قصہ چہار درویش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی پرست و کاتبانِ تہی دست بصد بندوبست درویشِ سوم کا سفرنامۂ جگر خراش و فسانۂ دل پاش اس کی زبانی یوں بیان فرماتے ہیں کہ:
”جنگل کی کٹیا میں آسودہ اس سودائی کے دل نابکار میں عجب سودا سمایا کہ تخت ہزار ے چل بلھیا۔ پس خاک زادے نے واسطے اپنی رسوائی کا ساماں کرنے کے مثلِ خچر اپنا ساماں اٹھایا اور خدا کا نام لے کر روانہ ہوا۔ شام ڈھلتی تھی کہ جنگل کی گھاٹیاں عبور کرتا مانندِ ناگن بل کھاتی ایک پختہ سڑک پر جا پڑائو ڈالا۔ آفتاب افقِ مغرب میں واسطے آسودہ ہونے کے بے تاب تھا، پکھیرو اپنے گھروں کو پلٹتے تھے اور شوقِ سیاحت کا مارا یہ مسافرِ تنہا و بے نوا عازمِ پردیس ہوتا تھا۔

دفعتاً کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مفلوک الحال اور کھچکی ہوئی لاری جو اپنے بنانے والے کو کوستی تھی، اس بے خانماں کے پاس آ کر رک گئی، واسطے اسے اٹھا کر منزل پر پہنچانے کے۔ اس پھٹیچر کی پیشانی پر ”بریک ہے نہ ٹائر ہے، باقی سب خیر ہے‘‘ لکھا دیکھ کر یہ آبلہ پا گھبرا کے پیچھے ہٹا مگر مسافروں کو سوار کرانے پر مامور ایک تند خو مردِ بے ہودہ نے اس جنگل زادے کو مانندِ بکرا گھسیٹ کر لاری میں ڈالا، جہاں تِل دھرنے کو جگہ نہ ہووے تھی۔ کھٹارے نے جھٹکے سے حرکت کی تو یہ مسافرِ ناتواں لڑکھڑا کے اس کے فرشِ زنگ آلود پر گرا اور نوشتۂ کاتبِ تقدیر سمجھ کر اسی مقام کو اپنا مسکن بنا لیا۔ وہ تند خو قلم کان پر دھرے قریب آیا اور درویش کا حلیۂ فقیرانہ دیکھ کہ طنزاً فرمایا ”اَج فوجاں کتھے چلیاں نیں؟‘‘ گناہگار نے خلاصۂ مقصدِ ہجرت سنایا تو اس مردِ نامہرباں نے چار صد روپے سکہ رائج الوقت زرِ سفر کی مد میں اینٹھ لیے۔ اس اِنجر پنجر ڈھیلے چھکڑے نے بعد از پوری شبِ دیجور کی مسافتِ جاں سوز کے ایک شہرِ ستمگراں میں لا پھینکا تو اس بندۂ حقیر کا اِنجر پنجر بھی ڈھیلا ہو چکا تھا۔

یا حیرت! یہ غریب الدیار اس ملکِ پُر شور میں آف شور کمپنیوں کا شور سنتا جاوے تھا اور شرماوے تھا۔ معلوم پڑا کہ بدعنوانی کے بطن سے جنم لینے والی ایسی کچھ کمپنیاں حلال اور کچھ حرام ہوویں ہیں۔ عجب مردانِ شاد جو احتساب کے شوقین تھے اور بڑے ہی رنگین تھے۔ سارے ہی ایماندار تھے جن کے سخن ہائے گفتنی شاندار تھے۔ اول و آخر پرہیزگار جن کے واسطے دنیاوی دولت بے کار۔ اتحادِ امت کے داعی مگر منتشر اور باہم برسرِ پیکار۔ ہر کوئی پانامہ لیکس نامی کسی بلا پر چیں بہ جبیں اور پیراڈائز لیکس پر غمگیں۔ ملت کے مقدر کا ہر ستارہ بدعنوانوں کو بے نقاب اور انہیں لٹکانے کے واسطے بے تاب۔ اس سلطنتِ پراسرار میں بدون دانش شخص ڈھونڈنا کارِ دارد مگر گفتگو میں رَتی برابر دانش ندارد۔ کوزہ گر سنیاسی باوے رنگا رنگ چورن بیچتے تھے، واسطے قوم کو مصائب کے گرداب سے نکالنے کے۔ وہ مائنس ون فارمولے بناتے تھے مگر ذرا نہ شرماتے تھے۔ مافوق الفطرت آدم زاد جو دھرنا دینے کے دلدادہ تھے اور بات بات پر دھمکیاں دیتے کہ ”دھرنا دیویں گے‘‘ بھلے مانسوں نے اپنے شوقِ دھرنا کی تسکین کے واسطے خرد و فہم کے راستے میں بھی مستقل دھرنا دے رکھا تھا، جو فرماتے تھے کہ ہرگز کسی نئی سوچ کو اندر حدود سلطنت داخل نہ ہونے دیویں گے۔

واللہ! وہ مخولیا مزاجوں کے ٹاک شو منعقد کراتے تھے۔ مداریوں کے تماشے اور شیشہ گروں کے شو دیکھنے کے خوگر، جن کے خیالات کو شوگر۔ ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سرائے میں ٹی وی نامی طلسمی صندوق کے گرد آدم زاد جمع ہیں۔ جمہوریت نامی کسی حرافہ سے نالاں زعمائے ملت کو اس صندوق میں مجسمِ غیظ و غضب پایا‘ جو فرماتے تھے کہ واللہ بھوکے مر جاویں گے مگر غلامی کی زنجیروں کو ٹوٹے ٹوٹے کرکے دم لیویں گے۔ ان کا عزمِ صمیم و ضخیم دیکھ کر اس جاہلِ مطلق پر عقدہ وَا ہوا کہ یہ غیرت کے پتلے ایک دشمن عالمی طاقت کی غلامی سے نجات کے واسطے کمربستہ ہیں۔ عجب تماشہ دیکھتا ہوں کہ پورا ماحول رنجیدہ و سنجیدہ ہے مگر ایک نوجوان وانگ سودائیاں ہنستا تھا۔ یہ بندۂ پر تقصیر کھسک کر اس کے قریب ہوا اور سوال کیا کہ اے فاترالعقل صاحبزادے، کونسی بات تجھے ہنساتی ہے جبکہ اس مقام پر ہر ذی روح آزردہ و پژمردہ ہے؟ اس مردِ عجیب نے میرے کان میں فرمایا ”فاترالعقل ہوں نہ سودائی، ہنستا ہوں یوں کہ یہ جس دشمن کی غلامی سے واسطے نجات کے تڑپتے ہیں، اسی کے ویزے کے واسطے قطار بناتے ہیں اور اپنی اولادوں کو اسی کی دانش گاہوں میں تعلیم کے زیور سے آراستہ فرماتے ہیں۔ جن پر تبرے ارسال فرماتے ہیں، انہی کی خیرات کے ذرے غیرت مند اصحابِ غم و غصہ کے دانتوں میں ہیں‘‘۔ مسافر اس سخنِ عجیب و غریب کو حیرت سے سنتا تھا اور وہ پُراسرار نوجوان وانگ سودائیاں ہنستا جاوے تھا۔

ایک شب یہ مفقودالخبر غریب زادہ شہرِ خرابات میں مثلِ آوارہ جاتا تھا کہ ایک بڑی عمارت پر بچشمِ گناہگار مختصر لباس ناروں کی دیو ہیکل تصاویر دیکھیں کہ جن پر نظر پڑے تو ایمان جاوے۔ یہ عاصی و خاطی اس مقامِ حیرت کا منہ کھولے نظارہ کرتا تھا کہ ناگاہ ایک مردِ مستانہ کو دیکھا جو دیوار سے ٹیک لگائے چرس کے سوٹے لگاوے تھا اور رنجِ دل مٹاوے تھا، ساتھ ہی اپنی رفیقۂ دل نشیں سے اٹھکیلیاں بھی فرماوے تھا اور ”پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم‘‘ گنگناوے تھا۔ درویشِ سادہ نے اس سے عرض کیا کہ اگر اس دشمنِ ایماں عمارت کی بابت مطلع فرماوے تھا تو کرمِ شاہانہ سے بعید نہ ہووے گا۔ اس فٹے منہ نے سگریٹ کا دھواں اس عاجز کے منہ پر پھینک کر فرمایا کہ یہ تھیٹر ہے، یہاں ڈرامہ ہووے گا جو تجھ ایسے کمزور دل سے برداشت نہ ہووے گا۔ یہ سخنِ حیرت ناک سن کر اس فقیر زادے کو شیطان نے بہکایا اور دلِ بے ایماں کو ڈرامہ دیکھنے کا شوق چرایا۔ پس بعوض زرِ کثیر ٹکٹ خریدا اور منتِ درباں کر کے کراں تا بہ کراں پھیلے کمرے کی ایک نشست پر اپنا عصا ٹیک کے پڑائو ڈال لیا۔ یا حیرت! خاک زادہ بھانڈوں کے سخن ہائے عامیانہ سن کے شرماوے تھا اور زمین میں گڑ گڑ جاوے تھا۔

پھر ایک دھماکا ہوا اور ایک وزنی خاتونِ بے باک، لبادہ جس کا شرمناک، سٹیج پر مثلِ برقِ بلا کوند گئی، واسطے اعضا کی شاعری کرنے کے۔ بخدا اس رقصِ الامان و الحفیظ میں شاعری تو مفقود تھی مگر اعضائے بے حجاب و بے حساب کی زہد شکن ہلڑ بازی موجود تھی۔ اس لکشمی مانندِ شیرنی زخمی کے لبادۂ تنگ کے آگے اس فقیر کی تنگدستی حقیر تھی اور صورتحال بڑی گمبھیر تھی۔ واللہ! اس حسینۂ گلِ گوبھی بدن کے ٹھمکا ہائے ظالمانہ پر سورج سوا نیزے پر آوے تھا ، یہ جنگل زادہ گھبرا کے ڈگمگاوے تھا اور اپنا عصا مضبوطی سے پکڑ کر لرزاں بدن کو گرنے سے بچاوے تھا۔ تماشا گرانِ رقصِ ہولناک اس رقاصۂ واہیات کی نظرِ التفات و اشارہ جاتِ شرمناک کی شہ پا کر سیٹیاں بجاتے تھے اور فریقین ذرا نہ شرماتے تھے۔

نصف شب یہ درویشِ خرقہ پوش و متاثرۂ رقصِ فحش بعد از نیکیوں کے زیاں، حیراں و پریشاں ٹھکانے پر جاتا تھا کہ ایک ناکے پر قانون کے رکھوالوں نے سواگت کیا۔ ان کے سالارِ آتش مزاج نے ہمراہ مسکراہٹِ زہر خندہ سوال کیا ”واسطے کون سی واردات کرنے جاتا ہے اے بندۂ بے حیا؟‘‘ یہ سخنِ عامیانہ سن کر ترش لہجے میں جواب دیا ”غریب الوطن کی ریشِ سفید کا کچھ خیال کر اے بندۂ خدا، تجھے شرم نہ حیا‘‘ اس سخنِ گسترانہ پر وہ ظالم غضب ناک ہوا اور بعد از مناسب ٹھکائی یہ نردوش داخلِ حوالات ہوا۔ پس شب بھر یہ تیرہ بخت پسِ زنداں رہا اور واسطے کھٹملوں اور مچھروں کے عیش و عشرت کا ساماں رہا۔ قصہ مختصر، ذوقِ سیاحت کو افاقہ ہوا اور اگلے دن بعد از رہائی بعوض زرِ کثیر یہ مسافرِ خستہ حال کھیسہ و آبرو لٹا کے برادرانِ ملت کی روشِ بندہ پروری کو دعائیں دیتا جنگل کی طرف بھاگا کہ:

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •