نیویارک میں نئی دہشت گردی


نیویارک میں ایک بنگالی مہاجر عقاید اللہ کو شدید غصہ چڑھا کہ امریکہ داعش پر بمباری کیوں کر رہا ہے۔ سی این این کے مطابق اسے اسرائیلیوں کے غزہ میں ظلم ڈھانے پر غصہ چڑھا تھا۔ اسے مزید غصہ یہ دیکھ کر چڑھا کہ امریکی جوش و خروش سے کرسمس کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ان صاحب نے کرسمس ٹری کے ٹوٹے ہوئے بلبوں کے کانچ، بارود اور ایک نائن وولٹ کی بیٹری کی مدد سے پائپ بم بنایا اور نیو یارک شہر کا ایک ایسا بس سٹیشن منتخب کیا جو کرسمس کی بتیوں سے خوب سجا ہوا تھا۔

بم پھٹ گیا اور بہت نقصان ہوا۔ کل ملا کر کوئی تین راہگیر ہسپتال بھیجنے پڑے۔ آواز سے ان کے سر میں درد ہو گیا تھا اور کان بجنے لگے تھے۔ ایک بندہ زیادہ زخمی بھی ہوا۔ اس کے ہاتھوں اور پیٹ پر جلنے سے زخم بن گئے تھے۔ اس کا نام عقاید اللہ بتایا جاتا ہے اور اس کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔

داعش کے حامی اس خودکش بمبار کو پولیس نے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ 2011 سے بروکلین کا رہائشی تھا اور ٹیکسی ڈرائیوری کرتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے انٹرنیٹ پر پائپ بم بنانے کا طریقہ سیکھا، مطلوبہ سودا خریدا اور اپنے گھر میں بم بنایا۔

صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے اپنا پرانا مطالبہ دہرایا کہ امریکہ کو اپنا کھلا ڈلا امیگریشن سسٹم بدلنا ہو گا جو بہت سے خطرناک اور صحیح طرح سے چھان بین نہ کیے جانے والے لوگوں کو بھی داخلے کی اجازت دے دیتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی نے کہا کہ صدر کی پالیسی چین امیگریشن، یعنی امریکی شہریوں کے رشتے داروں کو امیگریشن دینے، کو ختم کرنے کا کہتی ہے۔ یہ خودکش بھی اسی پالیسی کے تحت امریکہ گیا تھا۔ اگر صدر ٹرمپ کی پالیسی منظور کر لی جاتی تو یہ امریکہ نہ جاتا۔

عقاید اللہ کے رشتے دار کو امریکی لاٹری ویزا سکیم کے تحت امیگریشن ملی تھی اور شہریت پانے کے بعد اس نے عقاید اللہ کو بلا لیا۔ چند دن قبل ہونے والے دہشت گرد حملے کا ملزم بھی لاٹری ویزا سکیم پر 2010 میں ازبکستان سے امریکہ گیا تھا۔

یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جو لوگ امریکہ یا یورپ سے اتنی زیادہ نفرت کرتے ہیں، ان کے مظالم پر ان کا خون جلتا ہے، ان کی تہذیب اور آزادی ان کو اپنے عقائد کے خلاف لگتی ہے، وہ ادھر کرنے کیا جاتے ہیں؟ وہ سعودی عرب یا افغانستان جا کر کیوں نہیں سیٹل ہو جاتے؟ یا اپنی تہذیب اور عقائد کے عین مطابق صبر شکر سے زندگی گزارنے کے لئے اپنے ملک میں ہی کیوں نہیں رہتے؟
12 دسمبر 2017

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar