کیا ہمیں واقعی ڈاکٹر ذاکر نائک جیسوں کی ضرورت ہے؟

بھارت کے پڑھے لکھے مسلم حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا واقعی ہمیں ڈاکٹر صاحب جیسے طریقہ دعوت کی ہی ضرورت ہے؟ اس سلسلہ میں ایک پاکستانی دوست نے تبصرہ کیا کہ اسلام بہرحال دین حق ہے اس لئے اس کی حقانیت کا اظہار ایسا کون سا جرم ہے جس پر ڈاکٹر صاحب کو اپسے لپیٹا جا رہا ہے؟ میں اس بارے میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ آپ اسی مثال کو پاکستانی معاشرے کے پس منظر میں رکھ کر دیکھ لیجیے۔ مان لیجیے کہ ایک ہندو یا عیسائی مبلغ پاکستان میں اپنے ٹی وی چینل کے ذریعہ اپنے مذہب کو سچا اور اسلام سمیت دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرے، مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرانے کے مناظر نشر کرے، ایمان سے بتائیے ایسے مبلغ کا پاکستان میں کیا حشر ہوگا؟
دعوت و تبلیغ کسی بھی مذہب کا اہم جزو ہوتا ہے لیکن دعوت کا اکلوتا طریقہ صرف مناظرہ یا تکذیب نہیں ہے۔ اسلام کے سلسلہ میں ہمارے علماء، خطباء اور مبلغین کا مسلسل اصرار ہے کہ یہ دین مکمل ضابطہ حیات ہے جو دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اب ظاہر ہے اگر علماء اس ضابطہ حیات کی کماحقہ تفہیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں دعوت کے عمل میں مناظرے کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تقابلی گفتگو کے دوران کسی ایک کی خامیاں شمار کرانے کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب ہم دوسرے کی خوبیوں کا معیار پہلے کی خامیوں کی بہتات کے پس منظر میں اعلی دکھانا چاہیں۔ اب جبکہ اہل اسلام کو یقین ہے کہ اسلام کا ضابطہ حیات کامل اور بہترین ہے اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ اس کی عظمت کو بلند کرنے کے لئے ہمیں فریق مخالف کی خامیاں گنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دعوت کے حوالہ سے اسلامی مبلغین کو پورے نقطہ نظر میں ہی تبدیلی کرنی ہوگی۔ اس وقت دنیا میں لوگوں کو راستے کی جس شدت سے تلاش ہے اتنی اب سے پہلے کبھی نہیں رہی لیکن یہ لوگ ایسے ضابطہ حیات کی تلاش میں ہیں جو ہر ہر مرحلہ پر ان کا ساتھ دے سکے۔ انہیں ایسا نظام درکار ہے جو تقابل اور ترقی کی دوڑ میں پاگل ہوئی جا رہی اس دنیا میں ان کو اطمینان قلب اور ترقی دونوں دلانے کا اہل ہو، انہیں ایسا نظام چاہیے جو شمولیت پر مبنی ہو، جو ترقی پسند ہو، جس میں نئے مسائل کے ساتھ تصفیہ کے نئے دروازے کھلنے کا بھی نظم ہو۔ اب اگر ایسا نظام اسلام کی شکل میں مبلغین اور علماء کے پاس ہے تو دعوت کو اس ڈھنگ سے انجام دینے میں کیا مضائقہ ہے؟


