میجر اسحاق کی قربانی، شینا کی فریاد اور حسن معراج کا شکوہ

بائبل میں اسحاق کی سوختنی قربانی کا ذکر ہے، خداوند نے مینڈھے کی شکل میں اسحاق کو تیز دھار چھرے سے بچا لیا۔ ہمارے اسحاق مگر روز مینڈھے کی طرح ذبح ہوتے ہیں۔ روز ٹویٹر پر شینا روتی ہے کہ آج کس پاکستانی ماں کی کوکھ اجڑے گی اور روز ہمیں اجڑی ہوئی کوکھ کی مسکراتی تصویر کے ساتھ جنگی نغمے اور ترانے سنائے جاتے ہیں۔ شینا کو کون سمجھائے کہ پاکستان ایک سیکیورٹی سٹیٹ ہے، یہاں کی ماؤں کو حمل اس لئے ٹھہرتا ہے کہ ان کی کوکھ اجاڑ دی جائے، ہم قدیم معاشروں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچے زمینی خداؤں کی قربان گاہ کی نذر کرتے ہیں۔ ہم سوختنی قربانی کے اسیر ہو چکے ہیں۔ ابرام کے بیٹے کی جاں بخشی خداوند یہواہ نے کر دی تھی، رب الافواج مگر ہمارے بیٹوں کی جاں بخشی کب ہو گی!

کچھ عرصہ ہوا پیارے حسن معراج کہ جن کے الفاظ بادہ انگوری کا سرور لئے ہوئے اور مزاج میں جمہور کا رنگ سموئے ہیں، مگر اپنی بھیتر میں تیکھے ہیں میری ایک بات سے ناراض ہوگئے۔ ماجرا کچھ یوں ہوا کہ فدوی نے ارباب عساکر کی شان میں سوشل میڈیائی طرز پر کچھ ٹھٹھا کیا۔ مہربان دوست نے بس دبا دبا شکوہ کیا، بات کو بڑھایا نہیں۔ غالباً وہ یہ سمجھے تھے کہ خاص ان کی ذات کو ہدف بنایا گیا ہے۔ دوست کا اشارہ بھی جان نکالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ وضاحت کا وقت نہ مل سکا ورنہ تب ہی بتا دیتا کہ ہمارے اسحاق ہمیں عزیز ہیں۔ یہ سرحد پر، جو اب سارے ملک کے طول و ارض پر پھیل چکی ہے، اپنے خون کی قربانی اس لئے دیتے ہیں کہ بازار میں مائیں سودا سلف خرید سکیں۔ بازار میں ماؤں کے جسموں کے جب چیتھڑے اڑتے ہیں, شاہراہ دستور پر آئین پامال ہوتا ہے، سیاسی مفادات کے لئے پس پردہ سازشیں ہوتی ہیں، پارلیمنٹ جب بے مول ہوتی ہے اور قوم کے مستقبل کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں تو جوانوں کا خون رائیگاں جاتا ہے۔

ہمارے جوان اپنا خون  قربان گاہ کی نذر اس لئے کرتے ہیں کہ ملک میں آئین و قانون کا دریا بہتا رہے، ملک پر کسی بدباطن کی نگاہ غلط نہ پڑے، کوئی اس ملک کے عمرانی معاہدے کو رزیل آنکھ سے نہ دیکھے۔ ملک کے کونے کونے میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر جو جوان پہرہ دیتے ہیں وہ اس ملک کے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ملک آئین کے بغیر ہوتا ہی کیا ہے۔ اس کا وجود اس کے باشندوں کے مابین معاہدے سے مشروط ہے۔ جبر سے ملک نہیں چلتے، مارشل لا کے ہوتے ملک کا کوئی قانونی وجود نہیں ہوتا۔

پاکستان کی سرحدوں کا قانونی تعین آئین پاکستان سے باہر کس دستاویز میں ہے؟ جن سرحدوں کا تحفظ ہمارے نوجوان کرتے ہیں وہ اسی آئین میں درج ہیں۔ پاکستان کسی مغل حملہ آور نے فتح نہیں کیا تھا۔ اس کا وجود ایک جمہوری عمل کے تحت ہوا۔ ہمارے عسکری ترجمان جب کہتے ہیں کہ ’ریاست اہم ہے‘ تو انہیں بتانا چاہئے کہ ریاست کے وجود کا جواز اس کے آئین میں پنہاں ہے۔

جب ہمارے بچوں کے تابوتوں پہ کھڑے ہو کر غیر سیاسی عناصر  کی جانب سے سیاست کی جائے گی، طالع آزمائی کے جواز ان کی قربانیوں سے گھڑے جائیں گے تو میرے جیسا منہ پھٹ ایسی طالع آزمائی کرنے والے ’سیاسی‘ عسکری افسران کے لئے سوشل میڈیائی مزاحمت کی راہیں ڈھونڈے گا اور سوچے گا کہ حسن معراج جیسے جمہوریت پسند ایک مثال بنیں۔ جب کھرے الفاظ پر پہرے ہوں تو بات طنز میں ڈوبے ہوئے نشتروں سے ہوگی۔ ایسے میں ان وطن اور عہد نامے سے مخلص اصحاب کو برگشتہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہر عموم میں استثنیٰ بھی تو ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words