کیا اردو کے شاعر ہوا میں معلق رہنا پسند کرتے ہیں؟
اردو تنقید کا بہت بڑا حصہ تعریفی اور توصیفی نوعیت کا ہے جس میں بالخصوص معاصر اور زندہ ادیبوں شاعروں کی عزت و حرمت کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ اس میں آپ کو بہت وسیع تعمیمات ملتی ہیں۔
ایسے جملے جو کہیں بھی کسی پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں اور ان کے لکھنے والوں میں سبھی طرح کے سینئر اور جونیئراہلِ قلم شامل ہیں: مثال کے طور پر:
’’اس شاعر کے ہاں ایک عصری شعور پایا جاتا ہے،‘‘
’’اس کے ہاں ایک اچھوتی رنگینیِ خیال اور حساسیت ملتی ہے،‘‘
’’یہ لاشعور کی غیر دریافت شدہ گہرائیوں کو کھوجتا ہے،‘‘
’’اس کا اندازِ سخن ایک کلاسیکی پختگی کے ساتھ ساتھ جدت کا بھی حامل ہے،‘‘ وغیرہ۔
یہ اقوالِمتناقضبالذات ایک مخصوص مبالغہ اور تعمیم کا عنصر رکھتے ہیں جو کم ازکم اردو کی روایت میں نیا نہیں (حالانکہ ہم بہ مشکل ہی دیگر زبانوں کی ادبی روایتوں سے آشنا ہیں)۔
لہٰذا کسی شاعر کو خوش/نظر انداز کرنے کے لیے اسی قسم کے جملے لکھ دینا اور فیس بک پر اسی کی شاعری کے ایک دو ٹکڑے کاپی پیسٹ کر کے آگے واہ (یا حتیٰ کہ wow) لکھ دینا مستند ترین دانش مندی ہے۔
اختلاف، تنقید یا تنقیص کرنے کی صورت میں ایک تو ناراضی مول لینا پڑے گی (اور اس کا کیا فائدہ!) اور دوسرے کل کو آپ بھی ایسے ہی جذبات یا تاثرات کا ہدف بن سکتے ہیں۔ نیز تحفہ میں ملنے والی شاعری کی کتاب کے دستخط شدہ صفحے کی تصویر لے کر شکریہ کے کلمے کے ساتھ متعلقہ شاعر کو ٹیگ کر دینا بہترین اور نہایت کارگر طریقہ ہے۔ اس میں آپ خود ہر قسم کی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں اور کچھ تبصرہ بھی نہیں کرنا پڑتا۔
ڈاکٹر ابرار احمد جیسے اچھے دوستوں نے بھی اب مجھے اپنی شاعری کی کتابیں بطور تحفہ دینا بند کر دی ہیں یا کبھی دی ہی نہیں۔ چند ماہ قبل فیس بک کے ذریعے متعارف ہونے والے آزاد منش دوست عرفان ستار پاکستان اور پھر لاہور تشریف لائے تو ان سے ملاقات ہوئی۔ آزاد منش اس لیے کہ وہ محرم یا رمضان کے مہینوں میں رقت یا مقدس جذبوں سے بھری ہوئی شاعری تخلیق نہیں کرنا شروع ہو جاتے اور نہ ہی موسموں اور عمر کے ساتھ زوال پذیر جذبات کے تحت غزلیں پیش کرتے ہیں، چاہے یہ دونوں عیوب رکھنے والے حضرات کے ساتھ ملتے کثرت سے رہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم سبھی اپنے اپنے اسیروں میں ہوتے ہیں، اور اپنی اساسی فکری ساخت کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں، چاہے وہ جون ایلیا زدگی ہو یا اپنے شہر اور علاقے یا حلقے کے کسی اور شخص کی علم برداری۔ ہم نے جوانی یا ادبی پرداخت کے سال جن لوگوں کی صحبت میں یا ان کے ساتھ قربت کی خواہش میں گزارے ہوں وہی ہمارے فکری ڈھانچے کے کھمبے ڈنڈے بنتے ہیں، چاہے بعد میں ہم آفاقی اور وقت سے ماورا تحریریں تخلیق کرنے کے چکر میں کسی بھی قسم کے کھمبوں ڈنڈوں کا عکس پیش کرنے سے بالکل ہی مُکر جائیں۔
تو عرفان ستار نے دونوں ہاتھوں سے ایک کتاب پیش کی: ’’یہ عشق ہے۔‘‘
شاعری کے متعلق ان کی شاعری سے ہٹ کر بات کرنے کی ٹھانی ہے۔ جیسے کوئی پلے کارڈ دیکھ کر آپ کو کوئی پوری سیاسی تحریک یا نظریہ یاد آ جائے اور آپ اس پر سوچ بچار کرنے لگیں۔
اردو اور پاکستان میں شاعری چھپتی کیوں ہے؟ اس میں ایک پیراڈاکس چھپا ہے۔ اکثر جواب ملے گا، لوگ پڑھنا چاہتے ہیں تو چھپتی ہے! یہ ’’لوگ‘‘ کسی مشاعرے کے سامعین جیسے ہی ہیں جو تقریباً سبھی اپنی باری کے منتظر شاعر ہی ہوتے ہیں۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو کوئی بھی پبلشر محض شعری محاسن اور پختگی کی بنیاد پر شاعری کی کوئی کتاب چھاپنے کو تیار نہیں، اور اس کے بارے میں مجھے بخوبی علم ہے کیونکہ گزشتہ بیس سال کے عرصے میں درجن بھر پبلشروں کے ساتھ کام کرنے اور ان کی آرا براہ راست سننے کا موقعہ ملتا رہا ہے۔
فیس بک پر اردو لکھنے کی ضرورت اور عادت کی بدولت اکثر شاعر اب اپنی کتاب کا مسودہ خود ہی تیار کر لیتے ہیں، انٹرنیٹ پر سمندر کے کنارے کسی لڑکی یا پھول کو ہونٹوں سے چھوتی ہوئی لڑکی یا ڈھلتے سورج کی تصویر تلاش کر کے ٹائٹل بھی تجویز کر دیتے ہیں۔ لیکن ان کی کتاب چھاپنے پر پبلشر کی آمادگی صرف دو تین بنیادوں پر ممکن ہے: اول، وہ اس کا خرچ خود برداشت کریں؛ دوم، شاعر سے کوئی فائدہ مقصود ہو؛ سوم، شاعر کو کسی اور غرض کے تحت نوازنا ہو۔ ہر تین صورتوں میں معاوضہ ہر گز ادا نہیں ہوتا۔ ’’لوگ پڑھنا چاہتے ہیں‘‘ کی تصدیق صرف پبلشر اور مارکیٹ میں طلب کے تحت ہوتی ہے۔
بہرحال یہ آرٹ کی بدقسمتی ہے کہ اسے پسند کرنے اور صدیوں تک سنبھالے رکھنے والے بھی اس کی طلب نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ ایک خود رو اظہار ہوتا ہے اور آرٹسٹ کی اپنی مجبوری یا اظہار کی خواہش ہوتا ہے۔ آرٹکی پینٹنگ اور مجسمہ سازی کی شاخ کے حوالے سے مائیکلاینجلو اور لیونارڈوداونچی کے نام تاریخ میں بلند مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ڈومینیکی راہبوں نے لیونارڈو کو سانتا ماریا ڈیلے گریزی کے ایک کمرۂ طعام کی دیوار پر ’’آخری ضیافت‘‘ پینٹ کرنے کا کام دیا۔ کچھ عرصہ بعد راہبوں نے باورچی خانے میں جانے کے لیے حواریوں کی ٹانگوں کے درمیان سے دروازہ نکال لیا تھا۔ آج ہم جس ’’آخری ضیافت‘‘ کی پینٹنگ سے واقف ہیں وہ لیونارڈو کے ایک شاگرد کی بنائی ہوئی ناقص نقل ہے۔
نشاۃ ثانیہ کے آرٹسٹ چاہے کتنے بڑے اور جینیئس رہے ہوں، لیکن انھیں مجسموں کے لیے سنگ مرمر اور کانسی فراہم کرنے کی ذمہ داری کام ’’دینے والوں‘‘ کے سر ہی ہوتی تھی۔ لیونارڈو نے ایک مجسمے کا پلاسٹر ماڈل تو بنا دیا لیکن میلان کا فرمانروا لوڈوویکو حسب وعدہ پچاس ٹن کانسی فراہم نہ کر پایا۔ اسی طرح 1501ء میں فلورنس میں سنگ مرمر کا ساڑھے تیرہ فٹ اونچا بے ڈھنگا بلاک رکھا تھا جسے دیکھ کر مائیکلاینجلو نے ’’ڈیوڈ‘‘ مجسمہ بنانے کا معاہدہ کیا، ’’چھ طلائی فلورنز ماہانہ کے عوض۔‘‘ایک اور مشہور مجسمہ ساز ویروکیو کو وینس کے سینیٹ نے مجسمہ ڈھالنے کا کام سونپا۔ اس نے ماڈل مکمل کیا اور کانسی میں ڈھالنے کی تیاری کر رہا تھا کہ کوئی اختلاف پیدا ہونے پر ماڈل کی گردن اور ٹانگیں توڑ کر واپس اپنے شہر فلورنس چلا گیا۔گو کہ یہ شہکار آج ایک مکمل اور فاتح تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان کی تخلیق بہت بنیادی اور زمینی سطح کی انفرادیت کے ساتھ ہوئی۔
شاعری میں آفاقیت اور ہمہ گیریت کی خواہشات نیا نیا روپ دھار کر سامنے آ رہی ہیں۔ کسی طرح یہ سوچ لیا گیا ہے کہ اردو شاعری میں یہ اوصاف پیدا کرنے کے لیے یہ کوشش کرنا لازمی ہے کہ وہ لازمان و لامکاں ہو جائے۔ بقول کسے ’’عظیم ادب نظریے کے تحت نہیں تخلیق ہوتا، لیکن عظیم ادب نظریے سے عاری بھی نہیں ہوتا۔‘‘ مجھے عرفان ستار کی شاعری میں یہی لازمانیت نظر آتی ہے جو شاید آفاقیت اور وقت و حالات سے ماورا ہونے کی خواہش یا کوشش کا نتیجہ ہو۔ اس کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ آپ ’’مقصد‘‘ کھو دیں اور مقصدیت کو نقصان دہ بھی سمجھنے لگیں۔
اردو کے مختلف شاعروں کا کلام دیکھنے کے بعد اب مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ وہ ہوا بلکہ لاشےمیں معلق رہنا پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ تجریدی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، زندگی اور تجربات کی تجرید، چاہے روایت میں کتنی ہی مضبوطی سے بندھی ہوئی ہو۔ میرے خیال میں معاصر اردو شاعری پڑھنا اور بالخصوص سننا قاری سے کچھ تقاضا کرتا ہے۔ پُتلی تماشا دیکھنے والے تمام افراد پس پردہ موجود فنکار سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی پتلیوں پر نظر مرکوز رکھتے ہیں۔ پچھلی طرف جا کر تحقیق کرنے اور دیکھنے سے ان کا اپنا خریدا ہوا ٹکٹ ضائع اور مزا کرکرا ہو گا۔ چنانچہ اب تماشا دکھانے اور دیکھنے والے کے درمیان ایک ان کہا معاہدہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
عرفان ستار کی شاعری کا ٹکٹ بھی تبھی مزا دے گا جب اِسے لفظوں کا تماشا سمجھ کر پڑھیں گے، چاہے وہ خود جس جون ایلیا کے مداح ہیں وہ ہرگز ایسا نہیں تھا اور اُس نے ہر ممکن حد تک پڑھنے والے کو جھنجوڑا، ہلایا، دھکیلا۔ اس کے برعکس عرفان بہت مزے، روانی، شائستگی اور تسلسل کے ساتھ (کم ازکم’’یہ عشق ہے‘‘ میں) روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری پڑھنے والے کا کچھ نہیں بگاڑتی، اور ایک مخصوص پسندیدہ سکون میں غلطاں رہنے دیتی ہے۔ یہ شاید میری بدقسمتی ہے کہ مجھے یہ تقریباً ڈیڑھ ہزار الفاظ ان کی شاعری سننے کی بجائے پڑھنے کے بعد لکھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ شاعری میں سے صوت و تماشا کا عنصر نکلنا تماشا ختم ہونے کے بعد پُتلیوں کا معائنہ کرنے جیسا ہے۔


