یہ کام تو اسٹیبلشمنٹ کا نہیں ہے

حکومت یہ تاثر دے رہی تھی کہ لبیک تحریک کے پاس بارودی ہتھیار ہیں لیکن یہ علم ہوا کہ لبیک والوں کے پاس جو ہتھیار ہے اس کا نام غلیل اور کنکر پتھر ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپریشن علاقہ محصور کر کے رات تین بجے کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کی لائیو سٹریمنگ کر کے ملک بھر میں فسادات پھیلانے کا کیا مقصد ہے؟
اب اپنے فرائض ادا کرنے والی پولیس کو مظاہرین سے مار پڑ رہی ہے۔ اس کے ایک اہلکار کے شہید اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع آئی ہے۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور صرف پمز ہسپتال میں سو سے زیادہ زخمی لائے گئے ہیں۔ لائیو کوریج کے نتیجے میں مظاہرین کو کمک پہنچنے لگی ہے۔ پولیس کی مدد کے لئے رینجرز کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اب حکومت کو اپنی رٹ قائم رکھنے کے لئے اس فساد کو پوری قوت سے کچلنا ہو گا جو ملک بھر میں پھیلنے لگا ہے ورنہ اسے عضوئے معطل سمجھ کر ہر گروہ چڑھ دوڑے گا۔ کسی گروہ کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی علاقے کو یرغمال بنا لے۔ لیکن قوت کے اس استعمال کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
کہیں حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے؟
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت ملک کی داخلی صورتحال کے باعث ایمرجنسی لگانے کا اعلان کر سکتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں۔
اس غلط ٹائمنگ اور ملک بھر میں یہ مناظر پہنچا کر آگ بھڑکانے کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔
یہ کام تو اسٹیبلشمنٹ کا نہیں ہے۔

