بے پناہ شادمانی کی مملکت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کس طرح سنائی جائے، ایک ٹوٹی بکھری کہانی؟
                                دھیرے دھیرے ہر شخص میں ڈھل کر
                                نہیں
                                دھیرے دھیرے ہر شے میں ڈھل کر                                                                                —  ارندھتی رائے

                               

The God of Small Things کے ساتھ عالمی شہرت پانے والی ارُندھتی رائے برِصغیر اور خصوصاً ہندوستان کی سیاست اور تہذیب و معاشرت پر بے باک نظریات اور بے لاگ آرا رکھنے والی  نہایت نمایاں آواز ہیں — اتنی نمایاں کہ بیدار ذہن، انسان دوست اور جمہوریت پسند لوگ ہر اہم مسئلے پر ان کے خیالات ان کے مخصوص انداز میں سننے اور پڑھنے کا بےتابی سے انتظار کرتے ہیں: ہر ملک میں، ہندوستان کی سرحدوں سے باہر بھی، کہ ارُندھتی رائے کی مملکت بھی، ’تِلو‘ کی مانند کوئی سرحد ، کوئی سفارت خانہ نہیں رکھتی۔

The Ministry of Utmost Happiness ارُندھتی راے کا دوسرا ناول ہے جو ’گاڈ آف اسمال تھنگس‘ کے بعد، بیس سال کے وقفے سے، جون 2017 میں شائع ہوا۔ ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ کے عنوان سے اس کا اردو ترجمہ راقم الحروف نے خود ارُندھتی رائے کے ایما پر 5 جون کو شروع کیا اور 14 اگست کو مکمل کیا۔ عزلت نشینی کے تین مہینے دس دن، مدتِ عدت کی طرح ۔

یہ دستاویزی ناول ہندوستان کی جس تہذیبی اور سیاسی فضا کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے اس کا تعلق بنیادی طور پر ہندی اور اردو بولنے والے خطے سے ہے، اور اس خطے کے لوگوں سے مکالمہ قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ناول کا ایک معیاری متن، منشاے مصنف کے عین مطابق، ان زبانوں میں منتقل ہو۔ اسی لیے ارُندھتی رائے ان تراجم میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ جب اردو ترجمے پر نظرِثانی کا مرحلہ آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بعض اقتباسات یا ابواب کا ترجمہ سننا چاہیں گی؟ اور انھوں نے ہامی بھر لی۔ ستمبر کے مہینے میں وہ مصروف تھیں، کیوں کہ ان کے ناول کے استقبال میں منعقدہ جلسوں میں شریک ہونے کے لئے انھیں یوروپ کے دورے پر جانا تھا۔ اس لیے طے ہوا کہ اکتوبر میں بیٹھا جائے۔ ساتھ پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کی دل چسپی اتنی بڑھ گئی کہ ناول کو اوّل تا آخر سننے کی مشتاق ہوگئیں۔ 16 اکتوبر سے 26 نومبر کے دوران ہم لوگ ہفتے میں چار دن ، سہ پہر تین بجے سے چھ بجے تک، ریڈنگ کے لیے بیٹھتے تھے۔ انھوں نے اپنے دوست سنجے کاک سے درخواست کی تھی کہ وہ بھی ان سیشنز میں شریک ہوں۔ سنجے کاک دستاویزی فلمیں بناتے ہیں اور انھوں نے ہندوستانی سیاست کے کئی بنچ مارک موومنٹس، مثلاً خالصتان، کشمیر، ماونواز تحریک، نرمدا باندھ اور اڑیسہ میں نیام گری پہاڑیوں میں مائننگ کے خلاف جاری  تحریکات پر دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔ ’مملکت‘ کی پڑھت میں ان کی شمولیت ناول کے موضوع اور اردو ہندی کے بول چال کے لہجوں کے ایکسپرٹ جیسی تھی۔ خیر، ٹیم ورک شروع ہوا اور اٹھارہ بیٹھکوں میں حرف بہ حرف پڑھ اور سن لیا گیا۔ ظاہر ہے یہ کوئی مشینی عمل نہ تھا۔ پڑھنے اور سننے کے دوران زبان و بیان اور اسلوب کی باریکیاں، مناسب لفظوں کی تلاش، فقروں کی نشست میں ردو بدل، لہجوں اور تیوروں کا خیال وہ خطوط تھے جن پر بنیادی توجہ دی گئی۔ ایک بڑی تخلیق کار کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا یہ تجربہ نجی طور پر میرے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اظہار کی لطافتوں کی تلاش میرے لیے بجاے خود ویسی ہی ’بے پناہ شادمانی‘ کا باعث تھی جو مصوری کے شاگرد کو اپنے استاد سے برش اسٹروک سیکھ کر ہوتی ہوگی۔ ارحان پامک کے ناول ’مائی نیم اِز ریڈ‘ میں ہرات اور اصفہان کے مینیاتوری مصوری کے استادوں کے ورک شاپ میں فن کی باریکیاں سیکھنے والے شاگردوں کی طرح۔ ترجمے کی خوبیوں میں، اس ’ترجمہ ورک شاپ کے استاد مصوروں کے برش کی سپاس گزاری میرے لیے ممکن نہیں۔

’مملکت‘ کا ترجمہ حال ہی میں کئی عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے اور اندازہ ہے کہ تقریباً چالیس زبانوں میں جلد ہی منظرِ عام پر آ جائے گا۔ اردو، ہندی، پنجابی، بنگلہ، مراٹھی، گجراتی، تمل، ملیالم اور تلگو سمیت ہندوستان کی آٹھ دس زبانوں میں کام جاری ہے یا شروع ہونے والا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان ہی میں ابتدائی تین مہینوں میں نوے ہزار کے قریب فروخت ہوا۔ اب غالباً تیسرا ایڈیشن شائع ہونے والا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے پڑھنے والوں کے لیے یہ اردو ترجمہ جلد ہی کراچی کے ادبی جریدے ’’آج‘‘ کے ایک خصوصی شمارے کے طور پر اور پھر اسی ادارے کے زیراہتمام کتاب کی صورت میں شائع ہونے والا ہے۔

’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ ہندوستان کی سیاسی سماجی تاریخ کا نباض ناول ہے۔ مصنف کا اصرار ہے کہ اس ناول کو ہندوستان کے مسئلوں پر مرکوز ناول نہیں کہنا چاہیے بلکہ یہ اس فضا کو پیش کرتا ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں، اور جس فضا میں ہم سانس لیتے ہیں اس سے لاتعلق کیسے رہ سکتے ہیں؟ ارُندھتی رائے نے دو مرکزی کرداروں، انجم اور تِلو (ایس تلوتما) کے وسیلے سے ہندوستان کی اس فضا کو محسوس کیا ہے اور اس کو مسموم کرنے والے خطرناک جراثیم کی تشخیص کی ہے جو کینسر کی مانند بتدریج  نقطۂ سنگینی پر پہنچ چکے ہیں۔ رائٹ ونگ کا عروج، اقلیتوں کے خلاف جارحیت اور تشدد، کشمیر میں حقوقِ انسانی کی پامالی، آدی باسیوں پر اسٹیٹ کے مظالم، دلتوں پر انھی تاریک قوتوں کے مظالم جنھوں نے اقلیتوں کو بھی  مسلسل نشانے پر رکھا ہے—  یہ وہ حقائق ہیں جو ایمرجنسی، 1984 کے سکھ مخالف فسادات، 2002 کے گجرات کا قتلِ عام، 1990 کی دہائی میں آزادی کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد، مرکزی ہندوستان میں آدی باسیوں پر تنگ ہوتی زندگی سے لے کر رام مندر اور گئو رکشا کی سیاست کے وسیلے سے بے پناہ مہارت کے ساتھ ایک ایسے گرانڈ نیریشن کا حصہ بنے ہیں جو بظاہر خالص افسانوی ہے، گو کہ ان میں بہت سے کرداروں، بلکہ سیاسی کرداروں کو بہ آسانی پہچانا جا سکتا ہے۔

اس ناول میں انجم کے وسیلے سے پرانی دہلی کی جس گونا گوں زندگی کی عکاسی ہوئی ہے، اس کی ایک جھلک مندرجۂ ذیل اقتباس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ حصہ ناول کے دوسرے باب’’خواب گاہ‘‘ سے مقتبس ہے:    (ارجمند آرا، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف دہلی، ہندوستان)

خواب گاہ

پانچ بچوں میں وہ چوتھے نمبر کی تھی۔ جنوری کی ایک سرد رات کو چراغ کی روشنی میں (پاور کٹ) دہلی کے فصیل بند شہر شاہجہان آباد میں پیدا ہوئی۔ احلام باجی، یعنی زچگی کرانے والی دائی نے دو شالیں اس کے گرد لپیٹیں اور اس کی ماں کی گود میں دیتے ہوئے کہا تھا، ’لڑکا ہوا ہے۔‘ حالات کو دیکھیں تو ان کا یہ سہو سمجھ سے بعید نہیں۔

جہاں آرا بیگم کے پہلے حمل کو ابھی مہینہ بھر نہیں گزرا تھا کہ انھوں نے اور ان کے شوہر نے طے کیا کہ اگر لڑکا ہوا تو اس کا نام آفتاب رکھیں گے۔ لیکن ان کی اوّلیں تین اولادیں لڑکیاں نکلیں۔ اپنے آفتاب کا انتظار وہ لوگ گزشتہ چھ برس سے کر رہے تھے۔ جس رات وہ پیدا ہوا، وہ جہاں آرا بیگم کی زندگی کی سب سے مسرت بخش رات تھی۔

اگلی صبح جب سورج طلوع ہوا اور کمرے کی فضا نرم اور گرم ہو گئی تو انھوں نے ننھے آفتاب کے کپڑے اتارے۔ اس کے ننھے بدن کی پڑتال کرنے بیٹھیں — آنکھیں، ناک، سر، گردن، بغلیں انگلیاں، انگوٹھے ایک سیر ی اور بے تعجیل مسرت کے ساتھ ٹٹولے۔ تبھی اس کے مردانے اعضا کے نیچے لگا ایک چھوٹا سا، ادھورا، لیکن بلا شبہ زنانہ حصہ نظر آیا۔

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ماں اپنے ہی بچے سے دہشت زدہ ہو جائے؟ جہاں آرا بیگم ہو گئیں۔ ان کا پہلا ردِ عمل یہ تھا کہ انھوں نے اپنے دل کو سکڑتے اور اپنی ہڈیوں کو راکھ میں تبدیل ہوتے محسوس کیا۔ دوسرے ردِ عمل میں انھوں نے دوبارہ دیکھا کہ کہیں ان سے غلطی تو نہیں ہوئی۔ تیسرے ردِ عمل میں انھوں نے صدمے کے مارے اپنی تخلیق سے منہ موڑ لیا اور عین اسی لمحے ان کی آنتوں میں مروڑیں اٹھیں اور دست کی ایک پتلی سی دھار ان کی ٹانگوں کے درمیان بہہ نکلی۔ اپنے چوتھے ردِ عمل میں انھوں نے خود کو اور بچے کو مارنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ پانچواں ردِ عمل یہ ہوا کہ انھوں نے بچے کو اٹھایا، سینے سے لگایا اور اپنی مانوس دنیا اور اُن دنیاوں کے درمیانی شگاف میں گرتی چلی گئیں جن کے وجود سے وہ انجان تھیں۔ اس پاتال میں، تاریکی میں چکر کاٹتے ہوئے، ہرشے جس کے متعلق وہ اب تک پُریقین تھیں، چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی شے، ان کے نزیک اپنے معنی کھو بیٹھی۔ اردو میں، اس واحد زبان میں جو وہ جانتی تھیں، تمام اشیا کی جنس مقرر تھی۔ صرف جاندار نہیں بلکہ تمام اشیا کی— قالین، کپڑے، کتابیں، قلم، آلات موسیقی۔ ہر شے یا تو مذکر تھی یا مونث، مرد تھی یا عورت۔ ہر شے، سواے ان کے اپنے بچے کے۔ بے شک انھیں معلوم تھا کہ اس جیسوں کے لیے بھی ایک لفظ موجود ہے — ہیجڑا۔ بلکہ دو لفظ ہیں — ہیجڑا اور مخنث۔ لیکن محض دو لفظوں سے مل کر کوئی زبان تو نہیں بن جاتی!

کیا زبان کے دائرے سے باہر جینا ممکن ہے؟ ظاہر ہے یہ سوال الفاظ میں ڈھل کرنہیں آیا، یا کسی فصیح جملے کی صورت میں ان سے مخاطب نہیں ہوا۔  یہ شکم سے نکلی ایک بے صوت، ازلی چیخ کی صورت میں مخاطب ہوا تھا۔

چھٹا ردّ عمل یہ تھا کہ وہ نہائی دھوئیں اور اپنے دل میں طے کیا کہ فی الحال کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی۔ اپنے شوہر کو بھی نہیں۔ ساتواں ردّعمل یہ تھا کہ وہ آفتاب کے قریب لیٹ گئیں اور آرام کرنے لگیں۔ جس طرح اہلِ کتاب کے خدا نے آسمان اور زمین کی تخلیق کے بعد آرام کیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ خدا نے اپنی تخلیق کردہ دنیا کو شعور عطا کرنے کے بعد آرام کیا تھا جب کہ جہاں آرا بیگم نے تب آرام کیا جب اس شے نے ان کے شعور دنیا کو زیرو زبر کر دیا جو انھوں نے تخلیق کی تھی۔

خیر یہ سچ مچ کا زنانہ حصہ تو ہے نہیں، انھوں نے خود کو سمجھایا۔ اس کا سوراخ کھلا ہوا نہیں تھا (انھوں نے جانچ لیا تھا)۔ محض پیوند تھا، ننھی سی شے۔ شاید خود بخود بند ہو جائے گی، ٹھیک ہو جائے گی یا کسی طرح مندمل ہو جائے گی۔ وہ جتنی درگاہیں جانتی ہیں سب پر جائیں گی اور پروردگار سے رحم کی بھیک مانگیں گی۔ وہ رحم ضرور کرے گا۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ کرے گا۔ شاید اس نے رحم کیا بھی، ان طریقوں سے کیا جنھیں وہ کاملاً سمجھ نہ سکتی تھیں۔

جس دن جہاں آرا بیگم نے محسوس کیا کہ وہ گھر سے نکلنے کے قابل ہوگئی ہیں، اسی دن وہ ننھے آفتاب کو لے کر حضرت سرمد شہید کی درگاہ پر گئیں جو اُن کے گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر تھی۔ تب تک وہ حضرت سرمد شہید کی کہانی نہیں جانتی تھیں اور انھیں کچھ اندازہ نہ تھا کہ کس نے ان کے قدم اتنے ایقان کے ساتھ ان کی درگاہ کی جانب اٹھائے ہیں۔ شاید انھوں نے خود اپنے پاس بلایا تھا۔ یا شاید ان عجیب و غریب لوگوں کی کشش تھی جنھیں وہ مینا بازار جاتے وقت راستے میں ڈیرا ڈالے دیکھتی تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن پر اپنی گزشتہ زندگی میں وہ شاید ایک نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کرتیں، البتہ سامنے ہی پڑ جاتے تو دوسری بات تھی۔ یہ لوگ اب انھیں دفعتاً دنیا کے اہم ترین انسان لگنے لگے۔

حضرت سرمد شہید کی درگاہ کے بیشتر زائرین کو اُن کی کہانی معلوم نہ تھی۔ بعض کو کچھ حصے معلوم تھے، بعض کو کچھ بھی پتا نہ تھا اور بعض نے اپنی کہانیاں خود گڑھ لی تھیں۔ بیشتر لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ یہودی نسل کے آرمینی تاجر تھے جو اپنی محبت کا پیچھا کرتے ہوئے فارس سے دہلی آئے تھے۔ کم لوگوں کو معلوم تھا کہ ان کی زندگی کی یہ محبت ابھے چند نام کا ایک نوعمر ہندو لڑکا تھا جس سے ان کی ملاقات سندھ میں ہوئی تھی۔ بیشتر لوگ جانتے تھے کہ انھوں نے یہودیت ترک کرکے اسلام قبول کر لیا تھا۔ کم لوگوں کو معلوم تھا کہ ان کی روحانی تلاش نے آخر کار ان سے روایتی اسلام بھی ترک کرا دیا تھا۔ بیشتر لوگ جانتے تھے کہ برسرِ عام سزاے موت سے پہلے وہ فقیر بنے شاہجہان آباد کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ گھومتے تھے۔ کم لوگ جانتے تھے کہ انھیں سزاے موت برسرِ عام عریاں گھومنے کی پاداش میں نہیں دی گئی، بلکہ مرتد ہو نا ان کا جرم تھا۔ اس زمانے کے بادشاہ اورنگ زیب نے انھیں اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کلمہ پڑھ کر ثابت کیجیے کہ وہ سچے مسلمان ہیں: لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ کوئی معبود نہیں سواے اللہ کے، اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ لال قلعے کے شاہی دربار میں قاضیوں اور مشائخ کی جماعت کے سامنے سرمد عریاں کھڑے تھے۔ انھوں نے کلمہ پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ آسمان میں بادلوں نے تیرنا بند کر دیا، پرندے بیچ اڑان میں ٹھہر گئے اور قلعے کی ہوا گراں اور ٹھوس ہو گئی۔ لیکن کلمہ شروع کرتے ہی وہ رک گئے۔ انھوں نے کلمے کا صرف پہلا حصہ پڑھا: لا الہ۔ کوئی معبود نہیں۔ انھوں نے بہ اصرار کہا کہ وہ تب تک آگے نہیں پڑھیں گے جب تک کہ ان کی روحانی تلاش ختم نہ ہو جائے اور وہ اللہ کو صدقِ دل سے قبول نہ کرلیں۔ انھوںنے کہا کہ اس منزل کے بغیر کلمہ پڑھنا، عبادت کی تضحیک کے مترادف ہے۔ اورنگ زیب نے اپنے قاضیوں کی حمایت سے سرمد کو موت کی سزا سنا دی۔

اس سے یہ فرض کرنا غلط ہوگا کہ جو لوگ کہانی جانے بغیر حضرت سرمد شہید سے اظہارِ عقیدت کے لیے آتے تھے وہ حقائق اور تاریخ کو جانے بغیر، نادانی میں ایسا کرتے تھے۔ کیوںکہ درگاہ کے اندر سرمد کی سرکش روح، جو تمام تاریخی حقائق کے کسی بھی انبار سے زیادہ قوی، مرئی اور حقیقی ہے، ان لوگوں پر ظاہر ہو جاتی تھی جو منتیں مانتے تھے۔ انھوں نے روحانیت کو ظاہر داری پر، سادگی کو امیری پر ترجیح دی اور امکانی موت کے سائے میں ایک خودسر، وجدانی عشق کا جشن منایا (کبھی تبلیغ نہ کی)۔ جو لوگ ان کے پاس آتے ، سرمد کی روح نے انھیں اجازت دی تھی کہ وہ ان کی کہانی میں جس طرح چاہیں، حسبِ ضرورت پھیر بدل کر لیں۔

جہاں آرام بیگم جب درگاہ کی ایک جانی پہچانی صورت بن گئیں تو انھوں نے بھی یہ کہانی سنی (اور اسے عام کیا) کہ کس طرح جامع مسجد کی سیڑھیوں پر، بلکہ صحیح معنوں میں ان لوگوں کے سمندر کے سامنے سرمد کا سر کاٹا گیا جو اُن سے محبت کرتے تھے اور انھیں رخصت کرنے جمع ہوئے تھے،کہ کس طرح تن سے جدا ہو نے کے بعد بھی ان کا سر عشقیہ اشعار پڑھتا رہا، اور یہ کہ انھوں نے کس طرح اپنے متکلم سر کو اپنے ہاتھ میں یوں سرسری انداز میں اٹھا لیا جیسے آج کے زمانے میں موٹر سائیکل سوار اپنا ہیلمٹ اٹھاتا ہے، اور پھر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جامع مسجد میں داخل ہو گئے اور پھر اتنے ہی سہج ڈھنگ سے جنت میں چلے گئے۔ جہاں آرا بیگم بتایا کرتی تھیں (جو بھی سننے کو تیار ہو جائے، اسی کو) کہ اسی وجہ سے حضرت سرمد کی چھوٹی سی درگاہ(جو جامع مسجد کی نچلی مشرقی سیڑھیوں سے گھونگھے کی طرح چمٹی ہوئی ہے، اسی جگہ جہاں ان کے خون کا تالاب بن گیا تھا) کا فرش سرخ ہے، دیواریں سرخ ہیں اور چھت بھی سرخ ہے۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ تین سو سال سے زیادہ گزر گئے لیکن حضرت سرمد کاخون دھویا نہیں جا سکا۔ وہ بہ اصرار کہتی تھیں کہ درگاہ پر کوئی بھی رنگ پوت دو، وقت کے ساتھ وہ اپنے آپ سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

درگاہ جانے کے لیے جب وہ پہلے پہل بھیڑ سے گزریں — عطر اور تعویذ فروش، زائرین کے جوتوں کے محافظ، اپاہج، بھکاری، بے گھر بے در لوگ، عید پر ذبح کرنے کے لیے فربہ کیے جاتے بکرے، نیز بوڑھے ہیجڑوں کا پرسکون گروہ جس نے درگاہ کے باہر ایک ترپال کے نیچے گھر بسا رکھا تھا — اور چھوٹے سے سرخ حجرے میں داخل ہوئیں تو جہاں آرا بیگم کو قرار آ گیا۔ سڑک کا شور مدھم پڑ گیا اور یوں لگنے لگا جیسے کہیں دور سے آ رہا ہو۔ سوئے ہوئے بچے کو گود میں لٹا کر وہ ایک گوشے میں بیٹھ گئیں اور دیکھتی رہیں کہ لوگ، جو مسلمان بھی ہیں اور ہندو بھی، ایک ایک، دو دو آتے ہیں، مزار کے اطراف کی جالیوں میں لال دھاگے، لال چوڑیاں اور کاغذ کے پرزے باندھتے ہیں اور سرمد سے اپنی ضرورتیں بیان کرتے ہیں۔ جہاں آرا بیگم کا دھیان ایک نورانی بزرگ کی طرف گیا جن کی جلد خشک و کاغذی اور داڑھی نور کی کڑھی اور سبک تھی، اور جو ایک گوشے میں بیٹھے جھول رہے تھے اور خاموشی سے کچھ یوں رو رہے تھے جیسے ان کا دل ٹوٹ گیا ہو، تو انھیں دیکھ کر جہاں آرا بیگم نے بھی اپنے آنسو بہنے دیے۔ ’یہ میرا بیٹا آفتاب ہے،انھوں نے حضرت سرمد سے سرگوشی میں کہا، ’میں اسے یہاں آپ کے پاس لائی ہوں۔ اس کا خیال رکھیے اور مجھے سکھائیے کہ کس طرح اس سے محبت کروں۔‘

حضرت سرمد نے ایسا ہی کیا۔

oooo

آفتاب کی زندگی کے چند ابتدائی برسوں تک جہاں آرا بیگم کا یہ راز چھپا رہا۔ جتنے دن وہ اس کے زنانے حصے کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرتی رہیں، انھوں نے آفتاب کو اپنے قریب رکھا اور جی جان سے اس کی حفاظت کی۔ جب ان کا چھوٹا بیٹا ثاقب پیدا ہوا تب بھی وہ آفتاب کو خود سے زیادہ دور نہیں جانے دیتی تھیں۔ ایک ایسی عورت کے لیے اسے غیر معمولی رویہ نہیں سمجھا گیا جس نے بیٹے کی پیدا ئش کا اتنا طویل اور اتنے اضطراب سے انتظار کیا ہو۔

جب آفتاب پانچ برس کا ہوا تو وہ چوڑی والان میں واقع لڑکوں کے اردو ہندی کے مدرسے میں پڑھنے لگا۔ ایک سال کے اندر وہ قرآن اچھا خاصا پڑھنے لگا، البتہ یہ واضح نہیں کہ سمجھتا کتنا تھا — یہی بات بقیہ لڑکوں پر بھی صادق آتی تھی۔ آفتاب اوسط درجے کے طلبہ سے بہتر تھا، لیکن جب بہت چھوٹا تھا تبھی یہ عیاں ہو گیا تھا کہ اس کا اصلی ہنر موسیقی ہے۔ اس کی آواز شیریں اور صحیح معنوں میں مترنم تھی اور ایک بار سن کر ہی وہ طرز پکڑ لیتا تھا۔ اس کے والدین نے طے کیا کہ اسے استاد حمید خاںکے پاس بھیجیں گے جو ایک نوجوان ممتاز موسیقار تھے اور چاندنی محل میں واقع اپنے تنگ سے مکان میں بچوں کی ایک ٹولی کو کلاسیکی ہندوستانی موسیقی سکھایا کرتے تھے۔ ننھے آفتاب نے ایک دن بھی ناغہ نہیں کیا۔ نو برس کی عمر تک وہ راگ یمن، دُرگا اور بھیرو میں ’بڑا خیال‘ بیس بیس منٹ تک گانے لگا اور راگ پوریہ دھناشری کے کومل رکھب میں اپنی شرمیلی آواز اس طرح بالا ہی بالا نکال لے جاتا جیسے کوئی پتھر جھیل کی سطح سے بالا ہی بالا گزر جائے۔ چیتی اور ٹھمری کو لکھنوکی طوائفوں جیسی مہارت اور توازن سے گا سکتا تھا۔ شروع میں لوگ محظوظ ہوتے اور اس کا حوصلہ بڑھاتے تھے لیکن جلد ہی بچوں نے اس کا مذاق اڑانا اور چھیڑنا شروع کر دیا: ارے زنانہ ہے۔ مرد نہیں، عورت بھی نہیں۔ مرد بھی ہے، عورت بھی۔ عورت مرد۔ مرد عورت۔ ہی! ہی! ہی! شی! شی! !

جب ان کا چھیڑنا ناقابلِ برداشت ہو گیا تو آفتاب نے موسیقی کی تعلیم ترک کر دی۔ لیکن استاد حمید، جو اس پر جان چھڑکتے تھے، خود ہی الگ سے سکھانے پر راضی ہو گئے۔ اس طرح موسیقی کے سبق تو جاری رہے لیکن آفتاب نے اسکول جانے سے انکار کر دیا۔ تب تک جہاں آرا بیگم کی امیدیں تقریباً دم توڑ چکی تھیں۔ اس کے ٹھیک ہونے کی کوئی علامت دور دور تک ظاہر نہ تھی۔ چند برسوں تک وہ نت نئے بہانے تراش کر اس کے ختنہ رکواتی رہی تھیں۔ لیکن ننھا ثاقب اپنی باری کا منتظر تھا اور وہ جانتی تھیں کہ وقت ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ بالآخر انھوں نے وہی کیا جو انھیں کبھی نہ کبھی کرنا تھا۔ ہمت باندھی اور اپنے شوہر کو بتا تے وقت دکھ اور راحت کے آنسو رو پڑیں کہ آخر کوئی تو ہے جسے وہ اپنے دہشت انگیز خواب میں شریک کر سکتی ہیں۔

ان کے شوہر ملاقات علی پیشے سے حکیم تھے — نیز اردو فارسی شاعری کے عاشق۔ ساری زندگی انھوں نے ایک اور حکیم کے ہاں کام کیا تھا — حکیم عبدالمجید کے ہاں جو شربت کے معروف و مقبول برانڈ ’روح افزا ‘کے بانی تھے۔ خرفہ کے بیج، انگور، سنترے، تربوز، پودینہ، گاجر، تھوڑے پالک، خش خش، کنول، دو قسم کے سوسن کے پھولوں اور دمشقی گلاب کے عرق سے بنا روح افزا بطور ٹانک استعمال ہونا تھا۔ لیکن لوگوں نے دیکھا کہ چمکیلے یاقوتی رنگ کے اس شربت کے دو چمچ اگر ٹھنڈے دودھ میں یا صرف سادہ پانی میں گھول دیے جائیں تو نہ صرف خوش ذائقہ ہو تا ہے بلکہ دہلی کی جھلسانے والی گرمی اور ریتیلی ہواوں میں اڑنے والے عجیب و غریب بخارات کا بھی اچھا علاج ہے۔ جو مشروب بطور دوا شروع کیا گیا تھا، جلد ہی اس علاقے میں گرمیوں کا مقبول ترین شربت بن گیا۔ روح افزا ایک کامیاب صنعت اور ہر گھر کا حصہ ہو گیا۔ چالیس برس تک اس نے بازار پر حکمرانی کی۔ پرانی دلّی میں واقع ہیڈ کوارٹر میں تیار روح افزا دور دور تک بھیجا جاتا — دکن میں حیدرآباد سے لے کر مغرب میں افغانستان تک۔ پھر ملک تقسیم ہو گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی سرحد پر خدا کی شہ رگ کھل گئی اور دس لاکھ لوگ نفرت کا شکار ہو کر مارے گئے۔ ہمسایے ایک دوسرے پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے باہم کبھی آشنا نہ رہے ہوں، شادی بیاہ میں شریک نہ ہوئے ہوں، ایک دوسرے کے گیت نہ گائے ہوں۔ فصیلِ شہر میں دراریں کھل گئیں۔ قدیمی خاندان (مسلمانوں کے) فرار ہونے لگے۔ نئے خاندان (ہندووں کے) آکر فصیلِ شہر کے ارد گرد بسنے لگے۔ روح افزا کو شدید نقصان پہنچا لیکن جلد ہی اس بحران سے نکل آیا اور پاکستان میں اس کی شاخ کھل گئی۔ ایک چوتھائی صدی گزرنے پر، مشرقی پاکستان میں قتلِ عام کے بعد اس نے اپنی ایک شاخ نوزائیدہ ملک بنگلہ دیش میں بھی قائم کرلی۔ لیکن روح کو تازگی دینے والا روح افزا جو جنگوں اور تین تین ملکوں کی خونیں پیدائش جھیل کر بھی بچ گیا تھا، دنیا کی بیشتر اشیا کی طرح بالآخر کوکا کولا سے مات کھا گیا۔

ملاقات علی حالاںکہ حکیم عبدالمجید کے بھروسہ مند اور اہم ملازموں میں تھے لیکن جو تنخواہ پاتے تھے وہ ان کی ضرورتوں کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ ملازمت کے بعد خالی اوقات میں گھر ہی پر مریض دیکھتے تھے۔ جہاں آرا بیگم سفید سوتی کپڑے کی گاندھی ٹوپیاں بنا تیں اور انھیں چاندنی چوک کے ہندو دکانداروں کو تھوک سپلائی کرکے اپنی گھریلو آمدنی میں اضافہ کرتی تھیں۔

ملاقات علی اپنا نسب براہِ راست منگول بادشاہ چنگیز خان سے ملاتے تھے، اس کے دوسرے بیٹے چغتائی کے وسیلے سے۔ ایک بوسیدہ چرمی پارچے پر لکھا ان کے خاندان کا تفصیلی شجرہ ان کے پاس موجود تھا، اور ٹین کا ایک چھوٹا سا ٹرنک بھی جس میں زرد، بھربھرے کاغذات رکھے تھے جنھیں وہ اپنے دعوے کا دستاویزی ثبوت مانتے تھے، جس کے مطابق یہ واضح تھا کہ صحراے گُبی کے قبیلہ شمن کے لوگ، جو’ابدی نیلے آسمان‘ کی پرستش کرتے تھے اور کبھی اسلام کے دشمن سمجھے جاتے تھے، کس طرح مغلیہ خاندان کے اجداد تھے جس نے ہندوستان پر کئی صدیوں تک حکومت کی؛ نیز خود ملاقات علی کا خاندان کس طرح انھی مغلوں کی ایک شاخ ہے جو سنّی تھے لیکن بعد میں شیعہ ہو گئے۔ بعض دفعہ، شاید کئی برس میں ایک بار، وہ ٹرنک کھولتے اور اپنے کاغذات کسی ملاقاتی صحافی کو دکھاتے، جو اکثرو بیشتر ان کی بات نہ تو توجہ سے سنتا اور نہ سنجیدگی سے لیتا۔ زیادہ سے زیادہ اتنا ہوتا کہ ان کا دیا ہوا طویل انٹرویو پرانی دلی پر ہفتہ واری خصوصی فیچر میں ایک تمسخرانہ، پرلطف تذکرہ بن کر رہ جاتا۔ اگر دو صفحوں پر پھیلا ہوتا تو ملاقات علی کی ایک چھوٹی سی تصویر بھی مغلیہ کھانوں کے کلوز اپ، دلی کی گندی تنگ گلیوں سے گزرتے سائیکل رکشہ پر بیٹھی برقعے والی عورتوں کے لانگ شاٹ اور جامع مسجد میں صفیں باندھے، نماز میں مصروف سفید ٹوپیوں والے ہزاروں مسلمانوں کی بلندی سے لی ہوئی تصویر کے ساتھ شائع ہو جاتی۔ ان اخباروں کے بعض قارئین اس طرح کی تصویروں کو سیکولرازم اور بین مذہبی رواداری کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کی کامیابی کا ثبوت مانتے۔ بعض دوسرے اس پر تھوڑی راحت محسوس کرتے کہ دہلی کی مسلم آبادی اپنے پُرہنگام گھیٹو، محصور بستی میں بند خاصی مطمئن لگتی ہے۔ بعض اور اس کا ثبوت مانتے کہ مسلمان ملک میں ’ضم ہونا‘ نہیں چاہتے اور بچے جننے اور خود کو منظم کرنے میں مصروف ہیں، نیز وہ جلد ہی ہندو بھارت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔ اس نظریے کو درست سمجھنے والوں کا دائرہ اثر تشویش کن تیزی سے بڑھ رہا تھا۔

اخباروں میں کیا چھپتا ہے اور کیا نہیں، اس سے بے نیاز ملاقات علی اپنی ہی سنک میں گم، اپنے ملاقاتیوں کا استقبال اپنے چھوٹے چھوٹے کمروں میں، اشرافیہ کی محو ہوتی ہوئی تمکنت کے ساتھ ہمیشہ یوں ہی کرتے رہے۔ ماضی کے متعلق وہ ایک وقار کے ساتھ باتیں کرتے تھے، ہوک کے ساتھ کبھی نہیں۔ وہ بتاتے کہ کس طرح تیرھویں صدی میں ان کے اجداد نے اس سلطنت پر حکمرانی کی تھی جو آج کے ویت نام اور کوریا سے لے کر ہنگری اور بلقان تک پھیلی تھی، نیز شمالی سائبیریا سے ہندوستان میں دکن کے پٹھار تک محیط تھی۔ دنیا نے جتنی بھی حکومتیں دیکھی ہیں، یہ ان میں عظیم ترین سلطنت تھی۔ انٹرویوکا خاتمہ وہ اکثر اپنے پسندیدہ شاعر میر تقی میر کے اس شعر پر کرتے:

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

ان کے بیشتر ملاقاتی، نئے حکمراں طبقے کے بدسلیقہ ایلچی، اپنی باتوں سے جھلکتے پُرشباب غرور سے بمشکل آگاہ، شعر کے تہہ دارمعنی کو پوری طرح سمجھ نہپاتے تھے، جو انھیں کچھ یوں سنایا جاتا جیسے وہ بھی ناشتہ ہو اور انگشتانے کے سائز کے کپ میں انھیں پیش کی گئی گاڑھی، میٹھی چائے کے ساتھ حلق کے نیچے اتارنا ہو۔ وہ اتنا تو یقینا سمجھ لیتے تھے کہ یہ ایک ایسی شکستہ سلطنت کا نوحہ ہے جس کی بین الاقوامی سرحدیں سکڑ کر اس غلیظ بستی تک محدود رہ گئی ہیں جو ایک پرانے شہر کی بوسیدہ فصیلوں میں محصور ہے۔ اور ہاں، وہ یہ بھی سمجھ لیتے تھے کہ یہ ملاقات علی کی ذاتی خستہ حالی پر ایک سوگوار تبصرہ ہے۔ لیکن جونکتہ ان سے بچ نکلتا، یہ تھاکہ یہ شعر کنایے کا ناشتہ، فریب کا سموسہ، نوحے میں لپٹی ہوئی تنبیہ ہے، جو مصنوعی انکسار کے ساتھ ایک ایسا دانا شخص پیش کر رہا ہے جسے اپنے سامع کی اردو سے ناواقفیت پر یقین کامل ہے، ایک ایسی زبان میں جو اپنے بولنے والوں کی مانند بتدریج گھیٹو بند کی جا رہی ہے۔

ملاقات علی کا شعری ذوق ایسا نہ تھا کہ بطور حکیم ان کے پیشے سے الگ کرکے محض شوق سمجھا جائے۔ ان کا ماننا تھا کہ شاعری شفا یاب کرتی ہے، یا کم از کم تقریباً ہر مرض میںشفا کی راہ پر ہم قدم ہوتی ہے۔ وہ اپنے مریضوں کو نسخے میں اشعار یوں لکھ کر دیتے تھے جیسے حکیم دوائیں لکھتے ہیں۔ اپنے مرعوب کن ذخیرہ اشعار سے وہ حسبِ ضرورت ایسا شعر چنتے جو ہر بیماری، ہر موقعے، ہر موڈ اور سیاسی ماحول کے لطیف ترین تغیر پر چسپاں ہو جاتا تھا۔ ان کی اس عادت کے سبب گرد وپیش کی زندگی مزید گہری لگتی اور ساتھ ہی اتنی امتیازی بھی نہیں جتنی کہ وہ فی الحقیقت تھی۔ ان کے اشعار ہر شے میں ٹھہراو کا ایک لطیف احساس بھر دیتے، یہ احساس کہ جو کچھ ہو رہاہے، پہلے بھی ہو چکا ۔ ایسا پہلے بھی لکھاجا چکا، گایا جا چکا، تبصروں کا موضوع بن چکااور تاریخ کی فہرست میں درج ہو چکا ہے۔ کچھ بھی نیا ہونا ممکن نہیں۔ شاید یہی سبب ہو کہ ان کے آس پاس کے اکثر نوجوان اس وقت ہنس کر بھاگ نکلتے جب وہ محسوس کرتے کہ بس اب کوئی شعر نازل ہونے ہی والا ہے۔

جہاں آرا بیگم نے جب انھیں آفتاب کے بارے میں بتایا تو شاید اپنی زندگی میں پہلی بار ملاقات علی کو حسبِ موقع کوئی شعر یاد نہیں آیا۔ ابتدائی صدمے سے نکلنے میں انھیں تھوڑا وقت لگا۔ جب نکل آئے تو بیوی کو ڈانٹا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تھا۔ وقت بدل چکا ہے، انھوں نے کہا۔ آج ایک جدید زمانہ ہے۔ انھیں یقین تھا کہ ان کے بیٹے کے مسئلے کا کوئی سیدھا سادہ میڈیکل حل ضرور موجود ہے۔ وہ نئی دہلی میں کوئی ایسا ڈاکٹر ڈھونڈ نکالیں گے جو پرانے شہر کے محلوں میں پھیلنے والی افواہوں اور سرگوشیوں سے دور ہو۔ پروردگار انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں، انھوںنے اپنی بیوی سے ذرا سخت لہجے میں کہا۔

ایک ہفتے بعد اپنے بہترین لباس پہن کر انھوں نے ناخوش آفتاب کو سرمئی پٹھانی سوٹ پر زر دوزی کی سیاہ واسکٹ پہنائی، سر پر گول ٹوپی رکھی اور سلیم شاہی جوتیاں پہنا کر، تانگے پر سوار ہو نظام الدین کے لیے چل پڑے۔ دن بھر باہر رہنے کا مقصد یہ ظاہرکیا گیا کہ وہ اپنے بھتیجے اعجاز کے لیے دلہن دیکھنے جا رہے ہیں — ملاقات علی کے بڑے بھائی قاسم کے چھوٹے بیٹے کے لیے، جو ملک کے بٹوارے کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں روح افزا کی برانچ میں کام کرتے تھے۔ اصل وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر غلام نبی سے، جو خود کو ’ماہرِ جنسیات‘ بتاتے تھے، انھوں نے ملاقات کا وقت طے کیا تھا۔

ڈاکٹر نبی خود پر نازاں تھے کہ وہ دوٹوک بات کرنے والے، خالص سائنسی مزاج کے آدمی ہیں۔ آفتاب کی جانچ کے بعد انھوں نے کہا کہ میڈیکل کی زبان میں وہ ہیجڑا — یعنی مردانے قالب میں قید عورت نہیں ہے، لیکن عملی ضرورت کے تحت یہ لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آفتاب ہرمیفروڈائٹ کا ایک نادر نمونہ ہے جس میں مردانہ اور زنانہ، دونوں طرح کی خصوصیات ہوتی ہیں، لیکن ظاہرا مردانہ خصوصیات غالب تر محسوس ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک سرجن کا نام بتا ئیں گے جو اس کے زنانہ حصے کو بند کر کے ٹانگے لگا دے گا۔ شاید کچھ گولیاں بھی تجویز کرے۔ لیکن مسئلہ اتنا سیدھا سادہ بھی نہیں ہے، انھوں نے کہا۔ علاج سے یقینا فائدہ ہوگا لیکن ہیجڑے پن کی فطرت برقرار رہے گی، جس کے معدوم ہونے کا امکان نہیں۔ وہ پوری کامیابی کی ضمانت نہیں لے سکتے۔ ملاقات علی، جو تنکے کا سہارا لینے کو تیار بیٹھے تھے، حوصلہ پاکر مسرور ہو گئے۔ ’فطرت؟‘ وہ بولے، ’فطرت کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر آدمی کی کوئی نہ کوئی فطرت ہوتی ہے فطرت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔’

حالاںکہ ڈاکٹر نبی کو دکھانے سے اُس مسئلے کا کوئی فوری حل نہیں نکلا جسے ملاقات علی آفتاب کی بدبختی سمجھتے تھے، لیکن اس سے خود ملاقات علی کو بہت فائدہ ہوا۔ خود کو منظم کرنے میں، اپنے جہاز کو متوازن کرنے میں انھیں رہنمائی ملی، جو اشعار کے بغیر عدم تفہیم کے سمندر میں ہچکولے کھا رہا تھا۔ وہ اب اس قابل ہو گئے کہ اپنے غم کو ٹھوس مسئلے کا روپ دے سکیں اور اپنی ساری توجہ اور توانائی اس بات کی جانب موڑ دیں جو وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے: سرجری کے لیے مناسب رقم کس طرح جمع کی جائے؟

انھوںنے گھریلو اخراجات کم کر دیے اور ایسے لوگوں اور رشتہ داروں کی فہرست تیار کرنے لگے جن سے وہ پیسا ادھار لے سکتے تھے۔ ساتھ ہی وہ آفتاب میں مردانہ اوصاف بھرنے کی مہم میں جٹ گئے۔ انھوں نے آفتاب کے دل میں شاعری کا عشق اتارا اور ٹھمری اور چیتی گانے کی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ وہ رات میں دیر تک جاگتے اور آفتاب کو اپنے جنگجو اجداد کے، نیز میدانِ جنگ میں ان کی بہادری کے قصے سناتے۔ آفتاب پر ان کا مطلق اثر نہ ہوتا۔ لیکن جب اس نے یہ کہانی سنی کہ تموجِن یعنی چنگیز خان نے اپنی خوبصورت بیوی بورتہ خاتون کا ہاتھ کس طرح جیتا، ایک دشمن قبیلے نے اسے کس طرح اغوا کیا، اسے واپس لانے کے لیے تموجن نے کس طرح تقریباً تنِ تنہا پوری فوج سے لوہا لیا کیوں کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا، تو اس پر آفتاب نے محسوس کیا کہ وہ خود بورتہ خاتون بننا چاہتا ہے۔

جب آفتاب کے بھائی بہن اسکول چلے جاتے تو وہ اپنے گھر کی چھوٹی سی بالکنی میں بیٹھا چتلی قبر کو دیکھا کرتا جو چتکبری بکری کا چھوٹا سا مزار ہے اور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے مافوق فطری قوتیں حاصل تھیں۔ وہ اس پرہجوم سڑک کو دیکھتے گھنٹوں گزار دیتا جو آگے جاکر مٹیا محل چوک سے مل جاتی ہے۔ اس نے جلد ہی محلے کے آہنگ کو پکڑ لیا جو اردو کی گالیوں کے تانتے پر مشتمل تھا — تیری ماں کو چودوں، جا اپنی بہن چود، ماں کے لوڑے — جس میں دن میں پانچ مرتبہ خلل اس وقت پڑتا جب جامع مسجد اور پرانی دلی کی دوسری مسجدوں سے اذان کی آوازیں آنا شروع ہوتیں۔ دن بہ دن کڑی نظر رکھتے ہوئے — کسی مخصوص شے پر نہیں — آفتاب نے دیکھا کہ تند مزاج مچھلی فروش گڈو بھائی چمکیلی تازہ مچھلیوں سے بھرا اپنا ٹھیلا منہ اندھیرے چوک کے بیچوں بیچ لا کھڑا کرتا، اتنی ہی پابندی سے جیسے سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں ڈوبتا ہے۔ دوپہر کے بعد اس کی جگہ طویل قامت اور ملنسار وسیم آ جاتا جو نان خطائی بیچتا تھا۔ شام کے وقت اس کی جگہ دبلے پتلے، منحنی سے میاں یونس چلے آتے جو پھل بیچتے تھے، اور رات ہوتے ہی وہ پھول کرکپا ہو موٹے تازے بریانی فروش حسن میاں میں تبدیل ہو جاتے، جو مٹیا محل کی بہترین بریانی تانبے کی بڑی سی دیگ سے نکال کر دیتے تھے۔ موسمِ بہار کی ایک صبح آفتاب نے دیکھا کہ ایک دراز قامت، پتلے کولہوں والی عورت، چمکیلی لپ اسٹک لگائے، اونچی ایڑی کے سنہری سینڈل اور ساٹن کی چمک دار سبز شلوار قمیص پہنے، چوڑی فروش میر سے چوڑیاں خرید رہی ہے، جو شام کو چتلی قبر کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا۔ رات میں اپنی دوکان بڑھاتے اور مزارکو تالا لگاتے وقت وہ اپنی چوڑیوں کا ذخیرہ مزار کے اندر محفوظ کر دیتا تھا۔ (خیال رکھتا تھا کہ یہ دونوں کام بیک وقت انجام پائیں۔) آفتاب نے لپ اسٹک والی ایسی لمبی عورت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ کھڑی سیڑھیاں تیزی سے اترتا ہوا گلی میں چلا آیا اور محتاط فاصلے سے اس کا پیچھا کرنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ عورت نے بکری کے پائے خریدے، پھر بالوں کے پن اور امرود خریدے، اور اپنے سینڈلوں کے تسمے ٹھیک کرائے۔

وہ اب وہی بننا چاہتا تھا۔

اس نے گلی کے نکڑ سے ترکمان گیٹ تک اس کا تعاقب کیا اور اس نیلے دروازے کے سامنے دیر تک کھڑا رہا جس میں داخل ہوکر وہ غائب ہوئی تھی۔ کسی معمولی عورت کو ہرگز یہ اجازت نہ ہو سکتی تھی کہ وہ اس طرح کا لباس پہن کر شاہجہان آباد کی سڑکوں پر یوں کولھے مٹکاتی گھومے۔ شاہجہان آباد کی عام عورتیں برقعہ اوڑھتی تھیں یا کم از کم ہاتھ پیر چھوڑ کر، سر اور بقیہ جسم ڈھک کر رہتی تھیں۔ جس عورت کا پیچھا آفتاب نے کیا تھا وہ ایسا لباس پہن سکتی تھی اور ایسی مخصوص چال چل سکتی تھی کیوںکہ وہ عورت نہیں تھی۔ وہ جو بھی تھی، آفتاب کی خواہش وہی بننے کی تھی۔ اتنی شدت سے تھی کہ ایسی خواہش بورتہ خاتون بننے کی بھی نہ ہوئی تھی۔اس نے چاہا کہ اسی کی طرح وہ بھی گوشت کی ان دوکانوں کے سامنے سے جھلمل کرتا گزرے جن پر سالم بکروں کے جسم گوشت کی ایک لمبی دیوار کی مانند لٹکے تھے۔ وہ ’نیو لائف اسٹائل مینز ہیئر ڈریسنگ سیلون‘ کے سامنے سے مٹکتے ہوئے گزرنا چاہتا تھا جہاں الیاس نائی دبلے پتلے نوجوان قصائی لیاقت کے بال کاٹنے کے بعد انھیں برل کریم سے چمکا رہا تھا۔ اس نے چاہا کہ اپنے پالش لگے ناخنوں اور چوڑیوں بھری کلائی والے ہاتھ سے، نزاکت کے ساتھ مچھلی کا گلپھڑا اٹھا کر دیکھے کہ وہ تازہ ہے یا نہیں اور پھر مول بھاو کرے۔ اسے خواہش ہوئی کہ جب پانی کے کسی گڈھے کو پھلانگے تو اپنی شلوار تھوڑی سی اچکالے — بس اتنی کہ اس کی چاندی کی پازیبیں نظر آ جائیں۔

آفتاب کا زنانہ حصہ محض ایک پیوند نہ تھا۔

اس نے اپنا وقت موسیقی کی کلاس اور گلی دکوتان کے نیلے دروازے والے گھر کے باہر منڈلانے میں تقسیم کرنا شروع کر دیا جس میں وہ دراز قد عورت رہتی تھی۔ اسے پتا چلا کہ اس کا نام بامبے سلک ہے اور اس جیسی سات اور ہیں: بلبل، رضیہ، ہیرا، بے بی، نمّو، میری اور گڑیا — جو نیلے دروازے والی حویلی میں ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔ یہ بھی علم ہوا کہ ان کی ایک گرو ہے استاد کلثوم بی جو سب سے عمر دراز اور گھر کی سربراہ ہے۔ آفتاب کو یہ بھی معلوم ہوا کہ حویلی کا نام ’خواب گاہ‘ ہے۔

شروع میں اسے وہاں سے بھگا دیا جاتا تھا کیوں کہ خواب گاہ کے باشندوں سمیت ہر شخص ملاقات علی سے واقف تھا اور کوئی بھی انھیں ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن ہر طرح کی ڈانٹ پھٹکار اور سزا سے بے نیاز آفتاب ڈھیٹ بن کر روزانہ اپنے ٹھیے پر لوٹتا رہا۔ اس کی دنیا میں یہی واحد جگہ تھی جہاں آکر وہ محسوس کرتا کہ ہوا اس کے لیے راستہ بنا رہی ہے۔ جب وہ آتا تو محسوس کرتا کہ جیسے ہوا سرک گئی ہے، اس کے لیے جگہ بنا رہی ہے، جیسے کلاس کی بنچ پر کوئی دوست جگہ بناتا ہے۔ چند مہینوں تک ان کے چھوٹے موٹے کام کرکے، جب ساکنان خواب گاہ شہر کے دورے پر نکلتیں تو ان کے بیگ اور موسیقی کے ساز اٹھا کر، دن بھر کام کے بعد شام کو ان کے تھکے ہوئے پیروں کی مالش کرکے آفتاب نے آخر کار خواب گاہ میں ربط ضبط بڑھا لیا۔آخر وہ دن بھی آیا جب اسے داخلے کی اجازت مل گئی۔ وہ اس معمولی سے، ٹوٹے پھوٹے گھر میں اس طرح داخل ہوا جیسے جنت کے دروازے میں داخل ہو رہا ہو۔

انگریزی سے ترجمہ : ارجمند آرا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •