حضور! صبر اور برداشت ہی میں عافیت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، سولہ سترہ سال پہلے 2001ء کے کی بات ہے، جب آئین اور قانون کے پاوں میں بیڑیاں، ہاتھوں میں ہتھکڑی اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی، اور آئین کی محافظ لیکن پی سی او زدہ عدلیہ ایک بدمست اور ناپاک عزائم رکھنے والے آمر کے ساتھی کا کردار ادا کر رہی تھی۔ وہ مطلق العنان بادشاہ بننا چاہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے ایک اشارہ ابرو پر قانون بنتے اور ختم ہوتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ وہ 12 اکتوبر 1999ء کو کرچکا تھا۔ اس کے اشارے پر منتخب پارلیمنٹ گھر بھیج دی گئی تھی اور اس نے پاکستان کا متفقہ آئین بیک جنبش ابرو ایک سائیڈ پر پھینک دیا تھا۔

بادشاہ اس وقت کارگل سے گھائل ہوئے، اپنے زخموں کو چاٹ کر مندمل کرنے کی کوشش کررہا تھا اور سارے جہاں سے سمیٹی رسوائیاں زائل کرنے کی تگ و دو کر رہا تھا۔ ان کے نورتنوں میں سے ایک رتن نے سگار کا کش لے کر پرویز مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، حضور! کیا شان ہو کہ آپ چیف ایگزیکٹو کے بجائے صدر مملکت کی حیثیت سے بھارت یاترا کریں۔ یاد رہے کہ یہ اسی وزیراعظم سے ملنے کا پروگرام بن رہا ہے، جو دو سال پہلے لاہور آیا تھا، تو موصوف ان سے ملنے اور سلیوٹ کرنے تشریف نہیں لائے تھے۔ یہ تجویز سن کر حضور کی آنکھیں چمک اٹھیں اور گویا ہوئے کہ میں کم از کم چار مرتبہ اعلان کر چکا ہوں، کہ موجودہ صدر مملکت اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔ صدر کو ہٹانے کا کوئی اور طریقہ بھی تو نہیں ہے۔ یہ کام کیسے ہوگا؟

نبض شناس مصاحب نے سگار بادشاہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا، جہاں پناہ! یہ کون سی بات ہے، ایک کرنیل بھیج دیں آدھے گھنٹے میں استعفی آ جائے گا۔ بادشاہ نے اپنے لچکیلے شانوں کو آگے پیچھے جنبش دیتے ہوئے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور یکسو ہو گیا۔

جون 2001ء کا دوسرا ہفتہ تھا۔ صدرمملکت جناب رفیق تارڑ کو ملک کے خود ساختہ چیف ایگزیکٹو نے پیغام بھجوایا کہ بادشاہ وقت اپنے چند رتنوں کے ساتھ کھانے پر ایوان صدر آنا چاہتے ہیں۔ ان دنوں ایسا ہوتا تھا کہ کھانے پر بلایا نہیں جاتا تھا، کوئی دعوت نہیں دی جاتی تھی، صرف آیا جاتا تھا۔ جیسے؛ لو جی ہم آرہے ہیں۔ 13 جون 2001ء کو اس وقت کے تین ان مول رتن جنرل یوسف، جنرل محمود اور جنرل عزیز اور کچھ دیگر حضرات کے ساتھ بادشاہ وقت ایوان صدر پہنچ جاتے ہیں۔ ایجنڈا موجودہ صدر مملکت کو تو نہیں بتایا گیا تھا، مگر ایجنڈا طے تھا کہ کیا بات کرنی ہے۔ تمہید کے بعد مدعا بیان کیا گیا کہ وسیع تر ( لطف کی بات یہ ہے کہ ہمیشہ سے یہ ملکی اور قومی مفاد وسیع تر رہا ہے) ملکی اور قومی مفاد میں ناگزیر ہو گیا ہے، کہ پرویز مشرف صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیں، تاکہ بے یقینی کی فضا ختم کی جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکے۔

صدر مملکت نے پوچھا، یہ کیسے ممکن ہے؟ جنرل یوسف بولے کہ آپ استعفی دے دیں۔ صدر مملکت نے جواب دیا کہ آئین کی رو سے میں اپنا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کو دے سکتا ہوں۔ اسے آپ نے فارغ کر دیا ہے۔ میں اپنے ماتحت چیف آف آرمی اسٹاف کو استعفی کیسے پیش کر سکتا ہوں؟ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ یہ جواب سن کر تمام جرنیل ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور ایوان صدر سے چلے گئے۔

اگلے دو چار دن نامہ و پیام جاری رہا، مگر صدر مملکت نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد 20 جون 2001ء کو بادشاہ نے چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر 2 برائے 2001ء جاری کیا، جس کی شق 2 بی میں لکھا گیا یہ فرمان:

” The person holding the office of the President of the Islamic Republic of Pakistan immediately before the commencement of the proclamation of Emergency (Amendment) order 2001 shall cease to hold the office with immediate effect“

ترجمہ:
”اس اعلان ایمرجنسی کے ترمیمی آرڈر 2001 کے اجرا سے فورا پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منصب صدارت پر فائز شخص اپنے عہدے سے فارغ ہو جائے گا“۔

اس تین سطری شاہی فرمان کے ذریعے منتخب صدر کو فارغ کر دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد 20 جون 2001ء ہی کو ایک اور فرمان جاری ہوا، جس کا عنوان تھا:

”صدر کی جاں نشینی کا آرڈر 2001“
اس کی شق 3 (1) میں ارشاد فرماتے ہیں:

”Upon the office of the President becoming vacant for any reason whatsoever، the chief executive of Islamic Republic of Pakistan shall be the president of Pakistan“

ترجمہ:
”صدر کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے خالی ہوا ہو، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف ایگزیکٹو پاکستان کا صدر ہوگا“۔

یوں جمہوری پارلیمانی تاریخ میں وفاق کی چاروں اکائیوں اور پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر صدر منتخب ہونے والا شخص، ایوان صدر سے بے دخل کر دیا گیا۔ اسی شام پرویز مشرف نے صدارت کا حلف لے لیا۔

یہ اتنی بڑی کہانی جو میں نے بیان کی ہے یہ ہماری اصل تاریخ ہے؛ یقینا یہ ہماری آنے والی نسلوں کو نہیں پڑھائی جائے گی۔

معزز چیف جسٹس صاحب آپ کو معلوم ہوگا کہ اس شام پرویز مشرف سے حلف، آپ کے ہم منصب لیکن پی سی او زدہ چیف جسٹس جناب جسٹس ارشاد حسن خان نے لیا تھا، اور وہ چیف جسٹس کیسے بنے تھے، اگر آپ کو ناگوار خاطر نہ ہو تو تھوڑا عرض کردیتا ہوں اور ڈرتا بھی ہوں کہ کہیں توہین عدالت نہ لگ جائے۔

اسی پرویز مشرف سے حلف لیا، جس نے 12 اکتوبر کو آئین سے غداری کی، اپنے حلف سے غداری کی، منتخب حکومت کا تختہ الٹا، وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا، قلعوں کی کال کوٹھڑیوں میں ڈالا، ملک بدر کیا، ہزاروں سیاست دان جیلوں میں ٹھونس دیے، چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو طلب کرکے فرمان جاری کیا، کہ ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جائے؛ انکار پر انھیں 6 دیگر جج صاحبان سمیت رخصت کردیا۔ یوں ارشاد حسن خان کی سربراہی میں، من پسند عدالت بنائی؛ من مانگے فیصلے لیے۔ ایجینسیوں کے ذریعے سیاسی طہارت گاہوں کے کوزے بنائے، داغ داغ لوگوں کا مجمع لگایا، ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کی کھلی سر پرستی کی، شرم ناک ریفرنڈم کرایا؛ علی ہذاالقیاس۔ اسی پرویز مشرف سے آپ کی عدالت عظمی کے پی سی او زدہ چیف جسٹس نےحلف لیا اور اسے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی بھی عنایت فرمائی۔

کیا اس وقت آئین اور قانون کے محافظ اور آپ کے پیش رو صحیح کرہے تھے؟ اور اگر وہ صحیح نہیں کررہے تھے، تو آپ کو صبر اور برداشت ہی سے کام لینا چاہیے۔ جس طرح ہم عوام صبر اور برداشت کے گھونٹ پی رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •