ذہن ذات کا مستری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوچ کے دریا کو کسی مضمون کے کناروں میں بند رکھنا ہی مصنف کا کل کام ہے۔ اس  ذمہ داری کے پیشِ نظر یہ تحریر تخلیق کی ہے جو راقم کے قلم سے قاری کے ذہن تک سوچ کے بہتے دریا کا  کل سفر قرار پائے گی۔  ذہن دن رات لگا رہتا ہے محنت کرنے کہ مٹی کے گارے میں سے کوئی برتن تخلیق کرے، پتھر میں چھپی صورت کو دریافت کرے اور اس پر سے اضافی چیزیں ہٹا دے۔

پتھر کی خود اپنی ایک صورت ہے مگر ایک خلاق ذہن پتھر کو اپنی صورت بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک بے جان پن میں جان ڈال  دیتا ہے۔ شاید یہی اختیار ہے۔ مصور کے برش کا اختیار کہ آڑھی ٹیڑھی لکیروں میں سے تصویر نکال دے، مجسمہ ساز کا اختیار کہ پتھر توڑ کر اسے مانوس لباس پہنا کر پیش کرے۔  عجیب معمہ تو یہ ہے کہ ادراک صرف انہی صورتوں پر غور کرنے پر راضی ہوتا ہے جو قدرے مانوس ہوں۔ ایک سانس میں یہ قدرِ مشترک ڈھونڈ تا ہے اور دوسرے لمحے قدرِ امتیاز۔   ہونے نہ ہونے کی یہ جدوجہد  ہر آن جاری ہے۔ ہر ذی روح حیات اسی ہنگامۂ ہستی میں  کھپ رہی ہے۔

 انسان اب اس دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں مشینیں انسان کا مقابلہ کررہی ہیں۔  بات کچھ یوں ہے کہ مشین تو وہیں ہے بس انسان سکڑ سا گیا ہے اور وہ آئن سٹائن کا قانون ہے نہ کہ چیزیں relative  ہیں۔ بس اسی قانون کے تحت اپنا سکڑاؤ مشینوں کا پھیلاؤ نظر آنے لگا ہے۔ کچھ لوگ مشینوں کی اس ترقی سے پریشان ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ غیر فطری ہے۔ انسان اپنی سرشت سے ہٹ گیا ہے اور مشین بننے کی لا حاصل کوشش میں محوِ عمل ہے۔  سوچنے کی بات یہ ہے کہ پہلے انسان مٹی کے برتن بناتا تھا، پھر پیتل، تانبہ، لوہا  اور اب پلاسٹک، شیشے اور کاغذ کے۔   کیا ان بدلتی صورتوں میں کچھ ہے جو نہیں بدلا؟  جی ہاں۔  وہ ہے انسان کا پیاس کے ساتھ رشتہ  اور  یہ رشتہ  ایسا  گہرا ہے کہ جب وہ پیاس سے تڑپ رہا ہو تو پانی چاہے سونے کے کوزے میں ملے یا مٹی کے آفتابے میں، فرق نہیں پڑتا۔  یہ باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ تو یہ ہے حضرتِ آدم کا  اپنی قدرتی جبلتوں کے ساتھ تعلق کا بیان۔

مشینوں کی بات چلی تو کچھ اورموشگافیاں سُن لیں۔ کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ  انسان اپنی تمام تر مشینی  ترقی کے باوجود کچھ چیزیں کبھی نہ بدل پایا۔  پانی کے اجزاء کو کسی  اور جز  سے نہ بدل سکا۔   وہ  اپنی تاثیر میں ٹھنڈا  و گرم ہی رہا۔ مٹی کی جگہ کوئی عنصر نہ بنا سکا جس میں غذا اگائے اور  حد تو یہ ہے کہ  آگ جو  تمام ترقی کی ماں ہے، اس کا بھی کچھ نہ بگاڑ سکا۔  کچھ  اور نہیں تو اسے جلانے سے ہی باز کر لیتا۔ کوئی ٹھنڈی آگ ہی بنا لیتا جسے بندہ جیب میں ڈال کے خوش ہو جاتا اور آرام سے گھومتا پھرتا۔  کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہوا کا رابطہ سانس سے توڑ دیتا تا کہ ہمیں ہر وقت یوں  ہوا پھانکنے کی ضرورت نہ پڑتی زندہ رہنے کو۔ کچھ ہوتا جو صبح اُٹھ کرہم سینے سے چپکا لیتے ،  پھر آرام سے سمندروں کی گہرائیوں میں یا خلاء کی اونچائیوں میں بغیر کسی حیل و حجت کے سفر کر سکتے۔

 ذہن کا اصل کام تو ہے راستے  بنانے  کا۔  یہ ذات کا مستری ہے۔ سوچ کے جنگل میں راستے بنانے کا کام کرتا رہتا ہے تاکہ ادراک کی گاڑیوں کے آنے جانے میں آسانی ہو جائے  اور ہر نئی سوچ کو ہر دفعہ نیا راستہ بنانے کے زحمت نہ اُٹھانی پڑے۔  بڑا کاہل ہے یہ بھی۔ کام سے جی چراتا ہے۔ بس کچھ خانے بنا کے بیٹھ جاتا ہے اور  لگا رہتا ہے ساری عمر چیزوں کو ان خانوں میں بھرنے ۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ  سب ذہنوں کے پاس نقشہ ایک ہی ہے، گارہ سیمنٹ بھی ایک ہی بھٹی سے لیتے ہیں مثلاً چھوٹے، بڑے ہونے کی قدر، نسبت تناسب وغیرہ  ۔  مگر ہر کسی کے خانے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔  عمرانیات والے اس اختلاف میں بھی اشتراک ڈھونڈ نکالتے ہیں  اور نفسیات والے  اس اشتراک  میں بھی اختلاف کے ہونے کا امکان ثابت کر دکھاتے ہیں۔   کہتے ہیں  کہ نفسیات کا علم کسی خاص تصورِ   انسان کے تابع ہوتا ہے۔  جیسا تصورِ  انسان  ہو گا  اس کے عین مطابق علم   وجود میں آ جائے گا۔  مگر یہ تصورِ انسان کیسے کام کرتا ہے؟ تصورِ انسان کا بننا خود معاشرتی  اصولوں کے تابع رہتا ہے۔    ماہرین  کہتےہیں کہ یہ تصورِ انسان حالتِ ارتقاء میں رہتا ہے ، ہر دور میں بدلتا رہتا ہے اور معاشرے کے زیادہ تر اذہان کی مشترک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

اس تمام بحث میں عمرانیات کا علم چیزوں کو generalize  کرنے میں مصروف بہ عمل رہتا  ہے   جبکہ نفسیات کا علم   ان generalizations  کو  particularize  کرنے کا کام انجام دیتا رہتا ہے ۔  اب دیکھنے میں یہ دو متضاد و متصادم  پہلو ہیں مگر اصل میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔    اب اگر ذہن مستری نہیں تو اور کیا ہے۔  ان الفاظ  کی اینٹوں میں سے کوئی بھی اینٹ ایسی نہیں جو نئی ہو مگر  وجود میں آنے والی تحریر میں کچھ ایسا نہیں جو من و عن پہلے سے موجود افکار جیسا ہو۔   پس ثابت ہوا کہ ذہن تخلیق کے اس عمل میں  اپنا ایک پاؤں جانی ہوئی زمین میں پیوست رکھتا ہے  اور دوسرا قدم  پھونک پھونک کر انجانی  زمین پہ رکھتا رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •