مڈل کلاس عوام اور بزنس کلاس افسران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

چائے کی میز پر سابق سیکرٹری ٹرانس پورٹ، بڑے فخر سے بتا تے ہیں کہ میں نے آج تک کبھی جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر نہیں کیا؛ ہمیشہ بزنس کلاس ہی میں ہوائی سفر کرتا ہوں۔ دوسری طرف ٹی وی اسکرین پر ٹریفک حادثے کی خبر چل رہی ہے، کہ مسافر بس کے تصادم سے سولہ قیمتی جانوں کا نقصان۔ ہر طرف کہرام کا سماں اور فضا سوگ وار۔ یہ نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نا ہی آخری۔ ہر روز ٹریفک حادثات کے درجنوں واقعات رُونما ہوتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت تک گوارا نہ کی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور آیندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کون سے اقدامات کرنے چاہیے۔

روز مرہ زندگی میں ذرائع نقل و حمل بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ تیز رفتاری کے اس ترقی یافتہ دور میں اس کی اہمیت اورافادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ اسکول، دفاتر، اسپتال یا کسی بھی تفریحی جگہ جانے کے لیے سائیکل سے لے کر موٹر سائیکل، کار، وین اور بسوں سمیت درجنوں ذرائع نقل و حمل ہیں، جس کے ذریعے ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں۔ ان جدید سفری سہولیات نے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ سائنسی ترقی جہاں بہت بڑی نعمت ہے وہیں پر اس کے استعمال میں بے پروائی سے، آسانی تنگی بن کر تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) کے مطابق اس وقت روڈ ایکسیڈنٹ اموات کی پندرھویں بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اگر ان مسائل کا بروقت تدارک نہ کیا گیا، تو2030ء تک روڈ ایکسیڈنٹ اموات کی پانچویں بڑی وجہ بن جائے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق پاکستان میں آخری دس سال میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ تعداد ہے جو باقاعدہ پولیس رِکارڈ کا حصہ ہے۔ ”اوور آل“ یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔

پاکستان میں ہر روز اوسطاً پندرہ لوگ ٹریفک حادثات کی وجہ سے جان سے ہاتھ سے دھو بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح سالانہ نو ہزار کے قریب ٹریفک حادثات رُونما ہوتے ہیں، جن میں پانچ ہزار کے قریب لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور شدید نوعیت کے حادثات میں بعض زخمی زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو جاتے ہیں اور معذوری کے روگ کے ساتھ بے بسی اور ناچاری کی کیفیت میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے ہیں۔ جانی نقصان کی علاوہ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی صورت میں مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔

عالمی مشاہداتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پچانوے فی صد حادثات ڈرائیور کی بے پروائی، کوتاہی، یا غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی فی صد ڈرائیور اور مسافر ضروری حفاظتی اقدامات اختیار نہیں کرتے ہیں۔ ٹرانس پورٹر حضرات جو نفع خوری کے عادی اور انتہائی طمع پرست ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وین، منی مزدا یا بس غرض کوئی بھی سواری ہو ”اوورلوڈنگ “ تو اس کا جزو لازم بن چکا ہے۔ نفع خور ٹرانس پورٹر سیٹیں مکمل ہونے کے بعد مسافروں کی ایک لمبی قطار کھڑے کیے بنا چلنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ مزید ازاں کوسٹر کی چھت پر سوار کرنا بھی امر لازم بن چکا ہے۔ ہائی ایس ٹویوٹا والے چودہ سیٹر وین میں بائیس افراد سوار کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں اور رہتی سہتی کسر’’ٹول بکس‘‘ پر دو مسافر بٹھا کر پوری کرلیتے ہیں۔ فرنٹ سیٹ پر تین افراد کی ’’اوور لوڈنگ‘‘ کرنے سے ڈرائیور پوری مہارت سے گاڑی کو کنٹرول نہیں کر پاتا جو حادثات کا سبب بن رہا ہے۔

شرم ناک پہلو یہ ہے کہ درجنوں مسافروں سے بھری گاڑی کو چلانے والے ڈرائیور حضرات کی اکژیت کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور فٹنس سرٹیفکیٹ تک نہیں ہو تا۔ اگر کسی کا لائسنس بن بھی جائے تو سب جانتے ہیں کہ لائسنس برانچ کا میعار صرف اور صرف رشوت ہے۔ اس ’’معیار‘‘ پر پورا اُترنے والے اندھوں کو بھی گاڑی چلانے کا این او سی مل جاتا ہے۔ یہاں پر قانون نافذ کرنے والے محافظوں کی بات کی جائے تو وارڈن بھی مال بناو پالیسی پر گام زن ہیں۔ عام افراد کو بلا وجہ تنگ کیا جاتا ہے جب کہ پبلک ٹرانس پورٹرز کو منتھلی کے عواض ڈرائیونگ لائسنس، فٹنس سر ٹیفیکیٹ اور روٹ پرمٹ چیک کرنا تو درکنار زائد کرایہ وصولی کی بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہوتی ہے۔ پبلک ٹرانس پورٹ ڈرائیوروں کی اکژیت ان تمام قانون شکنیوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ، افیون اور چرس کی مہلک مرض کا شکار بھی ہیں۔ شاید ان ڈرگز ہی کا اثر ہوتا ہے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد ایکسیلیٹر پر پاوں آتے ہی یہ اس ’’زمینی سواری‘‘ کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہی ’’اوورسپیڈ‘‘ حادثات کا اہم پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب تکلیف دہ مناظر ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔

سرعام یہ ظلم و ستم ہورہا ہے لیکن انتظامیہ اور متعلقہ ادارے یہ سب دیکھنے والی بینائی سے قاصر نظر آتے ہیں۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن نیچے سے اُوپر تک جیب گرم ہوتی ہے اس لیے سب اچھا ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے ہاں پبلک ٹرانس پورٹرز کی اکژیت پڑھی لکھی تو دور کبھی اسکول تک نہیں گئے ہوتے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائی جائے تو ہمیں ایک دو نہیں سیکڑوں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ جہاں پبلک ٹرانسپورٹر کے لیے باقاعدہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں ڈرائیور کنڈکٹر اور ہیلپر کو تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ اس لیے وہاں ٹریفک حادثات کی تعداد پاکستان سے بہت زیادہ کم ہے۔ ان حالات میں انتہائی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں بھی شعبہ ٹرانس پورٹ سے وابستہ افراد کے لیے تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کیے جائیں اور وقتاً فوقتاً گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ پرتال کو لازمی بنایا جائے اور روڈ سیفٹی کے لیے سڑک سے آگاہی کے بورڈ بھی نصب کیے جائیں، تاکہ ٹریفک حادثات پر کنٹرول کر کے قمیتی جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبے بہترین پیش رفت ہیں اس سے یقینا عام عوام کو بہترین۔ آرام دہ اور تیز ترین سفری سہولیات ملیں گی لیکن جہاں پر یہ سہولت میسر نہیں وہاں کی صورت احوال یہ ہے کہ گھر سے نہا دھوکر صاف شفاف اجلے کپڑے پہن کر لوکل ٹرانس پورٹ کے ذریعے دفتر یا دوسرے شہر جانے والے مسافرجب منزل مقصود پر پہنچتے ہیں، تب تک ’’اوورلوڈنگ‘‘ کے نتیجے میں مسافروں کی دھکم پیل سے اجلے کپڑے گرد الود ہوچکے ہوتے ہیں۔ جب کہ چمچماتی پالش والے جوتے اس طرح گرد سے اٹے ہوتے ہیں کہ ابھی کسی کیچڑ سے نکالے ہوں۔ ایسی حالت میں جب غریب عوام ان ’’بابو افسروں‘‘ کے پاس جاتے ہیں، تو وہ ناک منہ بسور کر ملتے ہیں۔ مگر المیہ ہے کہ ٹیکس دینے والی غریب عوام کو تو پبلک ٹرانس پورٹ میں زائد کرایہ دے کر بھی عزت سے سفر کی سہولت میسر نہیں، جب کہ اسی غریب عوام کے ٹیکسوں سے شاہانہ زندگی گزارنے والے افسران پوری شان و شوکت سے ائرکنڈیشنڈ دفاتر، لگژری گاڑیوں اور بزنس کلاس جہاز کے مزے لوٹتے ہیں۔

جب لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے عوام اور شعبہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ انتظامی آفیسروں کی طرز زندگی میں اتنا فرق ہوگا، تو کیسے ممکن ہے کہ شعبہ ٹرانسپورٹ میں تبدیلی آسکے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے تو کبھی جہاز میں بھی اکانومی کلاس میں سفر نہیں کیا، تو اس کو مڈل کلاس طبقے کی کی لوکل ٹرانس پورٹر کے ہاتھوں ذلالت کی کیا خبر۔ اس سے ملتا جلتا احوال ہی تقریباً باقی ڈیپارٹمنٹس کا بھی ہے، جہاں یہ بزنس کلاس افسران عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے حکومتی وسائل کو ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ سمجھ کر مزے لوٹ رہے ہیں اور مڈل کلاس عوام لوئر کلاس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومتی ارباب اختیار کا فرض ہے کہ ٹرانس پورٹ جیسے اہم شعبے میں محنتی اور عوام دوست افسران کا تقرر کرکے عوام کو ’’اوورلوڈنگ‘‘ اور ’’اوورچارجنگ‘‘ کے مسائل سے چھٹکارا دلایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد سلیمان کی دیگر تحریریں