بیت المقدس، ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب حکمران


ارض فلسطین کو اسرائیلی چراگاہ بنانے کی کہانی بالفور ڈیکلیئریشن 1917سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار صیہونی تحریک کے بانی ڈاکٹر تھیوڈور ہرزل تھے۔ ڈاکٹر ہرزل 1860کو بوداپیسٹ ( ہنگری ) کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ بعد میں یہ اپنے خاندان کے ساتھ ہوانا منتقل ہوئے اورہوانا یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے ساتھ ساتھ صحافی اور تمثیل نگار بھی بنے۔ اپنی صحافتی زندگی کے دوران ہرزل فرانس میں بھی مقیم رہے اور وہیں سے ہی ایک یہودی ریاست کے قیام کے لئے صیہونی تحریک شروع کر دی۔

تب سلطنت عثمانیہ کے حصار میں دراڑیں نہیں پڑی تھیں یوں فلسطین کے علاقے پر قبضہ کرنا بھی انتہائی مشکل کام تھا۔ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں صیہونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل نے ایک یہودی بینکر مزرے اور چنددیگر با اثر یہودی شخصیات پرمشتمل وفد عثمانی سلطنت کے آخری فرمانرواسلطان عبدالحمید ثانی کے پاس ارض فلسطین پربارگیننگ کے لئے بھیجا۔ سلطان سے درخواست کی گئی کہ فلسطین میں انہیں ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بدلے میں وہ عثمانی خلافت کے تمام قرضے ادا کریں گے۔ اس کے لئے نیوی فورس تشکیل دیں گے اور بے تحاشا مالی دولت کے قرضے بلا کسی سود کے دینگے۔

سلطان عبدالحمید ثانی نے اپنے قاصد کے ذریعے اس وفد کو پیغام بھیجاکہ ’’ ان منحوس یہودیوں سے کہہ دیجیے کہ فلسطین عمر ابن خطاب کے زمانے میں اسلامی ریاست کا حصہ بنا تھا، سو ہم مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اس مبارک سرزمیں کو اسرائیل کے ہاتھوں کسی بھی صورت بیچنا نہیں چاہتے۔ ‘‘۔ تھیوڈور ہرزل خود بھی اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ سلطان عبدالحمید کا جواب یہ تھا’’ ڈاکٹر ہرزل کو خبر کر دو کہ وہ آج کے بعد فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش سے دستبردار ہوجائیں، یہودی فلسطین کو صرف اس صورت میں حاصل کرسکتے ہیں جب کہ خلافت عثمانیہ ایک خواب وخیال بن چکی ہو‘‘(بحوالہ مسٹر غلام محمد آف انڈونیشیا)۔ سلطان عبدالحمید کے انکار کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصار میں نقب لگانا بھی ناگزیر ٹھہرا۔ پہلی عالمی جنگ شروع کردی گئی اور یوں خلافت عثمانیہ کو بھی تقسیم کے بے رحم عمل سے گزارا گیا۔

جنگ کے خاتمے سے قبل ہی بالفور ڈیکلیریشن کے نام سے فلسطین کی سرزمیں پر باقاعدہ ایک صیہونی قومی ریاست کاعہد نامہ لکھا گیا۔ اسی وقت کے برطانوی خارجہ سیکرٹری آرتھر بالفور کے ہاتھ سے لکھا ہوا یہ عہد نامہ ایک خط کی صورت میں سامنے آیا جسے وہاں کے برطانوی یہودی برادری کے ایک سرکردہ رکن لیونل والٹر کو بھیجا گیا۔ پھر یورپ میں آباد یہودی جوق درجوق انبیاء کی سرزمیں کی طرف آنا شروع ہوئے۔ 1922سے 1935کے درمیان اپنی کل آبادی کے ایک چوتھائی سے زیادہ اسرائیلی یورپ سے فلسطین منتقل ہوئے۔ اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل سات لاکھ کے قریب فلسطینیوں کو برطانیہ کے تربیت یافتہ مسلح اسرائیلی دستوں نے اپنے گھروں سے نکالا اور بعد میں 1948کے مئی کی چودہویں تاریخ کی وہ رات بھی آپہنچی جب ارض فلسطین پر اسرائیل کے نام سے باقاعدہ طورپر ایک ریاست نمودار ہوئی۔ اسی سال عربوں نے اس ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور مصر، شام، اردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑ دی جسے ایک سال بعد امن معاہدوں کے تحت ختم کردی گئی۔

بعد میں سوئز بحران، 1967میں چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جنگ استنزاف، جنگ یوم کپور، جنوبی لبنان تنازع، جنگ لبنان 1982، انتفاضہ اول، جنگ خلیج، الاقصیٰ انتفاضہ اور 2006اسرائیل لبنان جیسے تنازعات اور جنگیں ہوئیں۔ 1967کے چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مصر کے جزیرہ نما سینا، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور عرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قابض ہوگئے۔ اسی وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں بعد میں اسرائیل اور عربوں کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کے نام سے امن معاہدہ بھی طے پایا۔ کارٹر کی اس نام نہاد ثالثی اور معاہدے کی رو سے مصر کو اسرائیل کے قبضے میں لیے گئے جزیرہ سینا تو واپس مل گیا لیکن غرب اردن، غزہ کی پٹی اور فلسطین کی خودمختاری جیسے اہم معاملات پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکا۔

1993میں لینڈ آف فریڈم کے نام سے ایک اصول وضع کیا گیا جس کی رو سے Oslo 1معاہدے کا مسودہ تیار کیا گیا۔ اس معاہدے پر مصر ی دارالحکومت قاہرہ میں دستخط ہوئے اور پھر اسے ایک جامع شکل دے کر اسے Oslo2نام کے ایک نام سے مسماکیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے غزہ اور غرب اردن کے چندعلاقوں پر اپنا قبضہ ختم کردیا۔ امن کایہ معاہدہ اس وقت منقطع ہواجب4 نومبر1995کو اسرائیلی وزیراعظم یاتژاک رابن قتل ہوئے۔ افسوس کا مقام دیکھ لیجیے کہ چند سو کلومیٹرز پر اپنے آپ کو برطانیہ کے تعاون سے آباد کرنے والے اسرائیل آج ہزاروں میل علاقے اپنے قبضے میں لے چکے ہیں۔ اس صیہونی ریاست کے قیام کے دن سے لے کرآج تک یہ خونخوار پیہم فلسطینیوں کالہو چوس رہے اور مقدس مقامات پر مزید قابض ہورہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ملک اس کی پشت پر اس طرح کھڑے ہیں گویا کہ لندن اور نیویارک سے زیادہ اسے اسرائیل کی دفاع اور خوشحالی زیادہ عزیز ہے، اقبال نے بجا فرمایا تھا،

فرنگ کی شہ ِ رگ پنجہ یہود میں ہے

دوسری طرف خواب خرگوش کے مزے لوٹنے والے عرب ملکوں کی بے حمیتی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ایک کروڑسے بھی کم آبادی رکھنے والا اسرائیل آج درجنوں عرب ملکوں پہ بھاری بنا ہوا ہے۔ عرب حکمران اپنے اقتدار بچانے کی خاطر الٹا امریکہ کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ 1994 کو اوسلو میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کے دوران فلسطین کے مرحوم رہنمایاسر عرفات نے بڑے افسوس کے ساتھ شکوہ کیا تھا کہ ایک آزاد اسلامی ریاست کے ناطے پاکستانی قوم کو فلسطینی کاز کی بھر پور حمایت کرنی چاہیے کیونکہ عرب حکمران ہماری مدد کے لئے کچھ نہیں کر رہے۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ جس ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی کمپیئن کا نعرہ مسلمانوں کی مخالفت اور القدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارالخلافہ اور امریکہ کا سفارت خانہ بنانے پر مبنی تھا، اس کے بارے میں عرب ملکوں کے حکمرانوں نے دوستی کے کیا شرمناک پیمانے مقرر نہیں کیے۔

کیا منتخب ہوتے ہی اُسی ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم دشمن پالیسیوں کے حق میں حجازی سرزمیں سے آوازیں نہیں اٹھی تھیں؟ کیا اُسی ٹرمپ کو وہاں سے تہنیتی پیغامات موصول نہیں ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض عرب اسلامی امریکن کانفرنس سے قبل خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے ہاتھوں میں تلوار تھام کر کیا رقص کیا۔ اس رقص کے مناظر دیکھ کر ہر درد دل رکھنے والا مسلمان کا سر شرم سے جھک جاتاتھا، کیونکہ انہیں ٹرمپ کی وہ تمام تقاریر اور منحوس عزائم یاد آئے جس کا اظہار وہ اپنے صدارتی مہم کے دوران اپنے تقاریر میں کرتے رہے۔ برطانیہ کے ایک غیر مسلم صحافی رابرٹ فسک بھی یہ کہنے پہ مجبور ہوئے کہ سعودی عرب میں ہونے والی عرب نیٹو کانفرنس کا ہدف داعش نہیں بلکہ شام اور ایران کے ساتھ حساب برابر کرنا اصل غایہ تھا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا اسرائیل کو صدیوں سے انتظار تھا۔ القدس(یروشلم ) کا مبارک علاقہ بدھ کے روز چھ دسمبر کو اس ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے اسرائیل کا دارالحلافہ ڈکلیئر ہوا، جن کے عشق میں مسلمان حکمران تلواروں کے سائے میں چند مہینے پہلے رقص کررہے تھے۔
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

Facebook Comments HS