی داستان سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو سامنے آجاتے ہیں مگر نہ جانے کتنے ہی ایسے قصے رات کی تاریکی میں منوں مٹی تلے دبا دیے جاتے ہیں یا نہر میں بہا دیے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر گزرتے منٹ کے ساتھ ہر تیسری لڑکی کے ساتھ ایسا کوئی نہ کوئی واقع پیش آتاہے۔ اور پاکستان عورتوں کے لئے تیسرا خطرناک ملک مانا جاتا ہے۔

یہ کیسی غیرت ہے جس کا شکار ہر صورت میں صرف عورت ہی ہوتی ہے۔ کیا اس ملک کے سارے مرد حاجی اسماعیل خان ہیں؟ والدین کو اپنے بیٹے اور ان کے کرتوت نظر کیوں نہیں آتے؟ کیا ان کے لئے شراب پینا، چوری ڈکیتی کرنا، قتل کرنا، دوسرے کی مان بہن کو چھیڑنا، زنا کرنا اور ہر قسم کے دیگر اخلاقی و قانونی جرائم سے خاندان کی عفت وحرمت اور غیرت پر حرف نہیں آتا؟ یا غیرت کے یہ سارے پھندے صرف عورت کے گلے کے لئے ہی تیار کیے جاتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے کہ شاہ صدر دین کی فوزیہ کی عریانی پر سارے غیرت مند چیخ اٹھیں اور مٹ گرہ کی شریفاں کوآدم کے کچھ بیٹے ننگا کریں تو اس بات کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ پھر ہم (عورتیں) کیوں نہ کہیں کہ ہم اس ملک میں تیسرے درجے کی شہری بھی نہیں ہیں۔ کب تک چلے گی یہ منافقت؟

بند کرو خدا را یہ غیرت کے نام پر ہونے والی سیاہ کاری۔ نہیں تو پھر شکائیت ہو گی کہ عورتیں ایسے واقعات پر زبان کھول کر ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ اور بہت سے نیک لوگ تو شاید اپنے کالی کرتوتوں پر نظر ڈالنے کے بجائے میرے واجب القتل ہونے کے فتوے بھی جاری کرنے لگیں گے۔ مگر یقین کیجیے یہ آوازیں ایسے نہیں رکیں گی۔ اور جرت کی بات مت کیجیے وہ بہت ہے!
نوٹ: کوئی بھولا بھٹکا اصلی غیرت مند انسان یا پھر حقوق نسواں کا علمبردار اس مظلوم خاندان کی مدد کرنا چاہے تو ان نمبروں پر رابطہ کر سکتا ہے۔ 03441898288، 03443985620

Facebook Comments HS

Comments are closed.