عمران خان صاحب نے فرمایا ہے ”کہ لبرل وہ ہوتا ہے جس میں انسانیت ہوتی ہے، جس میں انسانی قدریں ہوتی ہیں، جو انسانوں کو انسان سمجھتا ہے، جو انصاف کرنے والا ہوتا ہے چاہے اپنے خلاف بھی ہو۔ اور لبرل ہمیشہ اینٹی وار ہوتا ہے۔ وہ جنگوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ ہمارا یہ لبرل کیسا ہے؟ اس سے زیادہ خونی لبرل میں نے نہیں دیکھا۔ ان کو خون چاہیے۔ ہماری جو ملکہ ہیں ہیومن رائٹس کی ایک منہ سے لفظ نہیں نکلتا۔ وہاں بمباری گاؤں میں بچے عورتیں مار رہے ہیں وہی لبرل ہمارا چپ بیٹھا ہے۔ میں نے ساری قسم کے ملٹری آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔ یہ طریقہ ایک انسانی معاشرے میں، بندوقوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے“۔ چند برس قبل عمران خان صاحب ایک انگریزی انٹرویو میں یہ فرما چکے ہیں کہ وہ ڈرون والے نہِں بلکہ ایک حقیقی لبرل ہیں۔
ہم نے غور کیا تو خان صاحب کی بات کو درست پایا۔ ہمارے خونی لبرل طالبان کے مطالبات نہیں مانتے حالانکہ صوفی محمد نے کتنی پرامن تحریک چلائی تھی۔ پھر ملا فضل اللہ نے نہایت پرامن انداز میں ریڈیو ہر تبلیغ کر کے چندہ جمع کیا اور کمشنر کے تعاون سے سوات کی اسلامی امارت قائم کی جس میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ لیکن لبرل خون چاہتے تھے۔ انہوں نے اتنا فساد کیا کہ مینگورہ کا ایک چوک خونی چوک کے نام سے مشہور ہو گیا اور فوج کو آپریشن کرنا پڑا۔
افغانستان میں القاعدہ دنیا کے امن کے لئے کام کر رہی تھی کہ لبرلز کے بنائے ہوئے چند جہاز امریکی عمارات سے ٹکرا دیے گئے اور سارا الزام القاعدہ پر دھر دیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کی حکومت پر فائز پاکستانی لبرلز نے جو خون کی ہولی کھیلنی شروع کی اس نے کروڑوں انسانوں کی جان لی۔
فاٹا میں تحریک طالبان نے اتنی اچھی ریاست قائم کر لی تھی اور اس کا دائرہ پھیلاتے پھیلاتے اسلام آباد سے 60 کلومیٹر دور پہنچ گئے تھے مگر لبرلوں کی سازش سے اس پرامن طالبانی ریاست کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا حالانکہ عمران خان نے کہا بھی تھا کہ خون خرابہ کرنے کی بجائے ملک بھر میں اس تنظیم کے سفارتخانے کھولے جائیں۔ جب خان صاحب ان خونی فوجی آپریشنوں کی مخالفت کر رہے تھے اور خونی لبرلوں کو یہ توفیق نہیں ہو رہی تھی کہ امریکی اور پاکستانی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی قتل و غارت کے خلاف بولیں، خان صاحب اس وقت نہایت دلیری سے اسلام آباد میں طالبان کے دفتر میں بیٹھ کر ان کی دہشت گردی سے مرنے والے ستر ہزار پاکستانیوں کے قتل کی مذمت کرنا چاہتے تھے مگر لبرلوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ کر پائے۔
عمران خان پرامن انداز میں دھرنا دیے بیٹھے تھے کہ خونی لبرلز نے پارلیمنٹ اور ہھر پی ٹی وی پر حملہ کر دیا اور مذاکرات کے لئے آئے ہوئے ایس پی پر تشدد کیا۔ دھرنا کامیاب ہونے لگا تھا کہ خونی لبرلوں نے طالبان کو بہکا کر آرمی پبلک سکول پر حملہ کروا دیا۔ اگر خونی لبرلوں نے طالبان کے آگے بلاوجہ مزاحمت نہ کی ہوتی اور ہتھیار ڈال کر حکومت ان کے حوالے کر دیتے تو طالبان کو یہ حملہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
یہ خونی لبرلوں کی سرکشی اور خون بہانے کا شوق ہی ہے جو ستر ہزار پاکستانیوں کے لہو سے بھی ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ اگر لبرل طالبان کے خلاف مزاحمت نہ کرتے تو طالبان کو دہشتگردی کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ محض معصوم طالبان کو بدنام کرنے کے لئے اتنی تعداد میں خودکش دھماکے کر کے پاکستانیوں کو مارنے پر خونی لبرلز کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
غور کریں تو اس دہشتگردی میں جو ہتھیار استعمال ہوتے ہیں وہ بھی سیکولر سکولوں کے پڑھے ہوئے لبرلوں نے ہی ایجاد کیے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ کسی اچھے مدرسے میں پڑھے کسی قدامت پرست شخص نے کچھ ایجاد کیا ہو؟ دہشت گردی کا سبب یہ خونی لبرل ہی ہیں، بدنام امن کے ان معصوم سفارت کاروں کو کر دیا جاتا ہے جو محض ملک بھر میں اپنے دفاتر کھولنے کے خواہاں ہیں تاکہ مذاکرات کر سکیں۔
لبرلوں کا مقصد حیات ہی فساد پھیلانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اچھا حکمران آتا ہے تو یہ اس کے خلاف تحریک چلا دیتے ہیں۔ جبکہ عمران خان نے ہر قسم کے ملٹری آپریشن کی مخالفت کرنے کی پالیسی کی وجہ سے خونی لبرلوں کی صف میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ دوسری صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔
جنرل ایوب خان کے خلاف یہ خونی لبرل سڑکوں پر نکلے۔ جنرل ضیاء الحق جیسے صالح اور جوہر شناس شخص کے خلاف انہوں نے بحالی جمہوریت کے نام پر فساد برپا کیا۔ جنرل مشرف جیسے قابل شخص کو انہوں نے چین نہ لینے دیا حالانکہ وہ ایک سیٹ جیتنے والے عمران خان کو وزیراعظم بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ کیا ہے یہ جمہوریت جس کے گن یہ لبرل گاتے ہیں؟ اگر جمہوریت واقعی کسی قابل ہوتی تو عمران خان 1996 میں وزیراعظم بن گئے ہوتے۔
شکر ہے کہ خان صاحب دیسی خونی لبرل نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک حقیقی ولایتی لبرل ہیں۔ وہ خون سے نفرت کرتے ہیں۔ سب کو جینے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ خون خرابے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لئے چاہتے ہیں کہ طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے حکومت ان کے حوالے کر دی جائے تاکہ خون خرابہ ختم ہو اور وہ خاندان کے ننھے ننھے بچوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر بطور تفریح چرند پرند مارنے نکل سکیں۔
عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔
Telegram: https://t.me/adnanwk2
Twitter: @adnanwk