ایک طوائف کی دعا
ابھی پچھلے دنوں ’’ہم سب ‘‘ پر ’’پاکستان میں جسم فروشی کے ڈیرے‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل پڑھا تو اپنا ایک پرانا تحقیقی مضمون یاد آگیا جو میں نے روڈ سیکس ورکرز پر کوئی بارہ، پندرہ سال پہلے لکھا تھا۔ وجہ یہ بنی کہ اس وقت میں نے پنجاب یونیورسٹی میں جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کی ڈگر ی حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا ہوا تھا کہ مجھے گلوبل پوزیشنل سسٹم یعنی جی پی ایس کا تعارف ہوا کہ کس طرح اس کی مدد سے ہم پوری دنیا میں نہ صرف اپنا محل وقوع جان سکتے ہیں بلکہ اس سے یورپی ممالک میں بڑے بڑے کام لیے جا رہے ہیں۔ جدید راستہ بتانے والا نیوی گیشن سسٹم بھی اسی جی پی ایس سسٹم کا مرھون منت ہے۔ پاکستان میں اس وقت نیوی گیشن کے آلات دستیاب نہ تھے جیسے Hand Held GP وغیرہ، مگر امریکہ میں ایسے آلات ملنا شروع ہوگئے تھے۔ میرے لیے ایسا آلہ بےحد پرکشش تھا۔ لہذا میں نے بھی بڑی تگ و دو کے بعد ایک جی پی ایس گیجٹ امریکہ سے منگوا ہی لیا۔ پہلے تو میں نے اس آلہ کی مدد سے لاھور کا ڈیجیٹل نقشہ اصل جیوریفرینسنگ کے ساتھ کمپیوٹر پر بنایا پھر اس نقشے کی نوک پلک سنوارنے کے ساتھ ساتھ ان نقشوں کو کئی تحقیقی کاموں کے لیے بھی استعمال میں لانے لگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ آلہ کیا ہاتھ لگا کہ بس میں تو اس چوھے کی مانند پنساری بن گیا جسے کہیں سے ہینگ مل گئی تھی۔
اسی دوران کچھ محفلوں میں جب روڈ سیکس ورکرز کے بارے بات چیت چلی تو توسوچا کیوں نہ اس Hand Held GPS کو ان روڈ سیکس ورکرز کے روز مرّہ معاملات کو ٹریس کرکے ان کا بھی ایک ڈیجیٹل میپ بنا کر اس کا spatialتجزیہ کیا جائے۔ کچھ دوستوں سے بات کی تو اس کے باوجود کہ کچھ دوستوں نے اس کام سے روکا کہ کس گند میں پڑنے لگے ہو انہی میں سے کچھ دوستوں نے اس آئیڈیے کو سراہا۔ مگر اس سے آگے بھی کام کوئی اتنا آسان نہ تھا کیونکہ روڈ سیکس ورکرز سے ابتدائی بات کرنے سے لے کر ان کو انٹرویو کے لیے تیار کرنا ایک جان جوکھوں کا کام تھا۔ پھر یہ کہ ان کی پہچان کیسے ہو کہ سڑک کے کنارے کھڑی لڑکی کسی عزیز کے انتظار میں ہے یا کسی شکاری کے۔ اب اس کی پہچان تو کوئی ایک شکاری ہی کرسکتا تھا جہاں وہ بطور شکار کھڑی ہوتی ہیں۔ مگر یہ کام بھی کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔ مگر ہمت مرداں مرد خدا، ہمیں کچھ دوستوں کی وساطت سے ایسے شکاری مل گئے جن کو اعتماد میں لے کر اپنے کام کے لیے راضی کرلیا۔ اس بابت ہم نے اپنے کچھ مقامی محکمہ پولیس میں موجود دوستوں کو بھی آگاہ کیا تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں وہ ہمیں کسی مصیبت سے نکال سکیں۔ کیونکہ کئی دفعہ پولیس والے، پہلے سے ہتھے چڑی ہوئی جنسی مزدور خواتین کو پہلے خود ہاتھ صاف کرکے، پھر اسے بھی چارے کے طور پر سڑکو ں پر کھڑا کیا ہوتا تھا، جس کے ذریعے وہ شکاریوں کو شکار کر کے اچھی خاصی کمائی کیا کرتے تھے۔ یہ تو بھلا ہو اب منہ زور میڈیا اور موبائل کیمروں کا، جو ہر جگہ دندناتے پھرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پولیس کی کمائی کا یہ ذریعہ اب اتنا منافع بخش نہیں رہا۔
بہرحال دوران تحقیق، نہ صرف ان روڈ سائیڈ سیکس ورکر ز کے محل وقوع، یعنی جہاں وہ کثرت سے کھڑی ہوتی تھیں، کا ایک حیرت انگیز ڈیجیٹل نقشہ معرض وجود میں آیا بلکہ ان جنسی ورکرز کے ذریعے بے شمار کہانیاں بھی سننے کو ملیں جس نے میری آنکھیں کھو ل کر رکھ دیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی روڈ سیکس ورکر کا منہ کھلوانا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ فضول سوالوں کے بجائے اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے زیادہ بتانا بھی پسند نہیں کرتیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کی سچی جھوٹی کہانی سننے کے لیے کسی کے پاس ٹائم بھی نہیں ہوگا اور اگر کوئی ان کی کہانی سن بھی لے گا تو زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا؟ ذرا سا اظہار افسوس اور پھر وہی کام۔ مگر ان میں سے کئی ایسی بھی تھیں جن کا ہم اعتماد لینے میں کامیاب ہوئے اور پھر معلومات کا ایسا ذخیرہ ملنا شروع ہوا کہ اس نے نہ صرف میری آنکھیں کھول کر رکھ دیں بلکہ میرا تحقیقی مقالہ مکمل ہوگیا۔ میرے انٹرویو میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کوئی منفرد گاھک یا کہانی اگر وہ سنانا چاہے۔ تو آج میں ایک سیکس ورکر کے منفرد گاھگ کی کہانی شئیر کرنے جارہا ہوں۔
اس کا نام ’’ندا‘‘ (یہ فرضی نام ہے) تھا۔ جو اس شعبے سے اب ریٹائرمنٹ کے قریب تھی کیونکہ سیکس ورکر کی زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی عمر 35 سال تک چلتی ہے اس دوران اگر وہ اپنا کاروبار سیٹ کرلے مثلاً اپنا کوئی ڈیرہ وغیرہ بنا لے تو ٹھیک ورنہ پھر وہ کسی اور کام کی نہیں رہتی۔ ہاں کچھ بعد میں دوبارہ گھریلو ورکر یا فیکٹری ورکر بھی بن جاتی ہیں۔
ندا ایک پٹولہ سی، پرکشش مگر عمر کھاو قسم کی خاتون تھی مگر عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے آنٹی نائکہ نے اپنے ڈیرے سے نکال دیا تھا کہ اس کی اسے اب اتنی ڈیمانڈ نہ رہی تھی۔ کیونکہ اب آنٹی کے ڈیرے پر نئی نویلی کم عمر خوبصورت لڑکیوں کا اضافہ ہوچکا تھا۔ لہذا یہ چار وناچار اب سڑک پر آ گئی تھی رات کو تھُڑے لوگوں کی کمی بھی نہیں ہوتی اور کام چلتا رہتا ہے چاہے کم قیمت پر ہی اور وہ بھی چاء رہی تھی کہ کہ چلو مکمل ریٹائرمنٹ سے پہلے، جتنا جسم بک سکتا ہے اسے بیچا جائے پھر اس کے بعد دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اسکی کہانی بھی دوسری سیکس ورکرزسے مختلف نہ تھی۔ اسی نے بتایا کہ کس طرح وہ اس پیشے میں آئی کہ چھوٹی عمر میں شادی اور خاوند نشے کا عادی، تنگ آکر بطور ماسی کام شروع کیا تو گھروں کے معزز مالکان کی کھینچا تانی تھی کہ ختم ہونے کو نہ آ رہی تھی۔ حتیٰ کہ جہاں وہ کام کرنے جاتی تھی وہاں بیٹا، باپ اور پھر دادا کا بھی جتنا بس چلتا وہ کوئی موقع ھاتھ سے نہ جانے دیتے۔ جب پریشانی حد سے زیادہ بڑھی تو ایک ہمدرد خاتون سنہرے سپنے دکھا کر کراچی لے آئی اور پھر وہ ایک آنٹی کے ڈیرے سے منسلک ہو گئی۔ جس نے نہ صرف اسکی آوٹ لُک بدلی بلکہ کام کا ہنر بھی سکھایا۔ لہذا آنٹی کی توجہ اور شفقت کی وجہ سے اسکی آمدن اچھی ہونے لگی۔ اور اس طرح، اسکی نہ صرف گھریلو کام کی ملازمت سے جان چھوٹ گئی بلکہ مفت کے جنسی تشدد جیسی دھری مشقت سے بھی چھٹکارہ مل گیا۔ اور رہا سوال عزت کا تو انکے بقول عزت، Virginity وغیرہ متوسط طبقے کا ہی شاید مسئلہ ہو جبکہ غریب اور اشرافیہ کا ان فضولیات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہی دنوں جب ندا کو خوب کام مل رہا تھا، ایک عربی شیخ صاحب نے کراچی کا نجی دورہ کیا تو انہوں نے آنٹی کے ڈیرے سے سب سے پہلے رابطہ کیا اور تین خوبصورت لڑکیوں کی مانگ کی۔ آنٹی نے پندرہ بیس لڑکیاں اس کے پاس بھیج دیں اور سب کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دیکھو لڑکیو! یہ تمہارا کک اسٹارٹ ہے۔ تم میں سے جو بھی تین لڑکیاں سلیکٹ ہوگئیں سمجھ جاؤ کہ ان کا مستقبل بن جائے گااور انہیں پھر ہوسکتا ہے کہ دوبارہ اس دھندے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ سن کر ندا کہنے لگی کہ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اور یہی کیفیت دوسری لڑکیوں کی بھی تھی۔ بس پھر کیا تھا بقول ندا کے اس نے اسی وقت اپنے کمرے میں جارکر وضو کیا اور مصلہ بچھالیا اور منت کے نفل پڑھنے شروع کردئیے اور اس کے بعد گڑ گڑا کر اللہ کے حضور دعا مانگی کہ اس پر شیخ صاحب کی نظر التفات ہوجائے تو وہ یہ دھندہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گی۔ تو کیا تم لوگ نمازیں بھی پڑھتی ہو۔ میں نے بدک کر سوال کیا۔ جی کیوں، ہمیں کیا منع ہے؟ کہ ہم ساتھ راتیں گزارنے والے کوئی نماز نہ چھوڑیں بلکہ نمازیں پڑھائیں بھی تو ہم میں کیا خرابی ہے۔ اللہ سے راز و نیاز ہمارا ذاتی مسئلہ ہے جبکہ دھندہ زندہ رہنے کے لیے۔ سادہ سی بات ہے۔ ٹھہرو ٹھہرو! نمازیں پڑھائیں بھی؟ اس سے کیا مراد ہے آپ کی ندا؟ جی رہنے دیں۔۔۔ بس اتنا یاد رہے کہ رات کے اندھیرے میں کئی امام مسجد بھی ہمارے گاھک ہوتے ہیں۔ اور بتاؤں؟ نہیں نہیں بس رہنے دیں آپ اپنی زندگی کا منفرد واقعہ بتانا جاری رکھیں۔
جی! تو اللہ اللہ کرکے وہ دن بھی آپہنچا جب ہم عربی شیخ صاحب کے سامنے پیش ہوئیں اور شیخ صاحب نے ان پندرہ بیس لڑکیوں میں سے آٹھ لڑکیاں الگ کیں اور باقیوں کو واپس آنٹی کے پاس بھیج دیا۔ خوش قسمتی سے میں بھی ان آٹھ لڑکیوں میں شامل تھی۔ جبکہ تین لڑکیوں کی فائنل سلیکشن ابھی ہونا باقی تھی۔ لہزا مقابلہ بے حد سخت تھا۔ ندا کے مطابق ان دس لڑکیوں کو شیخ صاحب نے فی کس تین تین لاکھ روپیہ دیا اور کہا کہ ایک ھفتہ تک ان پیسوں سے جتنی شاپنگ کرنی ہے کرلیں۔ اور اپنے آپ کو جتنا سنوارنا ہے سنوار لیں۔ تم میں سے باقی تین چنی جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ بات کوئی آج سے بیس پچیس سال پرانی ہے کہ جب یہ رقم بھی کوئی کم نہ تھی۔ بس پھر کیا تھا’’ ندا‘‘ اور اس کی ساتھی لڑکیوں نے اچھے سے اچھا لباس، میک اپ کا سامان، پرفیوم اور ہر وہ چیز لی جس سے وہ شیخ صاحب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرسکیں۔ اس دوران صرف ندا ہی نہیں اسکی سب ہم پیشہ لڑکیوں نے اپنے اپنے عقیدے کے مطابق، دعا کے ساتھ ساتھ مختلف مزاروں پر بھی منت مانگنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔، کئی تو مصلے پر ہی بیٹھی رہتیں کہ شائد ’’ندا‘‘ کے بقول، اللہ کرم ہی کر دے اور شیخ صاحب انہیں اپنے بستر کی زینت بنا لیں۔
اور پھر وہ دن بھی آگیا جب ہم آٹھ لڑکیوں کو شیخ صاحب نے فائنل سلیکشن کے لئے بلا بھیجا ۔ بس پھر کیا تھا، ہم خوب تیار شیار ہوکر دو قیمتی گاڑیوں پر روانہ ہوئیں۔ مگر جانے سے پہلے ہمارے ڈیرے کی آنٹی نے بھی ہمیں بڑی دعائیں دیں۔ اور کہا کہ دیکھنا بیرون ملک جا کر آنٹی کو نہ بھول جانا کیونکہ وہ ان کا مستقبل تابناک ہی دیکھنا چاھتی ہیں۔ آنٹی خود بھی بڑی خوش تھی کہ شیخ صاحب نے اس کے ڈیرے کو عزت بخشی اور اسے بھاری بھرکم کمیشن بھی ملی تھی۔
بہرحال ندا اپنی ساتھیوں سمیت بعد از شام ڈھلتے ہیں شیخ صاحب کے لگژری ہوٹل کے لگژری سوٹ پہنچے۔ اور استقبالیہ کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ اور پھر بتایا گیا کہ شیخ صاحب نماز سے فارغ ہوکر آتے ہیں۔ پھر جیسے ہی شیخ صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں شیخ صاحب کے آدمیوں نے ایک قطار میں کھڑا کر دیا۔ ہم سب نے شیخ صاحب کو سلام کیا اور شیخ صاحب نے ھاتھ میں تسبیح پکڑے ہمیں بغور دیکھنا شروع کردیا۔ میرا تو دل اتنا تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ لگتا تھا کہ شائد ابھی باہر جا پڑے۔ اور جب شیخ صاحب نے مجھے بھی غور سے دیکھنا شروع کردیا تو میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔ اورپھر مجھے جتنی دعائیں یاد تھیں میں دل ہی دل میں دھرا بھی رہی تھی۔ آخر شیخ صاحب نے ایک لڑکی کو اشارہ کیا۔ کہ وہ ایک طرف کھڑی ہوجائے۔ میرے دل کی دھڑکنیں اور تیز ہوتی جا رہی تھیں کہ شیخ صاحب نے دوسری لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بھی سائیڈ پر ہوگئی۔ اب ایک لڑکی رہ گئی تھی۔ اور مقابلہ ہم چھ لڑکیوں میں رہ گیا تھا۔ اب شیخ صاحب نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر آخری کنارے کھڑی لڑکی کو۔۔۔۔ بہت عجیب کیفیت تھی میری۔ شائد وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ مجھے چنے یا اسے۔ پھر اس کی انگلی اٹھی اور اس نے دوسری لڑی کو سیلیکٹ کرلیا۔ میرے سارے خواب دھڑام سے گر گئے۔ ساری عبادتیں ریاضتیں جو ان دنوں میں نے کی تھیں سب اکارت گئیں۔ مگر پھر بوجھل قدموں اور افسردہ دل کے ساتھ آنٹی کے ڈیرے پر واپس آگئی اور کئی روز تک جم کر کام نہ کرسکی مگر پھر یہ سوچ کر کہ ایک در بند سو در کھلےدوبارہ سے کام پر لگ گئی۔
اور دوسری طرف۔۔۔۔ یہ کہانی سنتے ہوئے۔۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا ہماری زیادہ تر دعاؤں، ریاضتوں، عبادتوں، کے پیچھے اسی قسم کی نیتیں، خواھشات، مفادات یا مجبوریاں ہی ہوتی ہیں ؟






