نواز شریف کی پیر خادم رضوی کے خلاف مبینہ سازش


اگر کوئی بھی ذی شعور شخص تعصب کا شکار نہ ہو اور کسی خوف کا شکار ہوئے بغیر حق کی بات کرے تو یہی کہے گا کہ نواز شریف کی حکومت اس وقت حضرت پیر خادم حسین رضوی کے خوف سے کانپ رہی ہے۔ میاں صاحب خود بھی پیر پرست ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ پیر صاحب کا روحانی مقام کیا ہے۔ ایک مومن کی ہیبت سے تو صحرا و دریا دو نیم ہو جاتے ہیں، یہ تو پھر اسلام آباد کی چند سڑکیں ہیں۔

آپ خود سوچیں۔ ہزاروں کی نفری اسلام آباد پولیس کے پاس ہے۔ ہزاروں ہی پنجاب پولیس والے پنڈی میں بیٹھے ہیں۔ ہزاروں ایف سی اور رینجرز والے اسلام آباد کے کمشنر کی کال پر اٹینشن ہو جاتے ہیں۔ اور یہ ٹڈی دل مل کر بھی پیر خادم حسین رضوی کے چند سو سرفروش مریدین کو ہاتھ تک لگانے کی جرات خود میں نہیں پاتا؟ آخر کیوں؟

حالانکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب عمران خان نے اپنا دھرنا دیا تو اسی پولیس نے انقلابی نوجوانوں پر کیسا ظالمانہ لاٹھی چارج کیا تھا۔ کیسے ان کو آٹھ آٹھ آنسو رلایا تھا لیکن شیلنگ بند نہیں کی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی حکومتی اہلکار پیر صاحب کے مریدین کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا؟

اس کی وجہ پیر صاحب کا کھینچا ہوا وہ حصار ہے جس نے ان تمام مریدین کو اپنی پناہ میں لے رکھا ہے۔ یہ مرید جس شہری کے ساتھ جو سلوک مرضی کر دیں، اسلام آباد میں ان کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہ مار سکے، بڑے سے بڑا وزیر سفیر ان کے آگے مجبور ہو، مگر کوئی ان کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے۔ یہ روحانی تصرف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

لیکن کالے جادو اور نوری عمل کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ جن میں سے ایک اہم ترین حد یہ ہے کہ یہ کالے جادو اور نوری عمل پانی کے پار اثر نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف گزشتہ دنوں مشرق وسطی گئے تھے اور ان کے واپس آتے ہی دبئی کی حکومت نے نئے قوانین نافذ کرنے کا ایسا اعلان کر دیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ پیر خادم حسین رضوی صاحب کے خلاف نواز شریف سازش کر آئے ہیں۔ اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ پیر صاحب کے مریدین نواز شریف کا انتخابی اور روحانی میدان میں مقابلہ نہ کریں۔

دبئی کے نئے قوانین کے تحت کوئی شخص کسی دوسرے شخص، چیز یا جگہ کو گالی دے تو اسے دو ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا پڑے گا جو سکہ رائج الوقت میں مبلغ ستاون ہزار روپلی بنتا ہے۔ کوئی بطور احتجاج خودکشی کی کوشش کر بیٹھے تو اسے ایک ہزار درہم جرمانہ ہو گا۔

ہماری رائے میں تو یہ نواز شریف کے اشارے پر ہوا ہے۔ ہمیں گمان ہے کہ یہ ان کی گہری چال ہے۔ اس منصوبے کے دوسرے حصے میں نواز شریف کے کارندے پیر صاحب کو مرید بن کر دبئی بلا لیں گے۔ اس کے بعد پیر صاحب اپنی پہلی تقریر کرتے ہی اربوں روپے کے جرمانے کے سزاوار ہو جائیں گے۔

ماہرینِ نسل انسانی بتاتے ہیں کہ عرب یہودیوں کے کزن ہیں۔ عرب ایک روپیہ نہیں چھوڑتے تو اربوں روپے کہاں چھوڑیں گے۔ پیر صاحب کے ہم جیسے مریدین چندہ جمع کر کر کے بے حال ہو جائیں گے مگر اتنا پیسہ جمع نہ ہو پائے گا کہ ایک تقریر کا ہی جرمانہ ادا کر پائیں۔ ہمارے شیخ زائد حامد عرب شریف گئے تھے تو ان کو بھی عربوں نے پکڑ لیا تھا اور ان پر بہت ظلم کیا تھا۔ کہیں پیر صاحب بھی ایسی ہی سازش کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔

ہمیں امید ہے کہ نواز شریف کی اس سازش کا روحانی توڑ کر دیا جائے گا۔ نیز عمران خان کے 126 دن کے دھرنے کا ریکارڈ بھی توڑا جائے گا اور یہ ریکارڈ ٹوٹنے کے بعد وزیر زاہد حامد خود اپنا استعفا لے کر پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور معافی طلب کریں گے ورنہ ان کا وہ انجام ہو گا جو نواز شریف کا ہو رہا ہے۔

زاہد حامد تو شاید معافی پا جائیں، مگر نواز شریف کا معافی پانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ نواز شریف خود اقرار کر چکے ہیں کہ ان کے خلاف فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور سنائے کہیں اور جاتے ہیں۔ انہوں نے اگر ممتاز روحانی رائٹر ممتاز مفتی کو پڑھا ہوتا تو انہیں یہ علم بھی ہو جاتا کہ ان کے خلاف یہ فیصلے دراصل وہ بابے کر رہے ہیں جو مارگلہ کے علاقے کے اصل حکمران ہیں۔ نواز شریف بابوں کو ستائیں گے تو کہاں چین پائیں گے۔ ان پر پیر خادم رضوی کا قہر و عذاب ہی آئیں گے۔ بہتر ہے کہ وہ فوراً مارگلہ کے بابا جی کی سرکار میں حاضر ہوں اور اتنی گریہ وزاری کریں کہ پیر صاحب کا دل نرم پڑ جائے اور ان کو معافی مل جائے ورنہ ان پر ایسی پکڑ ہو گی کہ توبہ کر اٹھیں گے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar