پیر خادم رضوی کو ٹیکنو کریٹ حکومت کا سربراہ بنایا جائے


موجودہ حکومت انتہائی نااہل ہے۔ اس نے چپکے سے ایک اہم ترمیم کرنے کی کوشش کی اور کسی طرح جل دے کر اسلامی سیاسی جماعتوں سے بھی اس کے حق میں ووٹ ڈلوا لیا مگر اسلام کے بطل جلیل شیخ رشید نے یہ سازش پکڑ لی۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے فوراً بعد گھبرا کر حکومت نے یہ تبدیلی واپس لے لی مگر ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام ف، جمعیت علمائے اسلام س وغیرہ کے ممبران کمیٹی، قوم اسمبلی اور سینیٹ کا اس ترمیم کے پاس کرنے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ ان کو چکر دیا گیا تھا۔ سارا قصور صرف وزیر قانون اور وزیراعظم کا ہے۔

اس لئے پیر خادم رضوی بجا طور پر وزیراعظم اور پوری کابینہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ شیخ رشید کی دیدہ وری اور پیر خادم رضوی کی سرفروشی ہی ہے جس کی وجہ سے ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت کون ہے جو اس طرح ایک نیک مقصد کے حصول کی خاطر اپنا گھر بار سکون چین سب چھوڑ کر دو ہفتے نومبر کی سردی میں اسلام آباد کے کھلے آسمان تلے پڑا رہے اور اس میں اس کا کوئی ذاتی مفاد بھی نہ ہو۔ عمران خان نے بھی استعفے کے مطالبے کی تائید کی ہے۔

اس وقت ملک ایک نازک صورت حال سے دو چار ہے۔ مشرق میں نریندر مودی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے تو مغرب میں اشرف غنی ہمیں للکار رہا ہے۔ شمال میں ٹرمپ ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ معیشت شدید خسارے کا شکار ہے۔ سی پیک سے جو امید بندھی تھی وہ ملک بھر کی سڑکوں کی بندش کی وجہ سے دم توڑ رہی ہے۔ ایسے میں ایک ایسے دلیر شخص کو عبوری مدت کے لئے پاکستان کا ایک با اختیار حکمران بنانے کی ضرورت ہے جو دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکار سکے۔ جو دشمن کو دیکھتے ہی اس پر ٹوٹ پڑے۔ خواہ نہتا ہی ہو مگر دشمن کو اس کی اصل اوقات بتا دے۔ سردی ہو یا گرمی، اپنے مقصد کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہو۔ حالیہ دھرنے میں پیر خادم رضوی یہ سب جوہر عملی طور پر دکھا چکے ہیں۔

ان کی مذاکرات کرنے کی بے مثال صلاحیت اس صلح نامے سے عیاں ہے جس میں انہوں نے مکمل طور پر اپنی یک طرفہ شرائط پر حکومت سے ہتھیار ڈلوائے ہیں اور اپنے قیدیوں کو رہا کروانے کے علاوہ نقصان کا حرجانہ بھی حکومت سے وصول کیا ہے۔ یہی صلاحیت وہ پاکستان کے دشمنوں پر بھی آزما سکتے ہیں۔

پیر خادم رضوی کو کم از کم تین اور ممکن ہو تو تیس سال کے لئے عبوری ٹیکنو کریٹ حکومت کا سربراہ بنا دیا جانا چاہیے۔ ان کے ذاتی طور پر منتخب کردہ ماہرین کو وزارتیں دی جائیں اور مجلس شوری کا ممبر بنایا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ پیر خادم رضوی اس کابینہ میں شیخ رشید کو سینئیر وزیر کا منصب دیں گے اور عمران خان سے بھی گاہے گاہے مشورہ کرتے رہیں گے کہ پاکستان کو کیسے ترقی دی جائے۔ اس حکومت میں جنرل راحیل شریف کو وزیر دفاع بنایا جا سکتا ہے اور تمام دفاعی معاملات پورے اعتماد سے کلی طور پر ان کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

موجودہ جمہوری نظام انتہائی ناکارہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہر دس برس بعد اسے ختم کر کے آمریت لانی پڑتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نظام میں کوئی بڑی خرابی ہے۔ بہتر ہے کہ ہمارا نیا نظام نہ پارلیمانی ہو اور نہ صدارتی، بلکہ یہ ملک کی بے لوث خدمت کرنے والے شخص کے حوالے کر دیا جائے کہ وہ جیسے چاہے ملک کی خدمت کرے اور کوئی ضابطہ یا قانون اس کی راہ میں حائل نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے 1973 کے آئین میں مناسب ترمیم کے ذریعے پیر خادم رضوی کو یہ اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ پیر خادم رضوی کی حکمرانی میں چار چھے مہینے کے اندر اندر ہی پاکستان ایک سپر پاور بن کر ابھرے گا۔ ہر شخص کو حکومت کی جانب سے مکان ملے گا اور پاکستان کے تمام بچوں کو درس نظامی کے آٹھ سالہ شہادت العالمیہ درجے تک مفت اور لازمی تعلیم دی جائے گی اور انہیں سرکاری مساجد میں ملازمت فراہم کی جائے گی۔ ملک کی تمام سرحدوں پر ایٹمی ہتھیار نسب کیے جائیں گے تاکہ کوئی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔

کچھ لوگ یہ سوال کریں گے کہ ہر شہری کو مکان، ملازمت اور تعلیم دینے کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ اگر حکمران ایماندار ہو تو رقم مسئلہ نہیں ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے سوئس بینکوں اور پانامہ میں پڑے ہوئے کرپٹ پاکستانی سیاستدانوں کے کھربوں ڈالر واپس پاکستان لا کر بیت المال میں ڈالے جائیں گے اور ان سے پاکستان کو سپر پاور بنا دیا جائے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم دنیا میں نمبر ون اور سب سے زیادہ باصلاحیت ہے بس اسے ایک ایماندار قیادت کے تحت میرٹ پر موقع ملنے کی دیر ہے۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع ہمیں گھر بیٹھے محصول چنگی کے کھربوں روپے سالانہ دے سکتا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس نازک موقعے پر پیر خادم رضوی موجود ہیں۔ اگر تمام سیاسی لیڈر ان سے گڑگڑا کر درخواست کریں تو وہ بادل نخواستہ یہ منصب سنبھالنے کو تیار ہو سکتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی طبیعت نام و نمود سے نفور ہے اور وہ اس منصب سے ایک دھیلے کا فائدہ بھی اپنی ذات کے لئے نہیں اٹھائیں گے۔ ان کی دلچسپی دنیاوی جاہ و منصب میں نہیں ہے۔ وہ تو فقط اپنی درگاہ میں بیٹھ کر خلق خدا کو وظائف اور تعویذ دے کر اس کے روحانی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar