رضا، صغیر اور دہشت راج

ہیملٹ پر بنی "حیدر” کو وشال بھردواج نے کشمیر کی خونی جدوجہد آزادی کے تناظر میں فلمایا تھا۔ پاکستان کی مدد سے جاری جہاد اور ہندوستانی افواج کے بہیمانہ ظلم و ستم کے بیچ عام انسانوں کی ایک کہانی۔ پہلی بار جب اس پکچر کو دیکھا تو ایک سین نے دل تھام لیا۔ حیدر اپنے گمشدہ باپ کی تصویر لئے فوج کے ایک ڈیٹینشن سینٹر میں بیٹھا ہے اور ساتھ ہی ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر ہاتھ میں اٹھائے بیٹھی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں تصاویر کو دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کا غم سمجھ جاتے ہیں۔ جب یہ پکچر دیکھی تو ماما قدیر کا لانگ مارچ اسی برس ہوا تھا۔ اس لانگ مارچ کا ذکر میڈیا میں نہ ہونے کے برابر تھا مگر سوشل میڈیا کی بدولت پورے پاکستان میں اس کی وجہ سے بلوچستان اور گمشدہ افراد کے مسئلے پر بحث ہورہی تھی۔ اپریل میں سبین محمود کا قتل ہوگیا اور ساری بحث دفن ہوگئی۔ دہشت نے اپنا پھن پھلایا اور اس کا زہر ہماری ہڈیوں تک میں سرایت کرگیا۔
اس دہشت سے بچنے اور اپنی بات کہنے کا ایک ہی ذریعہ تھا، سوشل میڈیا۔ 2014 سے اس پر قدغنیں لگنا شروع ہوگئیں۔ اس کے خلاف پراپیگنڈا پھیلانا شروع کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے دہشت گردی پھیل رہی ہے۔ 2017 کے آغاز میں اس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے لبرل بلاگرز کو گمشدہ کر دیا گیا۔ اب دہشت ہماری آنکھوں کے آگے ننگا ناچنے لگ گئی۔ کی بورڈ تھم گئے، الفاظ کانپنے لگے اور خیالات سہم گئے۔ وطن عزیز میں اختلاف کو سزائے موت دے دی گئی۔ ٹارگٹ ایک پیج کو کیا گیا اور بند درجنوں ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر دہشت کا راج ہوگیا۔
رضا ہندوستان سے امن کی بات کرتا ہے، پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ کی کوشش کرتا رہا ہے۔ صغیر ابھی طالب علم ہے۔ ایک رضا اور ایک صغیر کے گمشدہ ہونے سے امن اور حقوق کی بات کرنے والے ہزاروں خاموش اور دہشت کی گود میں دھکیل دئے جاتے ہیں۔ جہاں امن اور حقوق کی بات کرنے والوں پہ دہشت کے پہرے ہوں، اختلاف کرنے سے پہلے ہر کوئی اپنی سلامتی کا سوچے وہاں جنگ، جبر اور یبوست راج کرتی ہے۔ وہاں دہشت گردوں کو مات نہیں دی جاسکتی کہ دہشت گردی کا مقابلہ آزادی کی ثقافت سے کیا جاسکتا ہے، بندوق سے نہیں۔
ہمیں رضا کو آزاد کروانا ہے، ہمیں صغیر کی سلامتی عزیز ہے، ہمیں امن اور حقوق کی بات کرنے والوں سے پیار ہے۔ ہم جنگ سے نفرت کرتے ہیں اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں قانون کو آزاد کروانا ہے!

