نرناری

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) مدن سندری کتنی خوش تھی کہ دیوی نے اس کی سن لی، نہیں تو بھیا اور پتی دونوں ہی کو وہ کھو بیٹھی تھی۔ بھیا جب سدھارنے لگا تو اس کی خوب بلائیں لیں۔ گوپی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، دعا دی، دعا لی، اور چلا گیا۔ گوپی کے چلے جانے کے بعد بھی مدن سندری دیوی کے گن گاتی رہی، دھا ول اس کی ہاں میں ہاں

Read more

ہندوستان سے ایک خط

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) عزیز از جان سعادت و اقبال نشان برخوردار کامران طول عمرہ بعد دعا اور تمنائے دیدار کے یہ واضح ہو کہ یہ زمانہ خیریت تمہاری نہ معلوم ہونے کی وجہ سے بہت بے چینی میں گزرا۔ میں نے مختلف ذرائع سے خیریت سے خیریت بھیجنے اور خیریت منگانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ایک چھٹی لکھ کر ابراہیم کے بیٹے یوسف کو بھیجی اور تاکید کی کہ اسے فوراً کراچی

Read more

قدامت پسند لڑکی

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) وہ چست قمیض پہنتی تھی اور اپنے آپ کو قدامت پسند بتاتی تھی۔ کرکٹ کھیلتے کھیلتے اذان کی آواز کان میں پہنچ جاتی تو دوڑتے دوڑتے رک جاتی، سرپہ آنچل ڈال لیتی اور اس وقت تک باؤلنگ نہیں کرتی جب تک اذان ختم نہ ہوجاتی۔ یہ اس لڑکی کا ذکر ہے جو مہاتما بدھ کی پیرو تھی اور تیسوں روزے رکھتی تھی۔ پکچر کا پروگرام ہو یا کرکٹ کا میچ، روزہ

Read more

جعفر زٹّلی، ایک سنجیدہ مہمل گو

جعفر مہمل گو، یعنی جعفر زٹّلی بہت دل چسپ کردار تھا۔ اس زمانے کے شرفا نے اسے یہ کہہ کرمسترد کر دیا تھا کہ وہ بے معنی اور فحش، گھٹیا باتیں کرتا ہے۔ جعفر نے مہمل گوئی کے الزام سے انکار نہیں کیا۔ اس کے برخلاف وہ اس پر اصرار کرتا رہا اور اپنی تحریروں کو، جن میں نثر بھی شامل ہے اور نظم بھی، زٹّل نامہ کے عنوان سے جمع کیا۔ اس لیے وہ جعفر زٹّلی کہلانے پر بُرا

Read more

ٹیپو سلطان کی پڑپوتی نور عنایت خان انگریزوں کی جاسوس تھی؟

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق برطانوی کرنسی کے سب سے بڑے نوٹ پر دوسری جنگ عظیم کی ہیروئن نور عنایت خان کی تصویر چھاپنے کی تجویز پر تاریخ دان اور سیاست دان متفق ہیں۔ بینک آف انگلینڈ 2020 میں 50 پاؤنڈ کا کرنسی نوٹ جاری کرے گا۔ نور عنایت خان ایک برطانوی خاتون، سپاہی، مصنفہ، مسلمان اور تقسیم ہند کی حامی تھیں۔ پیرس میں پیدا ہونے والی نور عنایت خان فرانس پر نازی جرمنی کا قبضہ ہونے کے بعد

Read more

زباں بگڑی، دہن بگڑا

’’صاحب‘ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا‘‘۔ اس بیان پر ہمارے کان کھڑے ہوئے۔ پوچھا‘ پہلے کب کہا تھا‘ اور کیا کہا تھا۔ ارے صاحب یہی کہا تھا کہ گھوڑے کو دو نہ دو لگام، منہ کو ذرا لگام دو اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلوں پر سیاسی بحثیں شروع ہوئیں تو جلد ہی بحث کا بازار گرم ہوتا چلا گیا اور جلد ہی شرفا کو محسوس ہونے لگا کہ زبان و بیان کا

Read more