اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔ آخر ہم چلتے چلتے کہاں آن پہنچے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہم میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ لیجیے تاثیرؔ صاحب کا کیا شعر یاد آیا ؎
داورِ حشر میرا نامہ اعمال نہ پوچھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

مگر نامہ اعمال اچھالے جا رہے ہیں اور پردہ نشینوں کے پردے چاک ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بینکوں کے ہضم شدہ قرضے‘ جعلی ڈگریاں‘ ناجائز الاٹمنٹیں۔ جنگل کے جنگل کنہیں الاٹ ہو گئے کہ اب یہاں کنکریٹ کے جنگل اُگیں گے۔ اس بستی سے نکلو یہاں تو اگلے پچھلے عیب ثواب اُگتے جا رہے ہیں۔

ابھی یہ حشر بپا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا گولہ پھٹا۔ اڑا ڑا دھم۔ کجا وہ دھرنا کہ آسماں کو چھو رہا تھا۔ کجا یہ دھڑن تختہ۔ سو اب اخباروں کا عجیب نقشہ ہے۔ جو کالم‘ جو فیچر‘ جو اداریہ ہے‘ تان آخر میں عمران خاں کے دھرنے پہ ٹوٹتی ہے۔ کالم کا مضمون کوئی بھی ہو‘ ذکر یاروں کا ہو اغیار کا ہو۔

چلتے چلتے ایک روڑا عمران خاں کی طرف بھی پھینک دیا۔ جس کالم کو ہم پڑھتے ہیں کالم نگار کو دھرنے کی طرف سے جو گالی آئی تھی وہ گالی اب اسے یاد آ رہی ہے۔ کوئی لکھتا ہے کہ میں نے سچی سچی بات لکھ دی تھی۔ کہا گیا کہ یہ بِکا ہوا آدمی ہے۔ کسی نے لکھا کہ میں تو سمجھا تھا کہ یہ تماشہ ہے۔ تماشے کا ذکر کیا تھا کہ ادھر سے روڑا آیا کہ میں بلبلا اٹھا۔ ہاں ہمارے دوست عطاء الحق قاسمی نے لکھا کہ ان ظالموں نے میری مرحومہ ماں کو بھی نہیں بخشا۔ اچھا۔ واقعی ؎
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

اب ادھر برا وقت آیا ہے تو ادھر یار و اغیار سب کی زبانیں کھل گئی ہیں۔ اپنا اپنا بدلہ چکانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ ارے بھائی بہت تیر و نشتر چلا لیے۔ بس کرو۔ مگر یاروں کا قلم رک ہی نہیں رہا۔ تب ہمیں کب کا بھولا بسرا ایک شعر یاد آیا ؎
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

ہمیں یہ نقشہ دیکھ کر یاد آیا جو بزرگوں نے سنا تھا کہ جب لڑو تو اس طرح لڑو کہ ایک آنکھ لڑنے کی ہو تو دوسری آنکھ ملنے کی۔ پھر ایک اور قول یاد آیا کہ اس طرح مت لڑو کہ سارے زمانے کو اپنا دشمن بنا لو مگر عمران خاں ان دنوں ہوا کے گھوڑے پہ سوار تھے۔ اب یاروں کی بن آئی ہے۔ تب تمہارا وقت تھا۔ اب ان کی باری ہے۔ بیشک انھوں نے تیر تلوار نہیں چلائی تھی۔ مگر تیر تلوار کے زخم تو زود یا بدیر بھر جاتے ہیں۔ ہاں زبان کا زخم زیادہ کاری ہوتا ہے ع
لگا جو زخم زباں کا رہا ہمیشہ ہرا

تو اب زبان کا زخم کھائے ہوؤں کی زبانیں کھلی ہیں‘ اور اس طرح کھلی ہیں کہ کسی کسی کی طرف سے ہمدردی کا کلمہ آتا ہے تو وہ بھی نشتر کا کام کرتا ہے۔
اس سارے نقشہ کو دیکھ کر کچھ اس قسم کا تاثر ابھرتا ہے کہ ہماری سیاسی زندگی اب بہت زوال کر گئی ہے۔ یعنی زوال شدہ تو پہلے بھی تھی مگر اب زوال کی علامات کچھ زیادہ ہی نمایاں ہیں۔ نعرہ بازی پہلے بھی ہوتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے مگر اس سے پہلے نعرہ بازی میں حلق کے عمل کے ساتھ جذبات کا بھی عمل دخل ہوتا تھا۔ مثلاً اس زمانے کو تصور میں لائیے جب ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ اس وقت ان کی پارٹی کا نعرہ تھا روٹی‘ کپڑا اور مکان۔ یہ نعرہ نیا نیا تھا۔ سو اس میں ایک اپیل بھی تھی اور نعرہ لگانے والوں کو گمان یہ تھا کہ بھٹو اس نعرے کو حقیقت بنا کر دم لیں گے۔ سو نعرہ لگانے والوں کے دل سے یہ آواز نکلتی تھی پھر اس میں حلق بھی اپنا حصہ ڈالتے تھے سو یہ نعرہ بازی شروع شروع میں با معنی نظر آتی تھی۔

ادھر ان کے مقابلہ میں اسلام پسند گروہ تھے۔ بھٹو صاحب کی سوشلزم کے تضاد میں ان لوگوں کی اسلام پسندی نے ایک جذباتی سچائی کا رنگ پکڑ لیا تھا۔ سو اس وقت ان کی نعرہ بازی میں بھی ایک جذباتی صداقت تھی۔

لیکن پیپلز پارٹی کے اقتدار کے سالوں میں رفتہ رفتہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی قلعی کھل گئی پھر یہ نعرہ محض حلق کا کاروبار بن کر رہ گیا۔ ہاں ایک بات اور اس وقت دونوں طرف جلسوں میں لوگ از خود بھی پہنچتے تھے۔ دونوں طرف لوگ نظریے کے اثر میں تھے۔

مگر وہ زمانہ جلدی گزر گیا۔ پھر وہ لوگ جو جوق در جوق نظریاتی جذبے سے سرشار جلسوں میں پہنچتے تھے وہ کم ہوتے چلے گئے مگر جلسوں میں مجمع بڑھتا چلا گیا۔ اب یہ مجمع ان بسوں اور ٹرکوں کا مرہون منت تھا جن میں دور دور کی بستیوں سے لوگوں کو بھرا جاتا تھا اور جلسوں میں لایا جاتا تھا۔

اول الذکر مجمع کو عوام کے خطاب سے تعبیر کیا جا سکتا تھا مگر جو بسوں اور ٹرکوں میں بھر کر ہجوم جلسے میں پہنچتا تھا انھیں عوام سے تعبیر کرنا غلط ہو گا۔ اس مجمع کو بھیڑ کہنا زیادہ صحیح ہو گا۔

جب دھرنے کا دور شروع ہوا تو عوامی وفور کا زمانہ گزر چکا تھا۔ اب بھیڑ بھڑکا تھا۔ تو وہ جو اس زمانے میں یہ شکایت پیدا ہوئی کہ تقریروں میں اور نعرہ بازیوں میں ابتذال کا رنگ آ گیا ہے تقریروں میں آگے جو تھوڑی بہت تہذیب اور شائستگی ہوئی تھی وہ اب گم ہے۔ گالی اور فحش کلامی تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔

سو اب ہم بھیڑ بھڑکے زمانے میں رہتے ہیں۔ یہ بھیڑ اپنی طاقت کا مظاہرہ اس طرح کرتی ہے کہ ٹائر جلاتی ہے۔ بسوں میں آگ لگاتی ہے۔ جب زور دکھاتی ہے تو اکا دکا عمارت کو بھی آگ لگا دیتی ہے۔ ہاں اگر اسے مذہب کے حوالے سے بھڑکا دیا جاتا ہے تو وہ ایک ملعون کو دریافت کر لیتی ہے اور اس کی جان لینے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتی۔
تو اب ہماری سیاست بھیڑ بھڑکے کی سیاست ہے۔ سیاسی رہنما بھی پھر اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور بھیڑ کا جز بن جاتے ہیں۔
31 جولائی 2015

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •