ڈاکٹر خالد سہیل اور ان میں پوشیدہ عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب کے قارئین ڈاکٹر خالد سہیل کے نام سے بخوبی واقف ہیں وہ جو پاکستان سے دور پردیس کے ممالک میں جا بسے ہیں اور وہ بھی جو پاکستان میں رہتے ہیں اور اردو ادب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ البتہ خود خالد سہیل کینیڈا میں گزشتہ چالیس برسوں سے سکونت پذیر ہیں۔ ان کی عمر پینسٹھ برس ہے اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں وہ ادب (جس میں شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری شامل ہے) کے علاوہ نفسیات، عالمی سیاست اور فلسفہ جیسے دقیق موضوعات پر کتابیں رقم کر چکے ہیں۔

خالد سہیل کی شخصیت کی کئی پرتیں ہیں جنہیں آپ اتارتے جائیں اور انسان کے روپ میں قدرت کے معجزات دیکھتے چلے جائیں۔ ان کی سب سے اوپر والی پرت نفسیاتی معالج کی ہے۔ یہ وہ پرت ہے جس سے ہر خاص و عام آشنا ہے۔ اگلی کئی پرتوں سے بھی حسبِ توفیق کبھی بطورِ شاعر کبھی افسانہ نگار، کبھی محقق آپ گاہے بگاہے روشناس ہوتے ہی رہتے ہیں۔ تاہم ان کی بالکل اندرونی اور پوشیدہ پرت وہ ہے کہ جس سے کم لوگ ہی واقف ہوں گے اور وہ ہے مرد خالد سہیل کے جسم کے پاتال میں چھپی عورت۔ یہ ان کا وہ زنانہ روپ ہے جو سالہا سال سے ان کے وجود کے تہہ خانہ میں بڑے ٹھسے سے براجمان ہے۔

اکثر مرد جب بڑی حسرت، رشک اور کبھی حسد سے ان کے عورتوں کے ساتھ با آسانی جڑ جانے والے رشتے کا ذکر کر کے اپنی قسمت پر کفِ افسوس ملتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ با آسانی عورتوں کو دوست بنانے والے خالد سہیل کی اندرونی پرت میں بیٹھی عورت کے وجود کا مہر ہے کہ یہ رشتہ ممکن بناتا ہے اور اس کے لیے انسانیت کے درد سے آشنا ہونا کتنا ضروری ہے۔ جو اسی وقت ممکن ہے کہ جب انسانی رشتے مرد عورت کے علیحدہ کمپارٹمنٹ سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو نسوانی اعضا کے سحر میں ٹھہر کر منجمد ہونے اور مردانہ جنسی برتری کے خمار سے علیحدہ ہونا پڑتا ہے۔

خالد سہیل نے اپنے اندر کی پوشیدہ عورت کو بڑے چائو سے زندہ رکھا ہوا ہے تا کہ اس کے توسط سے ملنے آنے والی عورت سے باآسانی گفتگو کر کے وہ رشتہ قائم کر سکیں جو انسانیت کی کوکھ کی آنول نال سے جڑتا ہے۔ ہمیشگی اور پیار کا رشتہ۔ یہ انسان دوستی کا وہ روپ ہے کہ جس کے باعث وہ عورتوں کے دکھ سے جڑ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، بطورِ انسان اور بطورِ معالج۔

میں نے گلے میں خاص انداز کی زنجیر ڈالے، اپنے گھنگھریالے عورتوں کی طرح لانبے بالوں ، کبھی کھلے اور کبھی ربر بینڈ کے پھندے میں قید پونی ٹیل بنائے، داڑھی اور مسکراہٹ سجائے چہرے والے مرد خالد سہیل کے جسم کے اندر زنانہ روح کو ان کی بہت سی نظموں کے توسط سے پہچانا۔ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے میرے اندر کی سوشل ورکر بخوبی آشنا ہے۔ جو کبھی وہ نوجوان حاملہ ہے کہ جسے اس کے ہونے والے بچے کا باپ چھوڑ کے جا چکا ہے، کبھی وہ عورت ہے کہ جو شوہر کی بے مہریوں اور بے اعتنائیوں سے شاکی ہے اور پھر وہ بھی کہ جو شوہر کے جوتوں کی ٹھوکروں پہ پل رہی ہے اور اس کے بچوں کو پال رہی ہے اور وہ عورت بھی ہے کہ جو اپنے شکم میں پلنے والے بچے کی موت پہ نوحہ کناں ہے کہ جس کے شوہر کی ٹھوکروں نے پیٹ کے اندھیرے گھور کمرے سے نکلنے اور روشنی کی جانب ہمکنے سے پہلے نامکمل زیست کی قبر میں دفن کر دیا ہے۔ کبھی یہ عورت سوکن سے شکوہ لب ہے تو کبھی اپنی سہاگن بننے کے خوابوں سے سرشار ہے۔ غرض اس کے کئی روپ ہیں اس طرح خالد سہیل کے وجود کے پاتال میں ایک عورت نہیں بستی بلکہ اس کے وجود سے کئی رشتوں کی ضیا پھوٹتی ہے تبھی وہ اپنی نظم ’عورت سے رشتہ، میں کہتے ہیں

ایک رشتہ ہو تو میں اس سے تجھے یاد کروں

تجھ سے ہر گام پہ ہر موڑ پہ رشتے لاکھوں

تو مرا عکس بھی عکاس بھی آئینہ بھی

تو مری دوست بھی، ہمراز بھی محبوبہ بھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کے یہ روپ ان کے وجود میں کب سے براجمان ہیں؟ ان کی سوانح عمری پڑھی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا پہلا قریبی رشتہ شفقت بھری نانی سے جڑا، کم عمری میں پہلے بہن (جو پانچ سال چھوٹی تھی) سے اور پھر پڑوس میں رہنے والی لڑکی سودا سے معصوم عشق کا ناطہ۔

پہلا مضمون رابعہ بصری پہ لکھا اور جب میڈیکل سکول ختم کرنے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے زنانہ وارڈ میں کام کیا جو اس ہسپتال کی پچھتر سالہ تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا کہ ایک مرد ڈاکٹر زچہ و بچہ وارڈ میں تربیت میں اپنا سال مکمل کرے جہاں کی روایتی عورتیں جب ان سے شرماتیں تو نرس پشتو میں کہتی ’ڈاکٹر دے سڑے نہ دے،( مرد نہیں ڈاکٹر ہے)۔ یہ اسی دور کا اثر ہے غالباٌ کہ ڈاکٹر خالد سہیل صرف معالج بن گئے۔ ان کے مرد کا عورت کے دکھ سے دھیما اور نسوانی مزاج بن گیا۔ درد آشنائی کا یہ سبق دنیا کی بڑی اور اعلیٰ ترین یونیورسٹی بھی نہیں دے سکی جو غیر روایتی خالد سہیل کو روایتی مزاج معاشرہ کی عورتوں نے دیا۔ لہذاٰ خالد سہیل کو سمجھ آیا کہ ’دکھ درد اور آزار کی کوئی جنس نہیں ہوتی وہ مادر پدر آزاد ہوتا ہے اور اگر کسی کے کرب سے رشتہ جوڑنا ہو تو جنسی آعضا میں ہی مت الجھ کر رہ جائو اس کی روح کے پاتال میں داخل ہو کردوستی اور مسیحائی کا ساز الاپو۔ ،

’سرخ دائرہ، ایک ایسی نظم ہے کہ جب غیر روایتی شاعر نے ایک انتہائی حساس موضوع کو بالکل منفرد انداز میں بیان کرتے ہوئے ایک لڑکی کی حاملہ ہونے کی خبر دی ہے جو کلنڈر پہ ایک تاریخ کے گرد دائرے کے گذر جانے پہ منکشف ہوتی ہے۔ اس نظم کی آخری کچھ سطریں ہیں

گزشتہ مہینے کی تیرہ ہی تاریخ کو

سرخ اک دائرہ تھا احاطہ کیے

لیکن اس مرتبہ

جانے کیا ہو گیا

ایک عجب سی خلش

اور اک کپکپی خوف کی

میرے سارے بدن میں سرایت ہوئی

اور پھر میں تو سوچا ہی کی

آج سترہ ہوئی

خالد سہیل نے یہ نظم زمانہ طالب علمی میں خیبر میڈیکل کالج کے شاعری کے مقابلے میں پڑھی جس میں احمد ندیم قاسی، احمد فراز اور محسن احسان جیسے شاعر جج تھے اور پہلا انعام حاصل کیا۔

ان کی ایک نظم ’یہ مرا جسم ہے یہ مری زندگی، ایک ایسی عورت کی کہانی ہے کہ جو حاملہ ہونے کے بعد جسم میں حمل رکھنے کے فیصلہ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ۔ ۔ باوجود اس کے کہ کوئی اسقاط اور کوئی بے باپ بچوں کے قصے سناتا ہے۔ یہاں شخصی آرادیِ رائے جو عورت کو بھی حاصل ہے مگر معاشرہ اسے نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ کے رویہ کے خلاف احتجاج ہے

 میں یہ سب کچھ خموشی سے سنتی رہی

چاہتی تھی مگر میں نہیں کہہ سکی

ساری خلقِ خدا کیا نہیں جانتی

یہ مرا جسم ہے یہ مری زندگی

نظم ’سوال، میں عورت کا شکوہ اس مردانہ رویے سے ہے کہ جو عورت کی زندگی کے شبستاں میں محبوب، مجازی خدا اور رفیقِ سفر بن کر داخل ہوتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت سمندر کی بجائے سراب ثابت ہوتی ہے۔ اس کے شوہر کے رویے کی تبدیلی اس کا المیہ اور احتجاج بن جاتی ہے اس نظم کے چند اشعار ہیں

 مری بے عزتی کر کے تو کتنا فخر کرتا ہے

مجھے بے عقل ناقص اور کیا کیا تو سمجھتا ہے

جو تیرے قلب کی گہرائیوں میں ہے سنا مجھ کو

 اگر تو مرد ہے تو سچ سچ یہ بتا مجھ کو

تری بیوی ہوں محبوبہ ہوں یا میں نوکرانی ہوں

ترے بچوں کی آیا ہوں کہ تیرے دل کی رانی ہوں

ترے کل کا سہارا ہوں یا ماضی کی سزا ہوں میں

شریکِ زندگی ہوں یا کہ تیری داشتہ ہوں میں

نظم ’دو قتل، گھریلو جسمانی تشدد کی بہترین عکاس نظم ہے کہ جس میں مردانہ تسلط اور برتری کا شکار مرد اپنی بیوی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرتا ہے اور اس بہیمانہ عمل میں ایک نہیں دو قتل کرتا ہے

اپنی کوکھ میں اپنے بچے

کی چھوٹی سی لاش اٹھائے

زندہ ہوں پر قبر بنی ہوں

اس نے ٹھوکر مار کے کل شب

میرے خواب اور میرے بچے

دونوں کو ہی قتل کیا ہے

اپنی نظم ’HOUSE ARREST، میں انہوں نے صدیوں سے عاید عورتوں کی روایتی اور سماجی قید اور اس کے سبب ان کے رویوں کی ہچکچاہٹ اور خوف کو چیلنج کیا ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ

ان کی ہر اک رات سے پھوٹے

رفتہ رفتہ صبحِ بغاوت

تا کہ وہ تازہ ہوا میں اڑنے کے خوف اور اندیشوں سے آزاد ہو جائیں۔ انہوں نے ’ماں بننے سے پہلے اور بعد میں، عورت کا وہ روپ پیش کیا ہے کہ جو ایک بے وفا محبوب کی فرقت اور اپنی اس تنہائی پہ غمزدہ اور زمانے کی رسوائیوں کے خوف سے ہراسان ہے مگر وہی عورت جب ماں بنتی ہے تو اولاد کی محبت اسے محبت کی سرشاری اور طاقت سے آشنا کراتی ہے اور وہ اپنے محبوب کو قاتل سمجھنے کے باوجود محسن گردانتی ہے کہ اس نے بطن کی دھرتی کو زرخیزی دی

تو میرا محسن تو میرا قاتل

ترے ہی دم سے ہوا یہ حاصل

جو تو نہ ہوتا تو ایک بنجر زمین رہتی

جو غم نہ سہتی تو کس طرح میں مسرتوں کا یہ پھول چنتی

خالد سہیل نے اپنی پوری شاعری میں مرد اور عورت کے رشتہ میں فوقیت دوستی کو دی ہے خواہ وہ مرد بن کے لکھا ہو یا عورت کی آواز بن کر۔

خالد سہیل اپنے والدین کی شادی سے متاثر ہوئے۔ وہ اپنے والدین کی طرح ہزاروں لاکھوں روایتی شادیوں کے بارے میں اپنی نظم ’والدین کی شادی کی تیسویں سالگرہ پر، میں لکھتے ہیں

اور ہم سوچتے ہی رہے

تیس برسوں کی یہ دوستی کیسے ممکن ہوئی

کیسے ماں باپ کی یہ رفاقت سلامت رہی

پہلے حیران تھے

اب بھی حیران ہیں

اپنے پیاروں سے کتنے ہم انجان ہیں

آرزو ہی رہی

کاش رشتوں کا سرِ نہاں جان لیں

کاش ماں باپ کو اپنے پہچان لیں

 ان کی سوانح عمری پڑھ کر اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے والدین کے درمیان روایتی شادی کا بندھن وہ منفی تجربہ ہے کہ جس نے انہیں روایت شکن بنایا کہ جب ان کی روایتی ماں کا غیر روایتی باپ سے بے جوڑ رشتہ بندھتا ہے اور وہ اس ازدواجی رشتہ کے خشک بے رنگ اور ارمانوں کی باڑھ تلے چرمرایا دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرصہ تک وہ اس عورت سے بظاہر وہ رشتہ نہیں باندھ پاتے کہ جس سے ان کا ناطہ آنول نال کا تھا۔ مگر ممکن ہے کہ انہوں نے ایسی بے جوڑ ناطوں کے تنیجہ میں خواہشوں اور ارمانوں کے اسقاط کو وقوع پذیر ہوتے دیکھا تو اس کے ردِ عمل میں نظم ’اسٹل برتھز، کو رقم کیا۔ وہ چاہے عورت کے ارمانوں کا اسقاط ہو یا مرد کے وہ اس روایتی اور قدامت پسند معاشرہ کی بوسیدگی سے نالاں ہیں

کتنے خواب

اور کتنے جذبے

دل کی کوکھ میں ڈر جاتے ہیں

کتنے بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں

(STILL BIRTHS)

خالد سہیل کی کتابوں ’تلاش، اور ’سمندر کے جزیرے، میں چھپنے والی یہ چند نظمیں جو ان کے اندر کی عورت کے درد کی صورت چشمہ کی مانند پھوٹیں اور شعروں میں ڈھلیں محض تفریحاٌ رقم نہیں ہوئیں ان کا مقصد عورتوں پہ قدغن لگانے والے معاشرہ کی کہنہ سال روایتوں کو چیلنج کرنا ہے اور ان کے حقوق کی برابری اور امن و محبت کے رشتوں کی ہریالی کی نمو ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •