ہاتھی اڑا، گینڈا اڑا، بے چاری فاختہ کبھی نہ اڑ پائی

چیل اڑی، کوا اڑا نامی کھیل ہوشیاری کے ساتھ کھیلنا ہوتا تھا کیونکہ اس کھیل میں انگلی اسی وقت اٹھانی ہوتی ہے، جب کسی پرندے کانام پکارا جائے۔ اکرم، نعیم اور وسیم سے دوستی کے ذہنی مطابقت بھی بہت خوب تھی۔ خوش اسلوب ا نداز و اخلاق اور ہنسی مذاق میں مشغول رہ کر سب کھیل کھیلے جاتے۔ بدمزگی ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی، جب سامنے گھر میں رہنے والا لڑکاوقار بھی کھیل میں شریک ہوتا۔ وقار کے والد قانون نافذ کرنے والے ادارے میں کام کرتے تھے، ا س لیے لا محالہ ان کے گھرانے کی عزت ا ور ان کا کہا ماننا سب کی سرشت میں داخل ہوچکا تھا۔
کوشش تو یہی ہوتی تھی کہ وقار کو بیٹھک کا پتا ہی نہیں چلے اور خاموشی کے ساتھ تمام دوست جمع ہوجائیں۔ ذرا سی بھنک پڑنے پر، وقار کا کھیل کے درمیان میں آ کودنا معمول تھا۔ سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال اس وقت پیدا ہوتی، جب چیل اڑی، کوا اڑی نامی کھیل کھیلا جارہا ہوتا اور وقار ہاتھی یا گینڈے کا نام خود پکارتا یا کوئی دوسرا، اس کا ہم نواساتھی پکارتا تو فورا انگلی اٹھا دیتا۔ جب انگلی اٹھانے پر اعتراض کیا جاتا تو نہایت منطقی و حتمی انداز میں فرمان جاری کرتا کہ ہاتھی، گینڈا ہوائی جہاز میں بیٹھ کر اڑان بھر سکتے ہیں۔
پرندوں کا نام آنے پر انگلی نہ اٹھانا بھی ا س کا معمول تھا، جب اس پر اعتراض کرتے کہ بھائی ہاتھی، گینڈے پر تو تواتر سے انگلی اٹھائے جارہے ہو، کم ازکم فاختہ کا نام پکارے جانے پر تو انگلی اٹھا دو کیونکہ اس پرندے کی نسبت تو امن سے ہے، تو جواب ملتا پرندوں کا تو کام ہی اڑنا ہے، ان کے لیے کیا انگلی اٹھائی جائے۔ اسی بحث مباحثہ کی مکدر فضا میں محفل برخاست ہوجاتی اور ہمیشہ کی طرح تہیہ کیا جاتا کہ آیندہ کوئی بھی وقار کی دھونس دھاندلی کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے گا لیکن ایسا کبھی ہونہ سکا۔
قیام پاکستان سے لے کر موجودہ دور تک، وطن عزیز کی سیاسی و جمہوری، معاشی و اقتصادی، سماجی و معاشرتی پر نظر ڈالی جائے تو بچپن کے دور کے پڑوسی وقار کی باتیں ذہن میں آجاتی ہیں۔ ہاتھی، گینڈے پر انگلی اٹھانا اس کا معمول تھا، وطن عزیز میں بھی قیام پاکستان سے لے کر اب تک قوم کی قیادت کے لیے مقتدر و صاحب اختیار افراد انگلی عموما، عوامی طور پر مقبول رہنما کی بجائے، اپنی مرضی کی شخصیت کے لیے اٹھاتے چلے آئے ہیں۔ کئی عشروں سے ملکی و علاقائی سیاست میں عوام کے مذہبی و سیاسی جذبات سے کھیل کر، انگلی کے اشارے پر ہاتھی اور گینڈے اڑائے اور لڑائے جارہے ہیں۔ اس حکمت عملی سے جہاں بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کی جگ ہنسائی ہوتی ہے، وہیں وطن عزیز میں سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی صورتحال بھی بگڑی ہوئی ہے۔ آئے دن، دہشت گرد عام عوام سے لے کر ملکی سا لمیت کا تحفظ کرنے والے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہر سطح کے اہل کاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھی میجر اسحاق شہید دہشت گردی کا شکار ہوئے اور بروز جمعہ ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کے ساتھ، ان کا محافظ بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ اس صورتحال میں، وطن عزیز کے شہری ہونے کے ناتے، وطن عزیز کے مقتدر اور صاحب اختیار افراد سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا انہوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا کبھی وطن عزیز میں امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال کی وجوہ اور ذمہ داروں کا تعین کیا؟ یقینا نہیں کیا کیونکہ اس پر غور کیا ہوتا تو وطن عزیز کی موجودہ سیاسی ومعاشی صورتحال اور امن وامان کی فضا ایسی نہ ہوتی۔ کوئی دھرنا دیے بیٹھا ہے اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل رہا ہے، دھرنے سے عوام جس پریشانی کا شکار ہیں، اس کا احساس دھرنے کی پشت پناہی کرنے والوں کو نہیں ہے۔
وطن عزیز کی موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ملک میں ہاتھی اور گینڈے اڑائے اور لڑائے جاتے رہے ہیں اور ہنوز لڑائے جا رہے ہیں، امن کی پیام بر فاختہ کی اڑان کی طرف مقتدر افراد نے کبھی توجہ ہی نہیں دی ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی و معاشی استحکام اور امن و امان کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے، جب تمام ملکی ادارے اپنی حدود میں کام کریں اور مسلح مذہبی جتھوں کی موثر سرکوبی کی جائے اور ا پنے طرز عمل سے، ملکی و بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر اور یقین پیدا کیا جائے کہ ریاستی ادارے وطن عزیز کی تحفظ و سلامتی اور ترقی کے لیے یک جا ہیں۔ سیاسی و معاشی استحکام کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ملکی سیاست کو اپنی ذاتی خواہش و انا کی بھینٹ چڑھا کرسیاست دانوں پر یا ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی جائیں اور نگاہیں اپنے پسندیدہ سیاست دان کی طرف جاکر ٹھہر جائیں۔ وطن عزیز کی سیاست ا ب مزید تجربوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ جو کچھ ہوا، اس کو ماضی کا حصہ سمجھ کر دفن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وطن عزیز سیاسی و معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو اور وطن عزیز میں ہر شہری امن و امان کی فضا میں سانس لے سکے۔

