نیا سیاستدان بننے کاشارٹ کٹ

سیاستدان بننے کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری بھی معمولی سی درکار ہوتی ہے۔ چار پانچ کھدر کے شلوار سوٹ، کالی، نیلی اور سرمئی واسکٹیں اور دو جوڑے جوتے۔ اس سامان کو سلیقے کے ساتھ کارخانہ بدن کی زینت بناتے رہیں۔ تین چار رومال اور رنگ برنگے موزے سونے پر سہاگہ کا کام دیتے ہیں۔ ایک دو چائنہ کے موبائل بھی ہاتھ میں رکھیے۔ چلیے جناب، سیاستدان کا ابتدائی خاکہ تیار ہو گیا۔ چہرے پر حسب ضرورت تاثرات فراہم کرنا خود آپ کی ذمہ داری ہے۔ آخر کچھ تو خود بھی کرنا چاہئیے نا۔
ہفتہ پندرہ دن میں ایک چکر نائی کے ہاں بھی ضرور لگائیں اس سے آپ کو تین فائدے ہوں گے۔ پہلا تو یہ کہ آپ کا چہرہ قابل دید ہو جائے گا اور اگر قابل دید نہ بھی ہو سکا تو قابل قبول بہرحال ہو جائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آپ کو مفت کا اخبار پڑھنے کو مل جائے گا۔ اور تیسرا فائدہ یہ کہ مختلف لوگوں سے بے تکلفی سے گفت و شنید کا موقع ملے گا۔ نائی کی دوکان پر لوگ حجامت بنوانے آتے ہیں۔ ایک اچھا سیاستدان نائی کی دوکان میں وقت گذار کر عوام کی حجامت کرنے کے مختلف طریقے سیکھ سکتا ہے۔ چاہیں تو قصاب کی دوکان پر بھی وقت گذار لیں مگر یہ ایڈوانس کورس ہے اور ابھی آپ ابتدائی مراحل میں داخل ہو رہے ہیں۔
جب آپ کو حجامت کا گر سمجھ میں آ جائے تو آپ میدان عمل میں اتر سکتے ہیں۔ سیاست کے میدان کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ نے سچ نہیں بولنا اور اگر آپ کا جھوٹ پکڑا جائے تو اسے بھی سچ ثابت کرنا ہے۔ یہ ایک فن ہے۔ ڈھٹائی اس کی ایک اضافی خوبی ہے۔ مسلسل کوشش سے اس فن پر عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں شام سات سے رات بارہ بجے تک نجی چینلز پر چلنے والی ٹرٹر ”ورچوئل ٹیوٹر“ کا کام کرتی ہے۔
دوسرا اصول جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے وہ ہے تعلقات۔ آپ کے تعلقات چاہے آپ کی اپنی زوجہ سے بھی نہ ہوں مگر لوگوں کو تاثر یہ ملنا چاہیے کہ آپ کے ہر اس جگہ پر تعلقات ہیں جہاں ایک عام اور شریف آدمی کے تعلقات عموماً نہیں ہوتے۔ اپنے موبائیل فون میں اپنی دوسری بند سموں کے نمبر اہم ناموں سے محفوظ رکھیں اور کال ملانے پر فون بند ہونے کا بتائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا تو یہ کہ آپ کی پہنچ سے لوگ متاثر ہوں گے اور دوسرا یہ کہ جہاں کسی غریب کو کوئی کام پڑا ہو گا، وہ مرعوب ہو گا کہ آپ کسی انتہائی مصروف شخصیت سے رابطہ کرنے میں کوشاں ہیں۔ آپ چاہے کسی کا رستا ہوا نالہ بھی بند نہ کروائیں مگر تاثر یہی ملنا چاہیے کہ آپ اس کے لیے زمین آسمان ایک کیے ہوئے ہیں۔
سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہونا شروع کر دیں۔ کوشش کریں کہ نمایاں طور پر نظر آئیں۔ اخبار میں تصویر چھپ جائے تو اخبار کی کٹنگ اپنی جیب میں رکھیں۔ اگر کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ اتفاقیہ تصویر بن جائے تو اس کو فوراً فریم کروا کرنمایاں طور سے دیوار پرٹانگ دیں اور ہر ملنے جلنے والوں کو دکھائیں۔
ہر محفل میں اصولی مؤقف اختیار کریں۔ مگر پہلے یہ جان لیں کہ موضوع کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کرپشن کے خلاف اصولی مؤقف اختیار کریں اور آپ کے لیڈر کا مقدمہ عدالت میں کرپشن کی بنیاد پر چل رہا ہو۔ ایسی غلطی کبھی مت کریں۔ اصولی مؤقف کے سلسلے میں جو اصولی بات یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ سیاست میں بے اصولی سب سے بڑا اصول ہے۔
اپنے مخالفین کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کریں۔ یاد رکھیں جتنا رکیک حملہ اپنے مخالف کی ذات پر آپ کریں گے اتنا ہی عوام میں مقبول ہوں گے۔ اپنے مخالفین کے گھر کے ”اندر تک“ کی باتیں یوں بیان کریں جیسے آپ ان کی خلوت کا حصہ رہے ہیں۔ اس سے لوگ آپ کی ”پہنچ“ کے قائل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس کے بعد محلے اور آس پاس کے پھڈوں میں ٹانگ اڑانا شروع کر دیں۔ دو چار مرتبہ ٹھکائی ہو جائے تو بونس ہو گا۔ آپ سکہ بند قسم کے سیاستدان کے طور پر ابھر آئیں گے۔ اس سے پہلے اپنی پیشانی پر ابھرے گومڑ وغیرہ کو چھپانے کا بندوبست کر لیں۔
محاوروں پر عبور حاصل کریں۔ درست موقع پر درست محاورات کا استعمال کریں۔ درست مواقع پر غلط محاوروں یا غلط مواقع پر درست محاوروں کا استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ اونٹ کے خیمے میں گھسنے والی کہاوت ذہن نشین کر لیں اور اس کو عملی زندگی میں اپنا شعار بنائیں۔ لوگوں کے مسائل دریافت کریں اور پھر مسائل حل کرنے کے بہانے اونٹ بن کر خیمے میں گھس جائیں۔ راجا، رانی اور طوطے والی نظم کو بھی پلےسے باندھ لیں۔ آپ نے ہر حال میں حلوہ کھانا ہے۔
اس مرحلے تک پہنچتے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی نظر آپ پر پڑ ہی جائے گی۔ اگر کوئی سیاسی جماعت آپ سے رابطہ کرے تو اس کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر فوری طور پر اس میں شمولیت کا اعلان کر دیں۔ اخبار کو پیسے دے کر یہ خبر چھپوائیں کہ علاقے کی معروف و مقبول شخصیت نے اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت فلاں سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ شروع میں ضمیر کو سلا دیں کیونکہ بعد میں ضمیر کو جگانے کے بہت سے مواقع مل جائیں گے۔
کیریئر کے آغاز سے ہی اپنی نگاہ بلندی کی جانب رکھیں۔ اب اگر کوئی اپنا مسئلہ لے کر آپ کے پاس آئے تو اس کو قربانی کا فلسفہ سمجھائیں۔ ہر بڑا لیڈر عوام کو قربانی دینےکے لیے ہر وقت تیار رہنے کے لیے تیار کرتا رہتا ہے۔ بے چاری عوام قربانی دیتی رہتی ہے۔ اور طوطا حلوہ کھاتا رہتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون ”زندگی میں کامیابی کے شارٹ کٹ“ قسم کے مضامین سے متاثر ہو مفاد عامہ کے نقصان لیے لکھا گیا ہے۔

