وفاداری کا دوسرا نام مخدوم امین فہیم
4 اگست 1939ء کو سندھ کے علاقے ہالا میں پیدا ہونے والے مخدوم محمد امین فہیم سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
پیپلز پارٹی سے وابستگی مخدوم امین فہیم کو سیاسی میراث میں ملی۔ اُن کے والد مخدوم محمد زمان جو مخدوم طالب المولیٰ کے نام سے جانے جاتے ہیں، پارٹی کے بانیوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سینئر نائب صدر بھی تھے۔ مخدوم امین فہیم پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قابلِ اعتماد ساتھی تھے، بالخصوص اُن دنوں جب محترمہ بینظیر بھٹو پرویز مشرف کے دور میں جلاوطنی کاٹ رہی تھیں۔ مخدوم فہیم نے پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں مواصلات اور دوسرے دور حکومت میں ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے۔
سندھ یونیورسٹی سے 1961ء میں گریجویشن کرنے والے مخدوم امین فہیم پہلی بار 1970ء کے عام انتخابات میں رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ چھے مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1985 میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے کرائے گئے انتخابات کا پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا۔ اس لیے مخدوم امین فہیم نے بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔
21 نومبر کو مخدوم امین فہیم کی دوسری برسی منائی گئی جو 21 نومبر 2015ء کو 76 برس کی عمر میں اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ سیاست میں جب وفاداری کی بات آتی ہے، تو ذہنوں میں پہلا نام مخدوم امین فہیم کا آتا ہے۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں مخدوم امین فہیم کو وزارتِ عظمیٰ کی بھی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کیا اور پیپلزپارٹی اور پارٹی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو سے وفادار رہے اور وفاداری کی ایک نئی مثال قائم کی۔
مخدوم امین فہیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور پھر نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سیاسی وفاداری کا ثبوت پیش کیا، جو تمام سیاسی کارکنوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ جب بات نظریات کی ہو تو چاہے لاکھ مشکلات ہوں سیاسی کارکنوں کو راستہ نہیں بدلنا چاہیے۔
آج کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایسے ایسے سیاسی رہنما نظر آتے ہیں، جو صبح ایک پارٹی میں ہوتے ہیں اور شام کو دوسری پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں، کبھی اپنے سیاسی رہنما کی شان میں تعریفی کلمات ادا کررہے ہوتے ہیں، تو لمحوں بعد اسی لیڈر کے خلاف زہر اگلتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی و ذاتی مفادات کی خاطر ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو قرار دینے میں بھی، آج کے سیاسی رہنماؤں کا کوئی ثانی نہیں۔
مخدوم امین فہیم کی ملک کے لیے اور جمہوریت کے لئے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا مگر بدقسمتی سے جو راستہ وہ دکھا کرگئے اس پر کوئی نہیں چل رہا، آج کے سیاستدان سیاسی فائدوں کے لیے وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں، کپڑوں کی طرح پارٹی بدلتے ہیں یہاں تک کہ ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ امین فہیم کے بعد ملک سے نظریاتی سیاست کا خاتمہ بھی ہوچکا ہے۔


