فیض آباد کے بعد!


پاکستان مبیّنہ طور پر اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن بظاہر جتنے خطرات اسلام کو پاکستان میں وقتاً فوقتاً لاحق رہتے ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور خطّے میں رہتے ہوں۔ راقم نے جب سے آنکھ کھولی ہے (اور یہ نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں) اسلام اور پاکستان کو خطرے میں ہی پایا ہے۔ جس ملک میں ایک ’لبرل‘ حکومت کے دور میں ’اسلامی‘ آئین بنا ہو اور آبادی کے ایک حصّے کو ان کے عقیدے کی وجہ سے غیر مسلم قرار دیا گیا ہو، اس ملک میں اسلام کا خطرے میں ہونا قرینِ قیاس نہیں لگتا۔ تاہم اس حوالے سے ہم بحیثیت قوم کوئی خطرہ مول لینے کو تیّار نہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین محاذ فیض آباد کے مقام پر دھرنے کی صورت میں گرم ہوا۔ دھرنا قائدین کے گرانقدر خیالات کے چند نمونے سوشل میڈیا کی توسط سے سننے کو ملے، جن سے راقم کے ایمان کو تو پسینہ سا آ گیا لیکن شرکاء دھرنا کے جذبہء ایمانی کو خاصی تقویت ملی جس کا ثبوت ان فکر انگیز خطبات کے دوران لگنے والے نعرے ہیں۔ اس دھرنے نے ماضی کی چند یادیں تازہ کر دیں جو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں کہ جس درخت کا پھل راولپنڈی و اسلام آباد کے شہریوں نے دو ہفتے سے زائد عرصے تک چکھا ہے اس کے پودے کی آبیاری خاکسار نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھی ہے۔ جس لٹھ بردار اسلام اور مذہبی منافرت کے فروغ پر کچھ حلقوں کو تشویش ہے راقم اس کا ذائقہ کئی برس قبل چکھ چکا ہے (لیکن خوش قسمتی سے اس کا ہدف نہیں تھا کہ اعمال جیسے بھی ہوں آئین کی رو سے راقم مسلمان ہے)۔

راقم کا لڑکپن اور جوانی کے ابتدائی ایّام ضیاءالحق مرحوم کے زمانے میں آئے (جس کا راقم کو تمام عمر قلق رہے گا) اور شومئی قسمت سے پڑھے بھی اس جامعہ سے جہاں ضیاءالحق کی بی ٹیم کی طلبہ تنظیم کا راج تھا۔ لہٰذا حق و باطل کے مابین ہونے والے چند معرکوں کو قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔

لٹھ بردار اسلام کی پہلی جھلک ایک یکم جنوری کی صبح کو دیکھنے کو ملی جب ایک ہم جماعت کو خلافِ معمول دیر سے اور سرخی مائل آنکھوں کے ساتھ آتا پایا۔ استفسار پر موصوف نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ رات گئے لاھور کی مال روڈ پر لٹھ لے کر گھومتے رہے ہیں تاکہ پنج ستارہ ہوٹلوں میں سال نو کے نام پر کی جانے والی ’فحاشی اور بے حیائی‘ کی محافل کو بزور قوّت روک سکیں (ہمارے یہ دوست ان مجاہدین میں بھی شامل تھے جنہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے بدلے میں لاھور کے جین مندر کو توڑنے میں حصّہ لیا تھا)۔ جب انہوں نے ان محافل میں ہونے والی ’خرافات‘ کے بارے میں بتایا (جس کے بارے میں انہوں نے محض سن ہی رکھا تھا)، تو ذاتی طور پر تو راقم کو اشتعال کی بجائے ان محافل کے شرکاء پر رشک ہی آیا کہ امّ الخبائث میں دلچسپی نہ سہی، بنات حوّا میں بتقاضائے بشری ہمیشہ سے رہی ہے۔ ایک لمحے کو تو سوچا کہ پوچھوں ’صاحب یہ جذبہء ایمانی امتحانات میں نقل یا ٹریفک پولیس کو رشوت دینے جیسے معاملات میں بروئے کار کیوں نہیں آتا؟

لیکن پھر خود ہی خیال آیا کہ کہ مغربی تہذیب کی یلغار روکنے کے لئے بپاکیے جانیوالے معرکہء حقّ و باطِل کا اِن فروعی معاملات سے تقابل شاید مناسب نہیں۔ البتّہ یہ عہد ضرور کیا کہ جب بھی موقع ملا کفر کی اس یلغار کا بنفس نفیس معائنہ ضرور کریں گے جس کا نقشہ ہمارے دوست نے کھینچا تھا۔ وہ کوئی قبولیّت کی گھڑی ہو گی کہ خاکسار کو چند برس بعد ہی سالِ نو کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور وہ بھی دیار کفر میں، یعنی لاٹھی کھانے کے خطرے کے بغیر۔ ہمارے دوست کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق محفل میں ایمان میں خلل ڈالنے کا اچھا خاصا اہتمام تھا لیکن ہمیں یہ دیکھ کر خاصی مایوسی ہوئی کے ماحول مہذبانہ ہی تھا۔ کچھ غزالی آنکھوں نے نہ صرف ہمیں دیکھا بلکہ مسکراہٹیں بھی عطا کیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ مسکراہٹیں ’اور گھر میں سب خیریت ہے‘ قسم کی تھیں۔

جس دعوتِ گناہ کی ہمیں نوید دی گئی تھی اس کا ان میں شائبہ تک نہ تھا۔ نتیجتاً جو پیپسی کا گلاس راقم نے بارہ بجے سے پہلے تین گنا قیمت پر خریدا تھا، بارہ بجے کے بعد اسی کو ختم کر کے لوٹ آیا۔ تاہم ایسا بھی نہیں کہ یہ شب بالکل بیکار گئی ہو۔ ’ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیت لیکن۔ ‘ والے مصرعے کا صحیح مفہوم خاکسار کو اسی رات سمجھ آیا تھا۔

فیض آباد دھرنے کا محور اہلِ ربوٰہ ہیں اور پاکستانیوں کے اس طبقے پر اہل جبّہ و دستار کی یہ توجّہ کوئی نہیں بات نہیں۔ جن دنوں خاکسار جامعہ میں زیرتعلیم تھا ان دنوں ایک مشروب ساز کمپنی اور بیکری کی مصنوعات کا جامعہ میں داخلہ ممنوع تھا۔ اس کی وجہ اس کمپنی کے مالکان کا اہل ربوٰہ سے مبیّنہ تعلق تھا۔ پیپسی اور کوکا کولا وغیرہ کی بابت ہمیں بتایا گیا کہ ان کے ’اصلی مالکان‘ کو چونکہ مسلمانی کا کوئی دعوٰی نہیں لہٰذا ان کی مصنوعات اس پابندی سے مستثنٰی ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں مشروب ساز کمپنی اور بیکری کا اگر کچھ بگڑا تو خاکسار کو اس کا علم نہیں لیکن ذاتی طور پر تو خاکسار گھاٹے میں ہی رہا کہ جتنا عرصہ جامعہ میں گذارا، کسی بھی تقریب میں معیاری کیک، سموسہ وغیرہ نصیب نہیں ہوئے۔

اقتصادی بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ سوشل بائیکاٹ کا بھی اہتمام کیا گیا اور ہاسٹل میں رہنے والے طالبعلموں کو یہ ہدایت (یا تنبیہ) کی گئی کہ وہ قادیانی طالبعلموں سے کلاس سے باہر میل جول بند کر دیں کہ یہ ایمان کا تقاضہ ہے۔ راقم چونکہ ہاسٹل میں نہیں رہتا تھا لہٰذا اس پابندی سے مبرّا تھا لیکن یہ پابندی سراسر ناجائز سی محسوس ہوئی۔ ایک ’صاحبِ ایمان‘ ہم جماعت سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے بنیادی عقیدے کے اختلاف کی بنا پر اس پابندی کو جائز قرار دیا۔ راقم نے ایک اور دوست کے مسلک کا حوالہ دے کر کہا کہ عقیدے کا اختلاف تو ادھر بھی ہے۔ جواب ملا ’تو وہ کون سے مسلمان ہیں‘۔ اس زنّاٹے دار جواب کے بعد خاکسار نے مزید بحث مناسب نہ سمجھی کہ دوسرے مسلک کا دفاع کرتے کرتے اپنے ہی مسلک کو خارج از اسلام کروا بیٹھنے کا خدشہ تھا۔

سنا ہے یہ صاحبِ ایمان آجکل امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔ خاکسار یہ امید اور دعا ہی کر سکتا ہے کہ بطور تارکِ وطن اقلیّت ان کے اور ان کے بچّوں کے ساتھ امریکہ میں وہ سلوک نہیں ہوتا جو یہ اپنے وطن میں اپنے ہی ایک ہم وطن کے ساتھ رکھنے کے خواہشمند تھے۔

پچھلے دنوں سابق دامادِ اوّل نے قادیانیوں کے ملک دشمن ہونے کا جو الزام لگایا تھا وہ بھی راقم کے لئے بدقستی سے نیا نہیں۔ حبّ الوطنی جانچنے کے طریقہءکار سے خاکسار واقف نہیں لیکن اگر پاک بھارت میچوں میں نامعقول حد تک جذباتی ہو جانا کوئی پیمانہ ہے تو راقم جتنے قادیانیوں کو جانتا ہے انہیں اتنا ہی پاکستانی پایا جتنا دیگر دوستوں کو۔

علم چاہے دینی ہو یا دنیوی، راقم نے حاصل کرنے سے حتّی الامکان گریز کیا ہے اور خدا کے فضل سے اس میں کافی کامیاب رہا یے (اس دعوے کے ثبوت میں مختلف امتحانات میں حاصل کردہ نمبر پیشکیے جا سکتے ہیں)۔ لہذا قادیانیّت کے باب میں نہ تو کسی علمی و مذہبی بحث کے قابل ہے اور نہ ہی پاکستان کے موجودہ حالات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ تاہم راقم کو یہ سوال رہ رہ کر آتا ہے کہ اگر مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک جائز تسلیم کر لیا جائے تو پھر برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے استحصال کے خلاف ہمارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے؟

علم چاہے دینی ہو یا دنیوی، راقم نے حاصل کرنے سے حتّی الامکان گریز کیا ہے اور خدا کے فضل سے اس میں کافی کامیاب رہا یے (اس دعوے کے ثبوت میں مختلف امتحانات میں حاصل کردہ نمبر پیشکیے جا سکتے ہیں)۔ لہذا قادیانیّت کے باب میں نہ تو کسی علمی و مذہبی بحث کے قابل ہے اور نہ ہی پاکستان کے موجودہ حالات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ تاہم راقم کو یہ سوال رہ رہ کر آتا ہے کہ اگر مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک جائز تسلیم کر لیا جائے تو پھر برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے استحصال کے خلاف ہمارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے؟

Facebook Comments HS