الباما میں لبرل امیدوار کی فتح جو عورتوں کو ہراساں نہیں کرتا: ٹرمپ کا امیدوار ہار گیا


امریکی ریاست الاباما میں سینٹ کی کے اسپیشل الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ڈگ جانز نے سخت مقابلے کے بعد ری پبلیکن امیدوار رائے مور کر شکست دے دی ہے۔ الاباما کی ریاست روایتی طور ہر ری پبلکن خیالات کی حامی سمجھی جاتی ہے اور یہاں سے گزشتہ بیس برس میں کوئی ڈیموکرٹیک امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا۔

اس انتخاب کی دو وجہ سے اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔ ری پبلیکنز کو خدشہ تھا کہ اگر وہ اس نشست کو نہ حاصل کر سکے تو ٹیکس کے نظام کی درستگی سمیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قانونی ایجنڈا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف متعدد خواتین ری پبلیکن امید وار رائے مور پریہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ مور نے اس وقت جب وہ ٹین ایج دور سے گذر رہی تھیں، ان کے ساتھ نازیبا حرکات کا ارتکاب کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ انتخاب جیتنے کے لئے سخت بے چین تھے۔ انہوں نے ایک جلسے مین یہاں تک کہا کہ عورتوں کو ہراساں کرنا غیر اہم ہے، کم از کم رائے مور لبرل تو نہیں۔ ہمیں سینٹ میں ڈگ جانز جیسا ایک لبرل نہیں چاہیے۔

تاہم اس کے باوجود رائے مور الیکشن ہار گیا۔ الاباما کے ووٹرز نے ثابت  کر دیا کہ وہ جنسی ہراسانی کے الزامات کو سمجیدگی سے لیتے ہیں۔

متعدد خواتین مور پر نازیبا جنسی حرکات کا الزام عائد کر چکی ہیں مور ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔  تاہم سینٹ میں اکثریتی لیڈر مچ مک کونیل نے مور کو سینیٹ کے رکن کے طور پر غیر موزوں قرار دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ منتخب ہو جاتے ہیں توانہیں فوری طور پر اخلاقیات کی کمیٹی کے ایک کیس کا سامنا ہو گا۔

اے بی سی نیوز پر حال ہی میں مور کی انتخابی مہم کے مشیر ڈین ینگ نے کہا تھا کہ یہ مقابلہ الاباما میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مقدمہ ہے۔ سوال یہہے کہ کیا الاباما کے لوگ اس لبرل ڈیمو کریٹ ڈگ جونز کو ووٹ دیں گے جو نسی امتیاز پھیلانے والے کو کلس کلاں کے خلاف سرگرم رہا ہے یا اس شخص کو ووٹ دیں جو قدامت پسندی اور عورتوں کے ساتھ نامناسب رویے جیسی شناخت سے سینٹ کا رکن بننا چاہتا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار رائے مور
Facebook Comments HS