پانچ چوہے گھر سے نکلے کرنے چلے شکار

1۔ پانچ چوہے گھر سے نکلے کرنے چلے شکار ۔ ایک چوہا رہ گیا پیچھے باقی رہ گئے چار
تشریح: اس شعر میں پانچ عدد چوہوں کا ابتدائی تعارف پیش کیا گیا ہے جو شکار کے ارادے سے گھر سے نکلے اور ان میں سے ایک چوہا پیچھے رہ گیا۔ اس ادھورے نامکمل شعر میں شاعر نے وضاحت نہیں پیش کی کہ ایک چوہا کن وجوہات کی بنیاد پر پیچھے رہ گیا کہ اس کے باقی چار ساتھی رہ گئے اور اس کا ذکر مزید نہیں آیا۔ آیا اس چوہے کو کوئی ضروری کام درپیش تھا یا ناگہانی صورتِ حال کا شکار ہو گیا۔ ٹارگٹ کلنگ تھی یا خود کش حملہ میں مارا گیا۔ اور اگر وہ زندہ تھا اور پیچھے رہ گیا تھا تو باقی چار چوہوں نے انتظار کیا یا نہیں کیا؟ نیز اس شعر سے چوہوں کی سیاست دانوں والی خود غرضی بھی واضح ہوتی ہے۔ براہِ مہربانی اس شعر کو سیاسی پارٹیوں سے جوڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔
2۔ چار چوہے جو ش میں آکر لگے بجانے بین ۔ ایک چوہے کو آئی کھانسی باقی رہ گئے تین
تشریح: اس شعر میں شاعر نے بقیہ چار چوہوں کی مزید ایک خصوصیت بیان کی ہے کہ وہ جوشیلے چوہے فن موسیقی کے دلدادہ تھے۔ اس شعر میں شاعر نے پہلے شعر کے ادھورے پن کو بھی کسی حد تک مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی چار چوہوں نے انتظار کرنا مناسب سمجھا اور گھر سے نکلتے ہی بین بجانے لگے۔ امکان غالب ہے کہ پانچواں چوہا دراصل چوہا نہیں بھینس تھا ورنہ بین سن کر آ جاتا۔ ہماری درخواست ہے کہ بھینس نما چوہے یا چوہے نما بھینس کو حکومت نہ سمجھا جائے۔
شعر میں ایک ٹی بی زدہ چوہے کا ذکر بھی ہے جس کو کھانسی آ گئی تھی۔ یہاں چوہوں کی مزید خود غرضی سامنے آتی ہے کہ ایک چوہے کو کھانسی آ گئی تو اس کو بھی نکال باہر کیا۔ بھئی کھانسی کسی کو بھی آ سکتی ہے اور وہ کھانس کر واپس شامل ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس بھی فن موسیقی پر دسترس رکھتے ہیں، شاید وہ آنے والے وقتوں میں اس بہیمانہ سلوک پر روشنی ڈال سکیں۔ نہ جانے کیوں یہ شعر پڑھ کر ہماری دماغی رو واپڈا، ریلوے، صحت، مذہبی امور اور دیگر حکومتی اداروں کی طرف نکل گئی لیکن جلد ہی ہمیں احساس ہوا کہ ہم نہایت غلط سوچ رہے ہیں لہٰذا سوچ کو واپس نظم کی طرف موڑا لیکن کچھ باتیں اب تک ہمارے ذہن کو کچوکے لگا رہی ہیں۔ خیر۔
3۔ تین چوہے ڈر کے بولے گھر کو بھاگ چلو۔ ایک چوہے نے بات نہ مانی باقی رہ گئے دو
تشریح سے پہلے ہم اس بہادر چوہے کو سلام کرنا چاہتے ہیں جس نے گھر جانے سے انکار کرتے ہوئے شکار کرنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آج وطنِ عزیز میں امن و امان کی صورت حال قدرے بحال ہو چکی ہے۔
تشریح: اس شعر میں شاعر نے کمال چابک دستی سے بین الاقوامی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ چار بقیہ چوہے جو پانچویں چوہے کے پیچھے رہ جانے کے بعد اس کے انتظار میں بین بجا رہے تھے اور ایک کو کھانسی آ جانے کے بعد باقی تین چوہے وسوسوں کا شکار ہو چکے تھے ان میں سے ایک چوہے نے گھر کو بھاگ چلنے کی تجویز پیش کر دی۔ اس بات پر شاعر نے روشنی نہیں ڈالی کہ یہ تجویز آئی ایم ایف کی جانب سے چوہے کو سمجھائی گئی یا کچھ مذہب کی طرف زیادہ مائل چوہے اپنے بھائیوں کا دفاع کرنا چاہتے تھے بہر حال تجویز پیش کر دی گئی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تجویز پیش کرنے والا چوہا یا تو امریکہ بھارت اور اسرایئل بالکہ روس کا بھی ایجنٹ تھا یا کم از کم ان کے زیر اثر ضرور تھا۔ یہاں پر دوسرے چوہے کا کردار بھی ابھر کر سامنے آتا ہے جس نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور اپنے ناراض بھائیوں سے مذاکرات کا اہتمام کیا یہی نہیں بلکہ تمام سرکردہ چوہوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد بھی کر ڈالا تاکہ اسٹریٹجک اثاثے بچائے جا سکیں۔ اس شعر میں ڈر کو خاصی اہمیت دی گئی ہے لیکن ایک چوہے نے ڈرنے اور گھر بھاگنے سے انکار کرنے پر شکار کو ترجیح دیتے ہوئے بین الاقوامی طاقتوں کا خفیہ ایجنڈا تہس نہس کرنے کی ٹھان لی۔ ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ انکار کرنے والے چوہے نے آلہ کار بننے سے انکار کر دیا۔ کچھ احتجاجی سیاست دانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
باقی رہ جانے والے دو بھائیوں اوہ معاف کیجیئے چوہوں کا حال اور ان کے چہروں کی ”رونق“ آپ سب دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ جی نہیں ہمارا مطلب ہرگز وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔
4۔ دو چوہے پھر مل کر بیٹھے دونوں ہی تھے نیک۔ ایک چوہے کو کھا گئی بلی باقی رہ گیا ایک
تشریح: اس شعر پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ دو ڈرپوک اور گھر بھاگ جانے والے چوہوں کو شاعر نے اپنی کم علمی، کم فہمی اور نادانی میں نیک قرار دیا جو کہ نیک چوہوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔ آج شام کو پریس کلب کے باہر موم بتیاں جلا کر پر امن دھرنا شدہ احتجاج کیا جائے گا۔ موسیقی کا خصوصی بندوبست ہو گا۔
اس شعر میں مکافاتِ عمل کا ذکر کیا گیا ہے، گو کہ شاعر نے چوہوں کو نیک قرار دیا لیکن ساتھ ہی سازشی چوہے کا انجام بھی بتا دیا۔ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ان کی بروقت کارروائی پر داد دیتے ہیں جنہوں نے آپریشن بلی کرتے ہوئے چوہے کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے چیمپیئن اس پر لب کشائی سے باز رہیں۔ وسیع تر قومی مفاد ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے۔
5۔ ایک چوہا جو باقی رہ گیا کر لی اس نے شادی ۔ بیوی اس کو ملی لڑاکا یوں ہوئی بربادی
تشریح: سب سے پہلے تو ہم یہ وضاحت کر دیں کہ اس شعر میں کسی ایسے سیاست دان کو نشانہ نہیں بنایا گیا جس نے کچھ عرصہ قبل دوسری شادی کی ہو۔ اور اس کے بعد اس کی بربادی پھر گئی ہو۔
مزید یہ کہ اس شعر میں اب تک ہم خود سمجھ نہیں پا رہے کہ شاعر نے آخر کس طرف اشارے بازی کی ہے۔ لے دے کے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ شاعر حسن جہانگیر کے ایک گانے سے متاثر ہے جس میں گلوکار نے شادی کرنے کی صورت میں پچھتانے کی وارننگ دی۔ آخری چوہے نے بھی (دوسری) شادی کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ ایسی شادیاں ماضی میں بھی دیکھنے کو ملی ہیں ایک شادی کی مرد مومن مرد حق اولاد کو آج تک عوامی چوہے بھگت رہے ہیں۔ ایسی ایک اور شادی کی اولاد ایک نڈر چوہا جس کو کسی سے اب تک ڈر ور نہیں لگتا۔ وغیرہ وغیرہ۔
اختتامیہ
مندرجہ بالا تشریح کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس نظم میں بیان کیے گئے تمام حالات کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے جس کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم فی الفور تشکیل دی جائے جس کی تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے اور ہم چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ایک جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی منظم تشریحات کا راستہ روکا جا سکے جس میں شارح اپنی سوچ اور تخیل کی بنیاد پر نظام کو چیلنج کرتا ہو۔
اگر آپ کو یہ جدید تشریح پڑھ کر وطن عزیز کے حالات کا خیال آ جائے تو یقین کیجیے یہ محض اتفاق فونڈری اوہ معاف کیجئے گا محض اتفاق ہو گا جس کے لئے ہم ہرگز معذرت خواہ نہیں ہیں۔

