نہیں حکومت کی بات نہیں ہو رہی، شریفاں کی ہو رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ گھر سے سیر کو نہیں نکلتی تھی کام دھندے والی تھی سو گھر سے نکلنا ہی پڑتا۔ ہاں آن بان اور شان سے سج دھج کے نکلنا اسے پسند تھا سو وہ ایک ادا سے رہتی۔ لیکن دیکھنے والے تھے کہ اسے ہمیشہ ایک ہمہ وقتی ویہلی اور عیاش ہی سمجھتے تھے۔ سو اسے سر سے پاؤں تک دیکھنا شروع ہوئے۔ وہ کہ اس دیکھنے کو فطری سمجھ رہی تھی تھوڑی سی مغرور ہو کر قدرے زیادہ لچک کر چلنے لگی۔ ایک دو کو کہہ بھی دیا کہ گھر کی ماں بہنوں کی بدصورتی زیادہ تنگ کرتی ہے تو کوئی ڈھنگ کا ٹی وی ہی لے لو راہ چلتی شریفاں کو تنگ نہ کرو۔ شریفاں کو اس پر اعتراض نہ تھا کہ پیچھے لگ جانے والے تو عورت کی شوبھا اور مان بڑھاتے ہیں۔ اسے یقین دلاتے ہیں کہ وہ من چاہی ہے اور اس قابل ہے کہ بہت سوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ سو اس کی کمر کے بل اور خم میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ وہ مزید تن کر اور کولہے مٹکا کر چلنے لگی۔ ایک ایک انگ دعوت تھا کہ او مجھے دیکھو اور میرے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہاتھ ملو۔ چوکیدار کی مونچھیں تک اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئیں۔

نہیں۔ وہ تو ہر وقت کھڑی رہتیں تھیں۔ ہر آتی جاتی کو اپنے آہنی بازوؤں میں جکڑنے کی خواہش میں اس کی راتیں بے خواب گزرتی تھیں۔ وہ بہانے بہانے سے ہم کلام ہوا کرتا کبھی اس کے بالوں کے کلپ پر اپنے ہاتھ پھیرتا اور معنی خیز انداز میں اسے پوچھتا۔ ۔ ۔ ہمممم۔ ۔ اچھا۔ ۔ ۔ تو تم لوگوں کی نیندیں چراتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ کبھی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا تو انگلیوں کی حرکت میں سرسراہٹ سے زیادہ سختی ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ اور شریفاں تھی کہ دل دھڑ دھڑ کرتا رہتا لیکن وہ اپنی آن بان قایم رکھنے کو اسے آنکھیں دکھاتی رہتی۔ ۔ تجھے کیا ہے ماما۔ تو اپنا کام کر۔ تیرا کام چوکیداری ہے۔ ۔ ۔ میرے پھڈے میں ٹانگ نہ اڑا۔ ۔ ۔ چوکیدار ہنس دیتا اور ہنستے ہنستے اپنے ڈنڈے کو زمین پر زور سے مارتا۔ ۔ ڈنڈے کی آواز سے وہ اچھل کر پیچھے ہٹتی تو کبھی کوئی کنکر، کبھی کانٹا اس کے پیروں میں چبھ جاتا۔ ۔

جھلی نہ ہو وے تے۔ ۔ ۔ ۔ بس اتنی سی تو تو ہے۔ اگر کوئی ہاتھ بھی لگا دے گا تو تیری تو بس ہی ہو جائے گی۔ ۔ ۔ وہ اسے شہوت آمیز نظروں سے دیکھتا اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا۔ لیکن اس کی نگاہیں اور انداز۔ ۔ ۔ اس کا لمس اور اشارے بہت دن شریفاں کی نیند اڑائے رکھتے۔ چوکیدار نے تو اپنے ڈندے اور مونچھوں کے زور سے کئی اپنی راہ چلتیوں کو نہ صرف زبردستی اٹھا لیا تھا بلکہ کئی کئی سال گھر ہی میں ڈال لیا۔ لیکن وہ انھیں اٹھاتا تو مسلسل اونچی آواز میں کہتا جاتا۔

آحرافہ تجھے مزہ چکھاتا ہوں۔ ۔ ۔ لوگوں کے دین ایمان خراب کرتی پھرتی ہے۔ ۔ آ تو کیا اب اس طرح چست کپڑے پہن کے مٹک مٹک کر چلے گی اور سمجھے گی کہ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ ۔ ۔ ابھی میں ہوں۔ ۔ میں تو ڈندے کے زور پر بھی لوگوں کے ایمان کی حفاظت کروں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس کام میں اسے مہارت ایسی تھی کہ لوگ ان راہ چلتیوں ہی کو حرافہ سمجھتے۔ بلکہ اگر کوئی بھی ذرا سی مٹکتی تو لوگ خود خواہش کرتے کہ اسے چوکیدار اٹھا لے جائے۔ چوکیدار اگر کسی سر جھکا کر پہلو بچا کر سمٹی سمٹائی کو بھی کچھ نہ کہتا تو لوگ اسے چوکیدار ہی کی مہربانی سمجھتے۔ وہ گاؤں کا چوکیدار تھا، آئے دن گاؤں میں کبھی کسی کے گھر کی سیندھ لگتی تو کبھی کسی کی بھینس چوری ہوتی لیکن چوکیدار چونکہ لوگوں کی ماں بہنوں کی چوکیداری میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا لہذا اسے کوئی نہ پوچھتا کہ بھینس کس نے کھولی اور اس کے ہوتے گھر میں سیندھ کیسے لگی۔ البتہ جیسے ہی کسی کی جوانی کی دہلیز چڑھتی بیٹی تنگ چولی پہنتی یا بالوں میں رنگ برنگے کلپ لگاتی لوگ چوکیدار کو استفہامیہ اور ترغیب دلانے والی نظروں سے دیکھتے کہ اس فتنے کی سرکوبی کب کی جائے گی۔

خیر چوکیدار تو ایک ازلی خطرہ تھا ہی چھوٹے موٹے لچے لفنگے بھی اس کو چھیڑتے جسے وہ اپنے جوبن کا تقاضا اور فطری لازمہ سمجھ کر قبول کیے رہتی۔ کوئی کولہے پہ چٹکی بھر لیتا تو کوئی اس زور سے بازو مروڑ جاتا لیکن وہ اس سب کو راستے کا حصہ سمجھتی۔ بلکہ بعض اوقت تو اگر کوئی دھیان نہ دیتا تو وہ کھنکار کر متوجہ کرتی۔ ۔ سینہ تان لیتی اور دوپٹہ سرکا دیتی۔ ۔ ۔ اور جب کوئی اس کے ساتھ سے یوں گزرتا کہ وہ کچھ دیر کو دیوار سے لگ جاتی اور راہ گیر اس کے جسم کو مس کرتے ہوئے ہلکا سا دبا جاتا تو لذت بھری سسکاری اسے کئی دن تک مسرور بھی رکھتی۔ ابھی اس کی طلب باقی ہے، وہ ابھی بھی لوگوں کو متوجہ کر سکتی ہے۔ ۔ یہ سنسنی اس کے کانوں مکی لویں تک گرما دیتی۔ یہ چھیڑ چھاڑ اور آنکھ مٹکا اسے بھی پسند تھا۔ لیکن عجیب بات ہوئی کہ پٹھانوں کا لڑکا کہ جس کی عمر گزری تھی اسی دشت کی سیاہی میں، خاص طور پر اس کے پیچھے پڑ گیا۔ راہ جاتیوں کو پیچھے لگنے اور پیچھے پڑنے والوں سے مسئلہ نہیں ہوتاکہ ان کی چھیڑ چھاڑ سے تو راستے کی مشکلات کم لگتی ہیں۔

وہ اسے بھی ایک معمول کا حصہ سمجھ کر کام کے لیے نکلتی رہی۔ لوفر اور لفنگے اس پر آوازے کستے رہے۔ مسجد کے مولوی صاحب کو بھی کوئی پرانا غصہ تھا۔ وہ بھی خوش ہو گئے کہ اس حرافہ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا تھا۔

آ جاتی ہے روز ہمارا دل جلانے۔ ۔ دوپٹہ کیوں نہیں اوڑھتی۔ ۔ ۔ جہنمی کہیں کی۔ ۔ ۔ ایسا سنگھار کیوں کرتی ہے کہ راہ چلتے اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھیں۔ برقعہ کیوں نہیں پہنتی۔ گھر کی چار دیواری سے نکلتی ہی کیوں ہے۔ ۔ ارے اب عورتیں وہ بھی ایسی حرافائیں کام کریں گی تو ہم کیا یہاں خالی امامت ہی کرائیں گے کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس کو اس کی حدود میں رکھنے کے لیے ان سے اغماض برتتے جو اپنی ہی نہیں ہر طرح کی حدود پھلانگ جاتے۔

خیر مسئلہ تو ان کا ہوتا ہے جو آگے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بازو پھیلا کر راستہ روک لیتے ہیں۔ سو پٹھانوں کا اوباش لڑکا اس کے راستے میں بازو پھیلا کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ساتھ اسی کے کچھ دوست بھی تھے۔ سب کے سب ہاتھوں کی زنجیر بنائے اسے ماں بہن کی گالیاں دیتے۔ ۔ ۔ کبھی آنکھیں مارتے کبھی سیٹیاں۔ ۔ ۔ تجھے اٹھا کے لے جائیں گے۔ ۔ بس چوکیدار کا اشارہ ہونے دے۔ شریفاں نے کونے کھدروں سے نکلنے کی کوشش بہت کی لیکن اوباشوں کو تو کسی کا ڈر تھا ہی نہیں۔ الٹا ہلا شیری تھی۔ ۔ وہ چٹکی کاٹتے تو دیکھنے والے ہنستے اور خوش ہو ہو کر تالیاں بجاتے۔ وہ اس کو فحش گالیاں بکتے تو سننے والے ان گالیوں میں خود لذتی ڈھونڈتے۔ سر پنچ دیکھتے، چوکیدار کھڑا مسکراتا اور لوگ تالیاں بجاتے۔ ۔ ایک امتحان تھا کہ بلا۔ ۔ ۔ ۔ اوباشوں نے ڈیرہ لگا لیا۔ ۔ چوکیدار کبھی کبھی ازراہِ تفنن کہہ دیتا

اوئے کنجرو نہ چھیڑو اس ذلیل نوں۔ ۔ دفع کرو۔ ۔ ایہ تے ہے ای بے حیا۔ ۔
سر پنچ ہنستے۔ ۔ ۔ گندی عورت،
امام صاحب کہتے استغفراللہ۔ ۔ ایسی عورتیں جہنم کے گڑھے کو بھریں گی۔ ۔ ارے بھئی کیوں نہیں بیٹھ جاتی یہ گھر میں۔ ۔
لوگ کہتے۔ ۔ ۔ قصور تو اس بی بی کا ہی ہے۔ ۔ ۔ لیکن اوباشوں کو چاہیے کہ گندی حرکت کر لیں گالیاں نہ دیں

لیکن یہ تو مناہی سے زیادہ اکساہٹ تھی۔ ۔ چوکیدارکھڑا تماشے سے لطف اندوز ہوتا رہا اور ادھر کسی نے اس کے گھر کی دیوار ڈھا دی۔ ۔ اوباشوں کو اظہار ہمدردی کے لیے شریفاں کے گھر کے باہر سے اٹھنا پڑا۔ کچھ دن تو شریفاں ڈری سہمی رہی اور پھر اس کی لچک مٹک میں زیادہ بانکپن آنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ بھول بھال گئے کہ اس کو کیسے کیسے کہاں کہاں سے چھیڑا گیا تھا۔ ۔ ۔ پھر ایک دن کسی نے شریفاں کے باپ پر ایک مجرا دیکھنے کا الزام لگا دیا۔ ۔ مجرا بڑے شہر میں ہوا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اس مجرے میں شریفاں کی کمائی بے دریغ اڑائی گئی تھی۔ شریفاں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن سرپنچوں نے صاف کہہ دیا کہ چونکہ شریفاں کا باپ مجرے میں تو نہیں دیکھا گیا لیکن اس رات وہ اپنی پھپھی کے گھر ساتھ والے گاؤں میں رات کے کھانے پر مدعو تھا۔ اس کھانے پر وہ گیا نہیں لیکن اس نے اس دعوت کا ذکر کیوں نہ کیا۔ لہذا سے شریفاں کا باپ کہلانے کا حق نہیں ہے۔ ۔ ۔ شریفاں اور اس کے باپ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ۔ پھپھی کے گھر کھانا نہ کھانا بھی جرم تھا اور مجرا دیکھنے کے برابر کا جرم۔ ۔ ۔ بہر حال گاؤں والے جو تالیاں بجانے کے عادی تھے خوب زور زور سے تالیاں پیٹتے رہے۔ شریفاں کا باپ اب اس کا باپ نہیں تھا۔ ۔ ۔ اس کے باپ کا دوست اب اس کا باپ کہلایا جانے لگا۔ ۔ ۔ شریفاں نے تو اسے اپنا باپ تسلیم کر لیا لیکن مسئلہ شریفاں کی ماں کا تھا۔ وہ کیسے اپنے شوہر سے دستبردار ہوتی اور شوہر کیسے اپنی بیوی اپنے دوست کے حوالے کردیتا۔ ۔ بھلے سرپنچ اور چوکیدار کے ساتھ ساتھ گاؤں والے بھی اصرار کرتے رہیں۔ ۔ اس کی بلا سے۔ ۔ ۔ ۔

یہ بلا بھی ابھی پوری طرح ٹلی نہیں تھی کہ شریفاں کی شادی کا ارادہ باندھ لیا گیا۔ شرائط وضوابط تو طے تھے لیکن ان کی نوک پلک سنوارکر نئے سرے سے چھاپا گیا۔ لنگڑا کیدو جو کچھ دن پہلے شریفاں کے لیے رشتہ بھیج چکا تھا اور اس شادی کا شدید خواہشمند تھا نے پورے گاؤں میں اڑا دی کہ نئے قواعد میں تو نکاح کی حرمت ہی سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ۔ شریفاں کا پورا خاندان جو ان قواعد کو مرتب کرنے میں شامل تھا ہکا بکا رہ گیا۔ ۔ یہ کہاں لکھا گیا تھا؟ وہ سب چیختے چلاتے رہے خاص طور پر وہ بھائی جو اس کا محرک ہوا تھا لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سناتا رہا کہ اس نے نکاح کی حرمت سے انکار نہیں کیا۔ وہ تو اپنی بہن کی شادی کی خاطر ہی یہ سب کر رہا ہے۔ لیکن نہ تو اس کی بات کسی نے سنی۔ قواعد والی دستاویز کو کسی نے نہ دیکھا۔ ۔ کون دیکھتا اور کیوں دیکھتا۔ ۔ ۔ شریفاں کے امیدواروں کو معلوم تھا کہ لنگڑا کیدو جھوٹا ہے لیکن شریفاں اور اس کے خاندان کو سبق چکھانا ضروری تھا سو وہ خاموش رہے۔ ۔ ۔ ۔

اب لنگڑا کیدو اپنے خاندان اور ہمدردوں کے ساتھ شریفاں کے گھر کے باہر آ بیٹھا۔ ۔ ۔ وہ شریفاں کے بھائی کو شہوت بھری گالیاں دیتا سننے والے سر دھنتے اور ہاتھ ملتے۔ گاؤں والوں کے ہاتھ ایک اور تفریح لگ گئی۔ ایک ایسی تفریح جس میں سواد بھی تھا اور ثواب بھی۔ ۔ ۔ ناطقہ سر بگریباں اور عقل محوِ تماشائے لبِ پل رہی۔ ۔ ۔ سر پنچ نے ایک بار پھر انٹری دی۔ ۔ ۔ اس کیدو کی کیا جرات۔ ۔ ۔ شریفاں کے بھائی اور خود شریفاں اس کو اپنے گھر کے باہر سے اٹھائے۔ ۔ ۔ بڑا بھائی خاموش رہا تو سر پنچ نے کہا تو کیسا بھائی ہے۔ ۔ اے کشتہ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا۔ ۔ ۔ اس شخص کو یہاں سے اٹھا۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرایا جائے گا۔ ۔ ۔

بڑا بھائی اپنے رشتے داروں کے ساتھ آیا اور سر پنچ کی ہدایات پر عمل کروانے لگا۔ ۔ ۔ چوکیدار نے ڈنڈا اس کے سر پر رکھ لیا۔ ۔ ۔
سالے تو مارے گا؟ اپنی بہن کے طلب گاروں کو مارے گا؟ ہمارے بھیجے رشتے کو ٹھکرائے گا؟ مانگ معافی۔ ۔ ابھی ورنہ تیری بہن کو اٹھا لے جائیں گے۔ ۔ ۔

بڑا بھائی کہ لڑکی کا بھائی تھا۔ ۔ ۔ پاؤں بھی پڑا۔ ۔ معافی بھی مانگی۔ ۔ ۔ ۔ کہہ بھی دیا کہ یہ تاب یہ مجال یہ جرات نہیں مجھے کہ بہن کے یاروں یا یار ہونے کے دعوے داروں کو کچھ کہوں۔ ۔
کیدو نے اس کے منہ پر تھوکا اور اس کی ماں بہن اور خاندان کی ہر ہر عورت کو شہوت بھرے ارمانوں پر مبنی گالیاں دیں۔ ۔ ۔ اس نے سر پنچ کو بھی برا بھلا کہا۔ ۔ ۔ دوسری طرف سر پنچ نے پھر بڑے بھائی کو بلا لیا۔ ۔ ۔ ۔

کیوں بے تو نے اس کیدو سے معافی کیوں مانگی؟ تجھے کہا تھا اس کو اٹھانا ہے۔ ۔ مارنا ہے۔ ۔ ۔ تو نے میری بات نہ رکھی۔ ۔ ۔ تیری جرات کیسے ہوئی۔ ۔ ۔
بڑا بھائی بے چارہ چیخا چلایا کہ چوکیدار ساتھ کھڑا ہے، قلم سے زیادہ ڈنڈے کی طاقت سے ڈر لگتا ہے۔ ۔ ۔
سر پنچ نے کہا بہن تیری ہے کہ چوکیدار کی۔ ۔ ۔

سر پنچ جانتا بھی تھا کہ لاٹھی جس کے پاس ہو بہن اور بھینس اسی کے ساتھ جانے کی پابند ہوتی ہے۔ ۔ لیکن اس نے پھر بھی پوچھا
چل تیری بہن کو تو جو بھی کہا سنا تو نے معاف کیا۔ ۔ یہ بتا سالے جب وہ مجھے گالی دے رہا تھا تو نے اس کی زبان گدی سے کیوں نہ کھینچ لی؟ جو اتنے دن اس نے گالیاں دیں، تیرے اور ہم سب کے شجرے میں کئی پشتوں سے بزورِ زنا داخل ہوتا رہا تو نے اس سے کیوں تحریری معافی مانگی؟ ْ

بڑا بھائی کہ شریفاں کا بڑا بھائی ہے۔ ۔ ۔ لڑکی والا ہے یہ نہیں کہہ سکا کہ میری بہن تو حرافہ ہے۔ ۔ اسے گالیاں دینے والوں کو معاف کرنا میرے وارے میں نہیں لیکن بس میں تو ہے۔ ۔ چوکیدار کاڈنڈا نہ مانوں تو بہن سے ہاتھ دھونے پرتے ہیں۔ ۔ ابھی جیسی تیسی ہے تو میرے ہی گھر میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تو بھڑوے کہلانے لگے۔ ۔ ۔ آپ عزت دار ہیں تو اپنی عزت کی حفاظت کا ذمہ بھڑووں کو کیوں دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ہمیں بلا لیتے ہیں تو کیدو اور چوکیدار کو بھی خود کیوں نہیں بلا لیتے؟

وہ یہ سب سوچ سکتا ہے کہہ نہیں سکتا۔ ۔ کیونکہ اس کے پاس نہ ڈنڈا ہے۔ ۔ ۔ نہ قلم۔ ۔ ۔ نہ فحش گالیوں کی ڈکشنری۔ ۔ وہ تو بس شریفاں کا بھائی ہے۔ ۔ ۔ لڑکی والا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اسے بہن کو بچانا بھی ہے۔ ۔ بیاہنا بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •