پیر خادم حسین رضوی کو سنگل آؤٹ مت کریں

مانا دفتر جانے میں چار چھے گھنٹے زیادہ لگ جاتے ہیں، ہسپتال کا راستہ بند ملتا ہے، بچوں کو سکول سے چھٹی کرانی پڑتی ہے، کاروبار بند ہو جاتا ہے، مگر اس میں ایسی کیا نئی بات ہے جو صرف ہمارے شیخ کے خلاف دنیا دیوانی ہوئی جا رہی ہے۔
عمران خان نے پورے 126 دن تک دھرنا دیا تھا۔ وہ بھی اس علاقے میں جہاں پورا پاکستان اپنے کام نمٹانے آتا ہے۔ اس وقت اعتراض نہیں کیا تو اب کیسا؟
ابھی بارہ ربیع الاول کا مبارک جلوس نکلے گا۔ ملک بھر میں چھٹی ہونے کے باوجود سیکیورٹی کے نام ہر راستے ایسے ہی بند ہوں گے۔ ہم وہ نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں تو پھر شمع رسالت کے پروانوں کے اس دھرنے پر غوغا کیوں؟
محرم کے دس دن ہر شام شہر کے مصروف ترین علاقے بیرئیر لگا کر بند کیے جاتے ہیں۔ نو اور دس محرم کو تو شہر کا شہر بند ہوتا ہے اور سب دعا مانگتے ہیں کہ خیر خیریت رہے۔ اس کو سب برداشت کرتے ہیں کہ حسین کا غم تو سب کا ہے۔
ہمارے نواب صاحبان کی سواری باد بہاری جب پروٹوکول کی درجنوں گاڑیوں کے جلو میں سڑکوں پر رونق افروز ہوتی ہے تو راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس وقت تو کوئی احتجاج نہیں ہوتا کہ ہسپتال کا یا دفتر کا راستہ بند ہے یا کاروبار نہیں ہو رہا ہے۔
برما سے لے کر فلسطین تک ظلم ہو جائے تو ہمارے شہر شہر میں جلوس نکلتے ہیں اور راستے ایسے ہی بند کیے جاتے ہیں۔ کیا اس پر کبھی کسی نے اعتراض کیا ہے جو ہمارے پیر صاحب پر کیا جا رہا ہے؟
خود ہمارے گھروں میں شادی ہو تو سیدھا سڑک پر میخیں گاڑ کر تنبو تان دیتے ہیں۔ ایک دو دن سڑک بند رہتی ہے۔ اس پر کبھی کسی کو اعتراض کرنے کی جرات ہوئی ہے جو ہماری سرکار پر اعتراض کر رہے ہیں؟
دوسروں کا راستہ روکنا ہماری ریت ہے، رواج ہے، پرم پرا ہے، فطرت ہے، تو پھر صرف ہیر خادم حسین رضوی کو راستہ روکنے پر سنگل آؤٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟
پیر صاحب آپ جم جم بیٹھیں۔ جی چاہے تو ریڈ زون میں بیٹھیں۔ جب تک جی چاہے بیٹھیں۔ موسم سرد ہو تو کنٹینر منگا کر اس میں بیٹھیں۔ پورا ملک آپ کے ساتھ بیٹھ جائے گا۔ یہ آپ کا حق ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

