حامد میر صاحب کا ایک سنسنی خیز انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ 30نومبر 2017ء کو مکرم حامد میر صاحب کا مضمون ”ختم نبوت پر ایک سوشلسٹ کا موقف “کے نام سے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔اس میں اور باتوں کے علاوہ ایک سنسنی خیز انکشاف ان الفاظ میں کیا گیا

’واضح رہے 20اگست1974کواٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قومی اسمبلی میں مرزا ناصر احمد سے پوچھا تھا کہ کیا آپ کا اسرائیل میں مشن موجود ہے ۔مرزا ناصر احمد نے جواب میں کہا وہاں ہماری جماعت موجود ہے کیونکہ اسرائیل میں بھی تو مسلمان رہتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا فلسطینی مسلمان اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیںلیکن آپ کے نمایندوں کی اسرائیل کے صدر اور وزیرِ اعظم سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے آپ پر اتنی عنایات کیوں؟مرزا ناصر احمد نے کہا ہمارے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔‘

حامد میر صاحب نے، جب ان کے دعوے کے مطابق یہ سوال وجواب ہوئے، اس کارروائی کی معین تاریخ بھی لکھی ہے تاکہ پڑھنے والوں پر تاثر پڑے کہ وہ بڑی با وثوق بات کہہ رہے ہیں۔ انہوںنے بظاہر ایک خلاف ِ واقعہ دعویٰ پیش کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے سرکاری طور پرجو کارروائی شائع کی گئی ہے اس میں20اگست کو ہونے والی کارروائی صفحہ 857سے984پر شائع ہوئی تھی۔جو سوال و جواب حامد میر صاحب نے درج کیے ہیں وہ ان صفحات پر کہیں موجود نہیں ہیں۔ہماری حامد میر صاحب سے گذارش ہے کہ وہ معین صفحہ نمبر کا حوالہ دیں جہاں سے انہوں نے یہ عبارت نقل کی ہے۔خاص طور پر اس کارروائی میں یہ کہاں پر اور کس صفحہ پر لکھا ہے کہ امام جماعت ِ احمدیہ نے یہ کہا تھا کہ ہمارے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں۔یہ بات حامد میر صاحب نے محض اپنی طرف سے بنا کر، لوگوں کو جماعت ِ احمدیہ کے خلاف اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔جس طرح حامد میر صاحب نے غلط حوالہ دینے کی کوشش کی ہے، اسی طرح مفتی محمود صاحب نے بھی خلاف ِ واقعہ بات بیان کر کے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں یہ الزام لگانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ان کے دعوے ان دعووں سے بالکل مختلف تھے جو کہ حامد میر صاحب نے بیان کیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا۔

”اسرائیل کا قیام عمل میں آیا توچن چن کر فلسطین کے اصل باشندوں کو نکال دیا گیامگر یہ سعادت صرف قادیانیوں کو نصیب ہوئی کہ وہ بلا خوف و جھجک وہاں رہیں۔“(کارروائی صفحہ2046)اس ضمن میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ جماعت احمدیہ کا مشن تو اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے حیفا (فلسطین) میں قائم ہو چکا تھا۔کیا احمدیوں کو خود یہ علاقہ اس بنیاد پر چھوڑ دینا چاہئے تھا کہ اب چونکہ اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا ہے تو یہ مشن ہاﺅس بند کردیں؟جماعت احمدیہ تو تبلیغ کے لئے دنیا کے ہر ملک میں مشن قائم کر تی چلی آرہی ہے۔

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان صاحب جو ایک معروف احمدی تھے ،اقوام متحدہ میں ان کی فلسطین کے مسئلہ پر جو جدوجہد ہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔یہاں پر اس خط کا عکس پیش کیا جا رہا ہے جو اس وقت سعودی عرب کے فیصل السعود جو بعد میں شاہ فیصل بنے ،انہوں نے شکریہ کا خط سر ظفر اللہ خان کو لکھا۔

اگر حامد میر صاحب ذرا تکلیف کر کے انٹرنیٹ پر خود اسرائیل کی وزارت ِ خارجہ کی websiteکا جائزہ لے لیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اسرائیل میں 16.9%آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر سنی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔1948میں اسرائیل میں دو لاکھ سے کم مسلمان آباد تھے اور2016میں یہاں پر چودہ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد تھے ۔ ان کی اکثریت سنی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔اور ملاحظہ کریں1988سے اسرائیل میں مساجد میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اور تو اور 300مساجد کے مسلمان امام اسرائیل کی حکومت سے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔

http://(http://mfa.gov.il/MFA/ForeignPolicy/Issues/Pages/Facts-and-Figures-Islam-in-Israel.aspx: retrieved on 30.11.2017)

 خود قومی اسمبلی کی شائع کردہ کارروائی میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ فلسطین کی احمدیہ جماعت اسرائیل کی حکومت سے مالی مدد نہیں لے رہی کیونکہ اس کارروائی کے صفحہ2049پر جماعت ِ احمدیہ حیفا (فلسطین ) کا بجٹ درج کیا گیا ہے ۔ اس میں تمام آمد احمدیوں کے چندوں کی آمد ہے ۔ شاید حامد میر صاحب کو علم ہو کہ بہت سے سنی مسلمان اسرائیلی پارلیمنٹKnessetکے ممبر بھی ہیں جن میں ایک خاتونHaneen Zaobiبھی شامل ہیں۔ان کی لسٹ بھی انٹر نیٹ پر موجود ہے۔مسلمان اسرائیل کے وزیر اور ان کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی احمدی نہیں تھا۔یہ فہرست بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

http://(https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Arab_members_of_the_Knesset#cite_note-1: retrieved on 30.11.2017)

حامد میر صاحب نے اس موضوع پر ملک جعفر صاحب کی تقریر کا بھی حوالہ دیا تھا۔اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ اس بات پر تحقیق ہونی چاہیے کہ اسرائیل میں رہنے والے اور پاکستان میں رہنے والے احمدیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ باقی فرقہ کے لوگ اسرائیل میں بہت زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور اعلیٰ پوزیشنوں پر بھی فائز ہیں۔پھر یہ تحقیق کیوں نہ کی جائے کہ پاکستان اور اسرائیل میںآباد ان فرقوں سے وابستہ افراد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں