ایک طرب ناک المیہ
جیسے ہی ممتاز شاعر، مترجم اور نوجوان دانشور سید کاشف رضا کا پہلا ناول ’’چار درویش اور ایک کچھوا‘‘ سہ ماہی آج کے دفتر کراچی سے وصول کیا، گھر پہنچا تو سب کتابیں ادھوری چھوڑ کر اس کا مطالعہ شروع کردیا۔
ترجیح دینے کی دو وجوہات تھیں، اول میرا ناولوں سے غیر افلاطونی عشق اور دوسرا سید کاشف رضا کا فکشن رائٹنگ کے فن پر استناد۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ فکشن آرٹ کے رموزوشناس سے حقیقی معرفت رکھنے والے صاحب نظر ہمارے ہاں دو ہاتھوں کی انگلیوں پر بمشکل گنے جاسکتے ہیں، اور خوش قسمتی سے سید کاشف رضا اُن میں نمایاں ہیں۔ عالمی ادب پر ان کی ژوف نگاہی کا زمانہ معترف ہے۔ ویسے فکشن کے نام پر جس کا قسم کا اصلاحی منجن وطن عزیز میں لکھا، بیچا اور پڑھا جاتا ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے تو اب مجھے کسی نئے ناول کو بلاوضو چھونے سے بھی ڈر لگتا ہے، کہیں کوئی صاحبِ سیف و القلم گستاخی کا فتویٰ نہ جڑ دے۔
(اعوذ باللہ من الفکشن الجدیدہ الموثقۃ عن الدولۃ الباکستانیہ)
توقع کے برخلاف، ناول کے ابتدائی ابواب نے ہی میری تمام توجہ جکڑ لی۔
مجھے یہ تو امید تھی کہ سید کاشف رضا ایک عمدہ ناول لکھیں گے جو ہمارے ادبی منظر نامے میں کچھ دیر ضرور ہل چل مچائے گا لیکن میں کسی شاہکار کے لئے پر امید نہیں تھا۔ مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ اردو ادب میں ناول نگاری کی روایت مستحکم نہیں ہے، اِس لئے زیادہ کسی فکشن نگار کے پہلے ناول سے زیادہ توقعات رکھنا غلط ہوگا، ویسے بھی اگر مغرب میں بے مثل ناول لکھے گئے یا لکھے جارہے ہیں تو اس کے پیچھے یورپ اور امریکہ میں ناول نگاری کی دو یا تین صدیوں کی مستحکم روایت موجود ہے۔
لیکن ”چار درویش اور ایک کچھوا“ نے میری خفتہ امیدوں کے محل کو زمین بوس کردیا۔ جیسے جیسے صفحات پلٹائے، تجسس بڑھتا گیا، بیانیے کی انوکھی تکنیکوں، تازہ اور حیرت انگیز اسلوب، رواں دواں نثر اور سماجی مسائل میں لپٹی جادوئی حقیقت نگاری نے قدم قدم پر چونکایا، بعض کرداروں کے گناہوں سے بھرپور عزائم نے لبھایا، ڈرایا، کچھ مقامات نے اتنا ہنسایا کہ پیٹ میں درد ہوگیا۔
میرا پسندیدہ اور عصر حاضر میں ناول کے فن کا مدبر لیجنڈ ناول نگار میلان کنڈیرا ناول کو مکمل تفریح قرار دیتا ہے۔ حقیقی بات بھی یہی ہے کہ اگر کوئی تخلیقی فن پارہ آدمی کی جمالیاتی حس کو محظوظ نہ کرسکے تو چاہے اُ س میں کتنے ہی آفاقی خیالات، کیوں نہ ٹھونسے گئے ہوں، اس کی فنی حیثیت مشکوک ہوجاتی ہے۔ بقول حسن عسکری، ادبی نگارش میں لطف ضروری ہے، بڑے ادب کو رو رو کر نہیں پڑھا جاتا۔
سید کاشف رضا اِس بات پر ہماری داد کے مستحق ہیں کہ قاری کی جمالیاتی حس کو انہوں نےکسی مقام پر بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ہرصفحہ تازہ لذت، پرلطف جدت اور نیا موڑ لئے پڑھنے والے کے تخیل کو برانگیختہ کرتا ہے۔
جھوٹ کیوں بولوں، ”چار درویش اور ایک کچھوا ‘‘ نے میرے خوابیدہ جذبات کو بیدار کیا، تخیل کے گھوڑے پر سوار کرکے خیالات اور تمناؤں کی ممنوعہ سرزمینوں کی سیر کرائی، میرے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھیری اور مجھے قہقہہ لگانے پر مجبور کیا۔
ناول میں تین مقامات ایسے آئے کہ مجھے کتاب بند کرکے اردگرد دیکھنا پڑا، کہیں چہرے پر پھیلنے والے تاثرات سے مجھے گھر والے مینٹل کیس نہ سمجھ لے، اول، جاوید آفتاب کا اپنی محبوبہ ہم کار کے متعلق کافکائی خواب، (خبردار! کمزرو ایمان قارئین کو یہ خواب بدخوابی میں مبتلا کرسکتا ہے) دوم، خودکش بمباروں کے ٹرینر قاری صاب کی ”سٹریٹجک ڈیپتھ“۔ (یہ پڑھ کر تو میرے ہاتھوں اور پاؤں سے ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے چھوٹنے لگے) سوم، مشہور عالم فلسفیانہ مقولے“ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں“ کی راویانہ تشریح و توضیح، (توبہ! توبہ! کمزور صحت والے مستند حکیم سے رابطے کے بعد یہ صفحات پڑھیں)
عجیب بات ہے، کاشف رضا نے ناول میں مقبول عام طبقاتی کشمکش کا مرچ مصالحہ نہیں ڈالا، واعظانہ تقریروں کا تڑکا نہیں لگایا، گنجلک فلسفیانہ مسائل سے اپنی علمیت کا چورن نہیں بیچھا، زمانہ قبل مسیح کی تہذیبوں ہڑپہ، موہن جو دڑو اور میسوپوٹیمیاں کے دور میں استعمال ہونے والی مقبول عام تشبیہوں اور استعاروں سے ہمارے دماغ کی چولیں نہیں ہلائیں۔ پھر بھی وہ بہت سے حساس ایریاز میں قاری کو اپنے ساتھ لے کامیابی سے مٹر گشت کرا آئے۔ بہتی ہوئی شفاف نثر کا سہارا لے کر کاشف رضا نے انسانی وجود کی لطیف پیچیدگیوں کو ہمارے معاشرے کی منافقانہ حقیقت کے ساتھ کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔
ناول میں فکشن لکھنے کی جتنی منفرد تکنیکوں کو فراوانی اور ہنر مندی سے استعمال کیا گیا ہے، اس نے“چار درویش اور ایک کچھوا“ کو اردو ناول نگاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت عطا کردی ہے۔
بیانیے اور اسلوب میں مرزا اطہر بیگ نے جس قسم کے جرأت مند تجربات کی اردو ناول نگاری میں بنیاد رکھی ہے، ان کے انوکھے ناولوں ’’غلام باغ‘‘ اور ’’حسن کی صورتحال‘‘ کے بعد سید کاشف رضا کا ’’چار درویش اور ایک کچھوا ‘‘ نعمت غیر مترقبہ ہے، بلکہ میرے ذاتی خیال میں مرزا اطہر بیگ کے ناولوں میں فلسفے کے بوجھل پن سے عام قاری کو جس قسم کے ذہنی معرکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سید کاشف رضا کا ناول ایسے مقامات آہ و فغاں سے قہقہے لگاتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔
سید کاشف رضا انگریزی ادب کے فاضل اور عالمی ادب کے پرشوق قاری ہیں، ناول میں قصہ سازی کا رنگ ڈھنگ میلان کنڈیرا، مارکیز اور کافکا سے متاثر نظر آتا ہے۔
کچھوے کی علامت سازی ناول کو کچھ کچھ الف لیلوی داستان سے جا ملاتی ہے۔ ہندو دیو مالائی قصوں کی روایت کو جدید فکشن میں کھپانا، کاشف رضا کا کارنامہ ہے۔ قصہ خوانی کی مشرقی روایت سے جڑ کو جدید مغربی افسانوی اسلوب اپنانے کی کوشش کافی حد تک کامیاب نظر آتی ہے۔
اردو ادب کو عالمی سطح کی فکشن کا ایک عمدہ فن پارہ دینے پر سید کاشف رضا ہماری مبارکباد کے ساتھ خراج تحسین کے بھی مستحق ہیں۔ میری برادرم کاشف رضا سے برادرانہ التجا ہے کہ وہ فکشن پر بھرپور توجہ دیں اور کم از کم مزید ایسے دس ناولوں سے اردو ادب کو مالا مال کریں۔


