بشارت سے ہجرت تک….


جامی نے اپنے گھر والوں کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گھر چھوڑنے کا فیصلہ، بہت کٹھن ہوا کرتا ہے۔ پردیس، انسانیت کی بہترین اقدار پہ مبنی معاشرہ ہی کیوں نہ ہو، پردیس ہوتا ہے اور ہجرت کرنے والے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، ان کا اولین تعارف، مہاجر ہوتا ہے۔ مدینہ ہو، پاکستان ہو یا قدیم عہدنامے میں وعدہ کی گئی سر زمین، کوئی وجہ ہے کہ تاریخ، ہجرت سے شروع ہوتی ہے۔

مگر لوگ ہجرت کیوں کرتے ہیں…. کیا سر سبز چراگاہیں، انہیں اپنی جانب بلاتی ہیں، کیا پر تعیش زندگی کے خواب، انہیں اس مہم جوئی پہ اکساتے ہیں یا یہ ایک آزار سے نجات پا کر دوسرا آزار مول لینے کا سودا ہے؟

فیصل آباد میں لٹریچر فیسٹیول کا ہنگامہ تھا۔ لائل پور کا نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم، لوگوں سے قریب قریب بھرا ہوا تھا۔ بیٹھے ہووں میں چند چہرے شناسا تھے اور زیادہ تر، غیر مانوس۔ خوش گمانی اچھی چیز ہے مگر مجھے معلوم تھا کہ اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہیں مجھ سے پہلے یا میرے بعد سامنے آنے والے مصنفین کو سننا تھا۔

ایک سوال پوچھا گیا کہ آپ نے ملک کیوں چھوڑا؟ سوال پوچھنے والے میرے وہ استاد تھے، جنہوں نے زندگی کے اولین سبق پڑھائے تھے۔ سامنے ثانیہ سعید نطر آئیں اور اس سے پچھلی قطار میں آمنہ مفتی، سو میں نے کہہ دیا کہ صلاحیت کا جغرافیہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ یہاں ثانیہ سعید کا کھیل روکیں گے تو وہ کہیں اور جا کر ناٹک کھیلیں گی، اگر یہاں آمنہ مفتی کے قلم پہ حرمت کی شرط ہے تو ان کے الفاظ کوئی ایسا قرطاس تلاش لیں گے، جسے روایت سے زیادہ اظہار کا احساس عزیز ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ لائل پور میں پہلے بات کرنا آسان تھا اب نہیں رہا، عام معمول کی بات میں لوگ مذہب کو لے آتے ہیں۔ عقیدے کا احترام، اب داروغے کی وہ بید ہے جس سے اختلاف کا انحراف مقصود ہے۔ پہلے گفتگو فرقے کی محتاج نہیں تھی، اب یہ مذہبی بندشوں کی اسیر ہے۔

خادم حسین رضوی صاحب چونکہ اپنے آدمی تھے، لہذا انہوں نے راستے بند کر رکھے تھے۔ باقی کسر ریاست نے ان کے موقف کے احترام میں ملک بند کر کے پوری کر دی تھی۔ سو واپسی کا سفر کچھ دیر کے لئے موقوف ہو گیا

ایک کتاب پہ دستخط کرتے وقت ایک صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور کتاب کی تعریف کی۔ میں نے شکریہ ادا کیا، اس دوران ہم دونوں کے ساتھ ایک اور با ریش بزرگ آ کر کھڑےٰ ہو گئے۔ پہلے صاحب کا کہنا تھا کہ آج کل کے لوگ مذہب پہ بے جواز تنقید کرتے ہیں جو کہ انہیں نہیں کرنی چاہئے۔ میں نے حفاظتی بند باندھتے ہوئے جواب دیا "جی، بالکل، ہر شخص کے عقیدے کا احترام واجب ہے۔ اور…. "

اس دوران، بزرگ نے میری بات کاٹی اور کہنے لگے، ’کیا مطلب، جب ہمارا مذہب سب سے اچھا ہے تو باقی مذاہب کو غلط کہنا کیا جرم ہے‘

مجھے مراجعت کا راستہ معدوم ہوتا دکھائی دینے لگا۔ سو بات سنبھالتے ہوئے جواب دیا

"دیکھیے، ہر انسان کو اپنی رائے کا حق حاصل ہے۔”

بزرگ نے ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا،

"آپ میرے سوال کا جواب دیں…. کیا ہمارا مذہب سب سے بہتر ہے کہ نہیں….”

 میں نے بولنے کے لئے ہونٹ ہلائے تو انہوں نے بھرپور قطعیت سے کہا

"اقبال بھی کہتے ہیں۔۔ اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر…. خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی…. "

میں نے اس تکون کو توڑ کر نکلنا چاہا تو بزرگ نے تقریبا گالیاں دیتے ہوئے منہ موڑا اور چل دئے۔

یہ عین اس وقت ہوا جب میں دل میں سوچ رہا تھا کہ پاک سر زمین میں انتہا پسندی کے پانی گھنے گہرے سہی، سوچ کے جزیرے آہستہ آہستہ ابھرنا شروع ہو گئے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی تخریب کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ وہاں ترقی کی شرح کیا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں سوچ اور اظہار کی آزادی کا کیا معیار ہے۔ کیا بات کرنے سے پہلے ایسا سوچا جاتا ہے کہ اس بات کا آزار کیسے بھگتنا پڑے گا۔ زندگی کا کاروبار تو شام اور برکینا فاسو میں بھی چل رہا ہے مگر جو کھلے دل کے قہقہے لاہور کو لاہور بناتے ہیں، ان کی گونج برقرار رہنی چاہئے۔ اگر سر پیچھے ڈھلکا کر ہنسنے والے، کہانیاں سنانے والے، سامان باندھ لیں تو سمجھ لیجئے سفر تمام ہوا۔

جامی سے میرا تعارف، آئی ایس پی آر کے دنوں میں ہوا۔ ’مور‘ بنی تو سمجھ آیا کہ فلم کیسے بنائی جاتی ہے۔ جامی ایک ایسا جادوگر تھا جس نے بلوچستان کی ایک اداس کہانی میں ست رنگیاں ڈالی تھی اور بھنور پروئے تھے۔ بلوچستان کی خاموشی کس طرح اس کے حزن سے وابستہ ہے، جاننا ہو تو مور دیکھ لیجئے۔ آپ کو سمجھ آ جائے گا کہ بلوچ بولتا کیوں نہیں اور جب بولتا ہے تو ایسے کیوں بولتا ہے۔ اپنی چپ کا علم اپنے سینے پہ اٹھائے، یہ لوگ ستر برس تک کیوں انتظار کرتے رہے کہ آپ بولیں گے…. "مور” دیکھ کر پتہ چلتا ہے۔

دل کو ڈھار بندھی کہ اب کہانیوں سنانے کے لئے فلمیں بنیں گے، کہانیاں ڈالنے کے لئے نہیں۔ پھر پتہ چلا کہ "مور” کامیاب نہ ہو سکی۔ پھر اور فلمیں چلنا شروع ہو گئیں۔ خادم حسین رضوی صاحب کی فخریہ پیشکش کے بعد، جامی سے رہا نہیں گیا۔ سو اس نے اعلان کیا ہے کہ اس کے بچے اب اس ملک میں نہیں رہیں گے۔ ابھی جامی کی بات کا اضمحلال کم نہیں ہوا تھا کہ ایک پرانے دوست سے بات ہوئی۔ گڈرئیے کی یہ بھیڑ، بہت دیر تک اس گمان پہ سرزمین کی حفاظت کرتی رہی کہ مٹی کی محبت، مذہب کی تانگ سے اوپر ہوا کرتی ہے۔ بھابھی بھی عہدنامہ عتیق کی کسی آیت کی طرح مجسم خدمت رہیں۔ گوجرانوالہ کے باب میں ان کے حوصلہ مند والد کا ذکر کیا تو انہیں لگا کہ پاکستان رہنے کا فیصلہ درست تھا۔ مگر کل بات ہوئی تو بساط پلٹ چکی تھی۔ کہنے لگے کہ میں جانا نہیں چاہتا لیکن معاشرہ تنگ نظری کی اس حد کو چھوچکا ہے جہاں مجھے اس کے تعصب کا خوف نہیں، اپنی صفائی دینے سے حزر ہے۔ میری اس وطن سے محبت اپنی جگہ ہے لیکن اس محبت میں ایک خود غرضی شامل ہوتی جا رہی ہے جو مجھے اپنی بیٹی کے مستقبل کی طرف نگاہ کرنے نہیں دے رہی۔ اگر یہ یہاں رہ گئی تو ہر روز عقیدے کی کسوٹی سے گزرے گی۔ اور اب میں تھک گیا ہوں۔

 بہت سال پہلے ڈاکٹر محمد دین تاثیر کے ڈرامے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ لکھنے والے، عبداللہ حسین ہوں یا مستنصر حسین تارڑ۔۔ ان کی دور بینی ہوا کرتی ہے کہ آگے تک دیکھ لیتے ہیں…. تاثیر کے کھیل میں بیگم صاحب، اپنے شوہر سے تھیٹر کی اجازت یہ کہہ کر طلب کرتی ہے کہ ’اگر ہم لوگ آگے نہیں بڑھیں گے تو آہستہ آہستہ معاشرے کے ہر میدان میں ایک ہی طرح کی سوچ پھیل جائے گی۔ لوگ مذہب کے نام پہ کچھ بھی کر لیں گے….‘

سرور مشتاق کہا کرتے ہیں کہ

Your mind seeks patterns.

عین ممکن ہے کہ میرا سفر چن چن کر ایسی کہانیاں میرے سامنے لاتا ہے….

Facebook Comments HS