پیپلز پارٹی اپنی جنم بھومی سے گولڈن جوبلی تک


پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کو بھر پور طریقے سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کی سوچ و فکر کے عَلم کو آگے لے کے چلیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں رکھی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب سمیت پورے ملک میں جیت کے جھنڈے گاڑے۔ بھٹو صاحب کے جلسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا لاہور میں تاریخی استقبال ابھی بھی لاہور کے لوگوں کو یاد ہوگا۔ مگر موجودہ پیپلز پارٹی کا لاہور سمیت پورے پنجاب میں سیٹ لینا اب کسی کرشمے سے کم نہیں ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی فقیر اور درویش لوگوں سے یاری دوستی اور عوام کے ساتھ ان کا پیار ابھی بھی لوگوں کو یاد ہے۔ 1973 میں جب بھٹو صاحب پاکستان کے وزیر اعظم تھے اس وقت شھداد کوٹ کے لوگوں نے اپنی شکایتں بھٹو صاحب تک پہچائیں انہوں نے ان شکایتوں کے ازالے کے لیے ایک نمائندے کو بھیجا کہ وہ ان تمام معاملات کا جائزہ لیں اس کے بعد بھٹو صاحب خود ایک دن شھداد کوٹ پہنچ گئے اور وہاں ایک کھلی کچہری لگائی اور عوام کو کہا کہ ایک ایک کر کے اپنی شکایات سنائیں اور کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ کون کیا ہے۔ لوگوں نے بے دھڑک ہو کر اپنے شکایتیں سنائیں اور اسی وقت بھٹو صاحب نے حکم صادر کیا کہ ان شکایتوں کا ازالہ کیا جائے اور کسی کارکن کو یہ نہیں کہا تھا کہ شھداد کوٹ کے باسیوں کان کھول کر سن لو تم لوگوں نے صرف اور صرف ٹھپہ تیر پر لگانا ہے۔ اب تو اگر کوئی پارٹی کارکن قیادت سے اختلاف رائے رکھے تو اس کی شامت آ جاتی ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ کی عوام پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی سے نا خوش اور ناراض نظر آتی ہے۔ سندھ کے کچھ اضلاع خشک سالی کی تباہ کاریوں کی وجہ سے متاثر زدہ ہیں اور کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے بڑے شھر بھی گندگی اور خستہ حالی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ آئے روز احتجاج، شکایتں اور عوامی مشکلات کا آئینہ سندھی میڈیا دکھاتی رہتی ہے۔ بعض علاقوں میں لوگوں کو پانی کے حصول کے لیے کوسوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ نہ بجلی ہے نہ پختہ سڑکیں اگر کوئی سخت بیمار ہو تو راستوں کی نا ہمواریوں کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ اور جب کوئی اپنی شکایت لیے پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کے پاس جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ صاحب کراچی یا اسلام آباد ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا وہ عوامی رابطہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی جس کو کسانوں، مزدوروں اور غریبوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا جو پسے ہوئے طبقات کی ترجمان تھی اور روشن خیالی اعتدال پسندی کے گیت گاتی تھی اور جس کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا آہستہ آہستہ دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح کارپوریٹ کلچر کی سیاسی جماعت بن گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ کرپشن ایک سیاسی اور سماجی مسئلہ بن گیا ہے اور ماضی میں بھی سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن جیسے کلف لگے ہوئے لوگ پیپلز پارٹی کا اصل چہرہ نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا اصلی چہرہ تو غریب مسکین کارو ماچھی جیسے لوگ ہیں جو خیرپور سے لے کر دادو، لاڑکانہ، سکھر تک پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے سجی سائیکل پر سوار، ٹیپ پر جیئے بھٹو کے گیت سنتا اور سناتا نظر آتا تھا۔

یہاں پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں تو پھر کیسے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عہدیدار عرف ٹھیکیدار، کلرک، اسٹور کیپر، سرکاری افسران امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب عوام، مزدور اور کسان فاقہ کشی پر مجبور ہیں تو پھر کیوں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان کرپٹ مافیا سے اپنی پارٹی کو آزاد کرا رہی جو دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی سے پیار کرنے والے لاکھوں لوگ پورے ملک میں موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی عوامی پارٹی ہے جسے عوام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کرنی چاہیے ناکہ کرپشن کا دفاع کے لیے۔ بھٹو صاحب اور محترمہ بےنظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے کارکن جو ان کی قیادت پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگا دینے سے گریز نہیں کرتے تھے۔

بھٹو صاحب جب جلسے میں عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے پوچھتے تھے کہ مرو گے، لڑو گے جواب میں عوام ان پر اپنی جان نچھاور کرتی نظر آتی تھی اور اسی طرح بھٹو کی بیٹی نے اپنے آخری خطاب میں سوات میں پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی بات کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ثابت کر دیا کہ بھٹو ازم میں صرف اور صرف طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہے مگر آغا سراج درانی جیسے پیپلز پارٹی کے کلف لگے ہوئے لوگ جو ووٹ کی حرمت کو داغ دار کر دیتے ہیں ان کی نظریات میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ کوئی اور ہی ہے۔ بلاول بھٹو کو چاہیے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں بھٹو کے نظریات کی روح پھونکے اور اس پارٹی کو حقیقی معنوں میں عوامی پارٹی بنائے۔

Facebook Comments HS