نیویارک میں نئی دہشت گردی

ان صاحب نے کرسمس ٹری کے ٹوٹے ہوئے بلبوں کے کانچ، بارود اور ایک نائن وولٹ کی بیٹری کی مدد سے پائپ بم بنایا اور نیو یارک شہر کا ایک ایسا بس سٹیشن منتخب کیا جو کرسمس کی بتیوں سے خوب سجا ہوا تھا۔
بم پھٹ گیا اور بہت نقصان ہوا۔ کل ملا کر کوئی تین راہگیر ہسپتال بھیجنے پڑے۔ آواز سے ان کے سر میں درد ہو گیا تھا اور کان بجنے لگے تھے۔ ایک بندہ زیادہ زخمی بھی ہوا۔ اس کے ہاتھوں اور پیٹ پر جلنے سے زخم بن گئے تھے۔ اس کا نام عقاید اللہ بتایا جاتا ہے اور اس کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔
داعش کے حامی اس خودکش بمبار کو پولیس نے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ 2011 سے بروکلین کا رہائشی تھا اور ٹیکسی ڈرائیوری کرتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے انٹرنیٹ پر پائپ بم بنانے کا طریقہ سیکھا، مطلوبہ سودا خریدا اور اپنے گھر میں بم بنایا۔
صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے اپنا پرانا مطالبہ دہرایا کہ امریکہ کو اپنا کھلا ڈلا امیگریشن سسٹم بدلنا ہو گا جو بہت سے خطرناک اور صحیح طرح سے چھان بین نہ کیے جانے والے لوگوں کو بھی داخلے کی اجازت دے دیتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی نے کہا کہ صدر کی پالیسی چین امیگریشن، یعنی امریکی شہریوں کے رشتے داروں کو امیگریشن دینے، کو ختم کرنے کا کہتی ہے۔ یہ خودکش بھی اسی پالیسی کے تحت امریکہ گیا تھا۔ اگر صدر ٹرمپ کی پالیسی منظور کر لی جاتی تو یہ امریکہ نہ جاتا۔

یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جو لوگ امریکہ یا یورپ سے اتنی زیادہ نفرت کرتے ہیں، ان کے مظالم پر ان کا خون جلتا ہے، ان کی تہذیب اور آزادی ان کو اپنے عقائد کے خلاف لگتی ہے، وہ ادھر کرنے کیا جاتے ہیں؟ وہ سعودی عرب یا افغانستان جا کر کیوں نہیں سیٹل ہو جاتے؟ یا اپنی تہذیب اور عقائد کے عین مطابق صبر شکر سے زندگی گزارنے کے لئے اپنے ملک میں ہی کیوں نہیں رہتے؟
12 دسمبر 2017

