بے شرم کہیں کی

کہاں منہ چھپائیں گے اب؟ کسی نہ کام کا چھوڑا ماہرہ نے ہمیں۔ وہ تو ہماری عزت تھی! ہماری غیرت تھی! پھر یہ کام کیوں کیا؟ الغرض وہ دن قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔ ہر جگہ ماتم کا ساعالم تھا۔ بہت دنوں تک طبیعت بوجھل رہی۔ کسی کام میں دل ہی نہیں لگا۔ بار بار ماہرہ کا سوٹا سامنے آجاتا تھا۔ ناجانے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے ہماری غیرت کو۔
دو دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل کے گاؤں میں سولہ سالہ لڑکی کو سر عام کپڑے پھاڑ کے پورے گاؤں میں چلایا گیا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ لڑکی نے مدد کے لئے کافی در کھٹکٹائے مگر کوئی مدد کے لئے نہ آیا۔ لڑکی نے کسی گھر میں گھس کر بچانے کی کوشش کی وہاں سے بھی نکال کر لے آئے۔ پورے گاؤں نے تماشہ دیکھا تھا۔ بعض ذی شعور لمحہ بہ لمحہ وڈیو بھی بناتے رہے۔ مسلسل ایک گھنٹے چلانے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔ لڑکی کی ماں ڈھونڈتے ہوئے لڑکی تک پہنچی تو بس یہی پوچھ سکی کہ میری بیٹی کہ ساتھ کیا کیا ہے؟ جواب میں ایک غیرت مند مسلمان نے صرف مسکرانے پہ ہی اکتفا کیا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ذاتی دشمنی کی بنا پر بھائی کی سزا بہن کو دی گئی۔
اب ذاتی لڑائی تھی تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟
کیوں پرائے جھگڑوں میں اپنا خون پسینہ صرف کریں؟
اور ویسے بھی یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔
اپنے کام سے کام رکھنا ہی عقلمندی ہےآج کے دور میں۔
مگر ماہرہ نے اچھا نہیں کیا ایسے بھلا ملک و قوم کی عزت سر عام کون روندتا ہے؟
بےشرم کہیں کی۔

