اچھے لڑکے، کمینے لڑکے اور پسندیدہ کمینے


مطالعہ کا شغف رکھنے والے افراد کی تسکین کے لیے دنیا میں بے تحاشا مواد موجود ہے۔ ہر قسم کا ذوق رکھنے والا یا والی، اپنے مطلوبہ ذوق کی تسکین کا مواد تلاش کر ہی لیتا ہے۔ جو اچھا ذوق رکھتے ہیں وہ اچھی تحریروں کو سراہتے ہیں اور جو کچھ کم اچھا ذوق رکھتے ہیں، وہ کچھ کم اچھی تحریروں کے شائق ہوتے ہیں۔ شاذ ایسا ہوتا ہے کہ اچھا ذوق رکھنے والے کم اچھی تحریر کو پسند کریں، مگر اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ کم اچھا ذوق رکھنے والے غلطی سے اچھی تحریر کو پڑھ لیتے ہیں۔

کم اچھا ذوق رکھنے والے افراد اچھی تحریر پڑھ لیں، تو کوئی کم اچھی بات نہیں۔ بلکہ ہرگز نہیں۔ البتہ کم اچھی بات تب ہے جب کم اچھا ذوق رکھنے والے لوگ اچھی تحریر پڑھ کر کم اچھی تحریر لکھنے کا ارادہ باندھ لیں۔ ارادہ باندھنا بھی کم اچھی بات نہیں ہے، مگر ایسا ارادہ باندھ لینا اچھی بات بھی نہیں ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب کم اچھا ذوق رکھنے والے لوگ کم اچھی تحریر لکھ ماریں اور اچھی تحریر کو کم اچھے طریقے سے کم اچھا ثابت کرنے کی کوشش کریں۔

ہم سب ایک ایسا فورم ہے جہاں پر جابجا اچھی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ کبھی کبھار کم اچھی تحریریں بھی احاطہ نظر میں آ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر زیرِ نظر تحریر ہی کو دیکھ لیں۔ گزشتہ روز ایک اچھی تحریر کے جواب میں ایک کم اچھی تحریر پڑھنے کو ملی۔ اپنےوجود سے کائنات کی تصویر میں رنگ بھرنے والی ”زن“ موضوعِ سخن تھی اور اس سخن ”گردی“ کا پس پردہ کردار بلکہ شکار جس کو اچھی اور کم اچھی دونوں تحریروں میں مشق ستم بنایا گیا، وہ رنگ برنگی تصاویر کا دلدادہ اور تصویر کائنات کے رنگوں کی تتلیوں کے خوابوں کا شہزادہ تھا، جس کو اچھی زبان میں لونڈا اور کم اچھی زبان میں لڑکے کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اچھی تحریر کے عنوان میں لونڈے کا تعارف اچھا تھا جب کہ کم اچھی تحریرکے عنوان میں لونڈے کا تعارف کم اچھا تھا۔ چنانچہ پہلے اچھی تحریر ملاحظہ کی۔ اچھی تحریر میں اچھے طریقے سے کائنات کے ایک رنگ کی نفسیاتی گرہ کو پیش کیا گیا، جس کو لونڈے اچھے لگتے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے موجد سے خوف زدہ بھی دکھائی دی۔ بنیادی سوال کائنات کے رنگ کا یہ تھا کہ ”رنگوں کو بجائے نکھارنے کے پھیکا کیوں کردیا جاتا ہے“۔ اس سوال کا جواب اچھی تحریر لکھنے والی مضمون نگار نے قاری پر چھوڑتے ہوئے تربیت ِ اولاد اور والدین اور اولاد کے مابین مبینہ طور پر پائے جانے ذہنی فاصلے پر کچھ سوالات اٹھائے۔ یہ ایک نفسیاتی اور علمی موضوع ہے اور ہمارا کم اچھا علم اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے، لہٰذا ہم اس کے صحیح اور غلط ہونے کی بحث میں پڑے بغیر اچھی تحریر کے کم اچھے پہلو کی طرف چلتے ہیں۔

اچھی تحریر میں کم اچھے طور سے دیسی لبرل اور اور سراج الحق کی سیکولر ازم کی تعریف پر پھبتی کستے ہوئے انفرادی امثال کو بنیاد بناکر گویا یہ تاثر دیا گیا کہ لونڈے لپاڈے ہمہ وقت تصویرِ کائنات کے رنگوں میں بھنگ ڈالنے کو کمر بستہ ہیں۔انڈے کی والدہ محترمہ کے ساتھ لڑکے کی زیادتی بھی کم و بیش ویسا ہی نفسیاتی مسئلہ ہے جیسے تصویرِ کائنات کے رنگ کو لونڈوں کا پسند ہونا۔ غالباً فرق مواقع کا ہے۔ ”اس کو موقع نہ ملا جس نے سبق یاد کیا“۔

ممکنہ طور سے اچھی تحریر کے کم اچھے پہلوؤں نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور جواب آں غزل کے طور پر ایک کم اچھی تحریر سامنے آ گئی۔

کم اچھی تحریر میں لونڈے کو کم اچھا کہہ کر متعارف کروا دیا گیا۔ صاحب تحریر نے تصویر کائنات کے رنگ کی زبانی لونڈوں کو کم اچھا کہلوا کر ایک کم اچھی سوچ کا مظاہرہ کیا۔ ایک اچھی تحریر کا جواب اچھی تحریر سے پیش کرنا ایک اچھی سوچ کی نشانی ہے مگر ایک کم اچھی سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے تصویرِ کائنات کے رنگ کو بازاری صنف کے طور پر نمایاں کرنا، نہ صرف نامناسب ہے بلکہ انتہائی کم اچھا بھی ہے۔

تصویرِ کائنات کے رنگوں پرمزید دست درازی فرماتے ہوئے صاحب تحریر نے اپنے یقین کو بنیاد بناتے ہوئے انتہائی کم اچھا فتویٰ جاری فرما دیا کہ لونڈوں کو کم اچھا سمجھنے والی زن لازمی طور پر کئی لونڈوں کے لونڈے پن سے ”زن، زنا، زن“ ہم کنار ہو چکی ہوتی ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ حضرت نے اس کے بعد اجتماعی لونڈے پن کے مضمرات پر انگشت نمائی نہیں فرمائی، ورنہ اکثر قارئین کو پسینا آ جاتا۔

اچھی تحریر لکھنے والی مضمون نویس کے ساتھ مسئلے کے وجود کی حد تک اتفاق فرماتے، کم اچھی تحریر والے مضمون نویس نے تجزیہ کاری سے اتفاق نہیں کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ وہ تجزیے سے بھی اتفاق فرما لیتے۔ عدم اتفاق کے نتیجہ کے طور پر ”مردانہ وار“ معاشرے کے کم اچھے عناصر کی تحریری سرکوبی فرمانے کے بعد کم اچھی تحریر کا اختتام بھی اچھی تحریر کے اختتام کی طرح، والدین اور اولاد کے باہمی روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیا گیا۔ ”میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے“۔

ایک اچھی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ مسئلہ اجاگر کرنے کے ساتھ مسئلے کا حل بھی تجویز کرتی ہے۔ کم اچھی تحریر مسائل کا انبار تو لگا دیتی ہے مگر مسائل کے حل کی طرف جانے سے یوں انکار کردیتی ہے، جیسے کوئی اڑیل خر اپنے مالک کی بات ماننے سے انکاری ہوجائے۔ ہر دو تحاریر میں یہی فرق سامنے آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی تحریر میں کم اچھے عناصر کم ہوں اور کم اچھی تحریر میں اچھے عناصر زیادہ سے زیادہ شامل کیے جائیں۔

درخواست: ہماری اس انتہائی کم اچھی تحریر کو کسی کم اچھی بحث کا نقطہ آغاز نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک اچھا محبت بھرا اختتام سمجھا جائے۔ ہماری ہمدردی لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں کے ہم راہ بھی ہے۔ لہٰذا درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”میڈم مجھے لڑکے پسند ہیں“ اور ”سر مجھے لڑکے کمینے لگتے ہیں“ کے بجائے ان پسندیدہ کمینوں کے حال پر رحم کرتے ہوئے ان کو بخش دیا جائے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad