امپاسٹر سنڈروم (Imposter Syndrome) کیا ہے؟
میری ایک اچھی دوست کا اپنا سیلون ہے، وہ میرے بال تراش رہی تھی اور میں سر ٹیڑھا کر کے اس کی چھت پر لگا ٹی وی دیکھ رہی تھی جس میں ایک میڈیکل مسٹری شو چل رہا تھا۔ اس میں موسیقی کے ساتھ سنسنی پھیلا کر وہ ایک کیس بتا رہے تھے جس میں ایک خاتون کی بہن لمبی چوڑی ہوجاتی ہیں، ان کے ہاتھ پیر موٹے ہوگئے اور پیشانی آنکھوں پر چڑھنے لگی تھی۔ ان کو پچوٹری میں گروتھ ہارمون بنانے کا ٹیومر ہے، میں نے اپنی دوست کو بتایا اور وہی ان کو تھا۔ مسٹری اتنی بھی نہیں تھی، ان کو مناسب اسپیشلسٹ دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اگر گروتھ ہارمون بنانے کا ٹیومر گروتھ پوری ہونے سے پہلے ہو تو یہ لوگ لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں جس کو جائگینٹزم کہتے ہیں اور اگر قد ٹھہر جانے کے بعد ہو تو اس کو ایکرومیگالی کہتے ہیں۔ ان خاتون کو ایکرومیگالی ہوگئی تھی۔
امپاسٹر سنڈروم کو 1978 میں دو کلینکل سائیکالوجسٹس پالین کلینس اور سوزن آئیمیز نے بیان کیا۔ امپاسٹر سنڈروم اس کنڈیشن کو کہتے ہیں جس میں کوئی انسان اپنے آپ پر شک کرے اور خود کو بہروپیا سمجھتا ہو۔ ایسا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے عموماً سے ہٹ کر غیر متوقع کامیابی حاصل کی ہو۔ اکثر مشہور اور مقبول اداکار اور سیاست دان اپنے سامنے اپنے مداحین کا ہجوم دیکھ کر ایسا محسوس کرتے ہیں کہ جیسے سب لوگ دھوکہ کھا کر جمع ہوئے ہیں۔ وہ خود پر یقین نہیں کرتے۔ خود پر یقین کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جب میں نے اپنا نیا کلینک شروع کیا اور لوگوں کا پروفیسرز کی مدد کے بغیر خود سے علاج کرنا شروع کیا تو میں بھی ایسا ہی محسوس کرتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک خاتون آئیں اور وہ اپنے مسائل بتاتے ہوئے رونے لگیں اور بولیں کہ ڈاکٹر آپ میری مدد کریں۔ میں ایک دم گھبرا کر سوچنے لگی کہ کیا میں ان کی مدد کرسکتی ہوں؟ جب انووکانا دوائی نئی نکلی تھی تو اس دوا کی کمپنی نے مجھے یہ پیشکش کی کہ اس دوا کی اسپیکر بن جاؤں جو میں نے قبول کی۔ نئی دوا کے اسپیکرز کی ٹریننگ کے لیے باقاعدہ پورے ویک اینڈ کا کورس ہوتا ہے جس میں سائنسدانوں سے لے کر دوا بنانے والی کمپنی کے افراد سے مل سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں۔ یونیورسٹی سے نکل جانے کے بعد میڈیسن کی فیلڈ میں نئی معلومات حاصل کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے۔ جب میں ڈاکٹر ایج کے آفس میں ان کو لیکچر دینے گئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے سیکھتا ہوں۔ جب ہم اپنا مریض آپ کے پاس بھیجتے ہیں اور آپ ان کے بارے میں اپنا کانسلٹ نوٹ لکھتی ہیں تو میں ان سے نئی باتیں سیکھتا ہوں۔ میں نے ان کو حیرانی سے دیکھا تھا کیونکہ میں توقع نہیں کررہی تھی کہ وہ ایک بوڑھے ڈاکٹر ہوتے ہوئے مجھ سے یہ کہیں گے۔
میں نے خود کو کئی سال تک دو انتہاؤں کے بیچ جھولتا محسوس کیا جس کے بعد میں نے عقل کی، سوچ بچار کی سائڈ منتخب کرلی جس سے میرے زہن اور زندگی میں سکون ہوگیا۔ ایک مرتبہ صبح جینیٹکس کے پروفیسر لیکچر دے رہے تھے جہاں تین موٹی جینیائی بیماریوں کی ٹیکسٹ بکس بھی رکھی تھیں جو انہوں نے لکھی تھیں۔ پھر میں گھر آئی تو ایک رشتہ دار آنٹی آئی ہوئی تھیں جو استخارے کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ میرا دل چاہا کہ ان سے کہوں کہ اس سے بہتر ہے کہ آپ گوگل کرلیں۔ ہم سے پچھلی نسل کے لوگ سیدھے سادھے ہیں اور ان کے کافی سارے جادوئی خیالات ہیں خاص طور پر خواتین میں۔ اور یہ خلیج اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیسے پاٹی جائے گی۔ ان حالات کی وجہ سے میں نے امپاسٹر سنڈروم اور بھی زیادہ شدت سے محسوس کیا کیونکہ میرے سامنے وہ رول ماڈل موجود نہیں تھے جو میں بن گئی تھی۔ ایک سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقیات کو جادوئی کہانیوں کےساتھ اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ لوگ ڈرتے ہیں کہ سچ کا سامنا کرنے سے شائد ساری عمارت ہی گر جائے گی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
قریب پچھلے دوسال سے ہم سب پر لکھ رہی ہوں کہ میں اینڈوکرنالوجسٹ ہوں اور دیگر میڈیکل اسٹوڈنٹس بھی اس فیلڈ میں آگے آئیں کیونکہ اینڈوکرنالوجی کا فوکس پریوینٹو میڈیسن یعنی بیماریوں اور ان کی پیچیدگیوں سے بچانے پر ہے۔ اس کا آہستہ آہستہ فائدہ نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ پہلے بھی آکر جا چکے ہیں اور اگلے سال کے لیے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس نے لائن بنا لی ہے جو ہمارے ہسپتال میں آکر اینڈوکرنالوجی سیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بات کی مجھے بہت خوشی ہے۔ مجھے بچپن سے ٹیچر بننے کا شوق تھا۔ جب میں سینٹ سیویر سکھر میں کے جی کلاس میں گئی تو وہاں مس زاکرہ پڑھارہی تھیں۔ بچے بابا بلیک شیپ گارہے تھے۔ مس زاکرہ کی شخصیت نے مجھ پر اثر ڈالا اور میں بڑی ہوکر مس زاکرہ بن جانا چاہتی تھی۔ پھر پڑھانا میٹرک میں میری زندگی کی پہلی نوکری بھی تھی۔ سکھر میں ہمارے سامنے والی پڑوسن آنٹی کی چھوٹی بیٹی جس کو وہ لوگ پیار سے مکھن کہتے تھے دوسری کلاس میں فیل ہوگئی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مکھن کو ٹیوشن پڑھاؤ۔ مکھن روز ہمارے گھر پڑھنے آتی تھی جس کو میں اس کے سارے مضامین پڑھاتی تھی۔ پھر اگلے سال اس کی دوسری کلاس میں دوسری پوزیشن آئی تھی۔ میرے اسٹوڈنٹس کی کامیابی میری کامیابی ہے۔
ہمارے کالج میں اینڈوکرنالوجی کا ڈپارٹمنٹ نہیں تھا بلکہ پورے پاکستان میں ہی ابھی اس فیلڈ میں فیلوشپ نئی شروع ہوئی ہیں۔ ہمارے خاندان میں پہلے کوئی ڈاکٹرز نہیں تھے۔ ڈاکٹر کیسے بنتے ہیں؟ ڈاکٹر کیسے چلتے ہیں؟ ڈاکٹر کیسے بولتے ہیں؟ ڈاکٹر کیسے سوچتے ہیں؟ کچھ اندازہ نہیں تھا۔ بچپن میں سنتے تھے کہ فلاں ڈاکٹرسے علاج کرائیں، ان کے ہاتھ میں شفا ہے تو شفا کا تصور میرے زہن میں ایسے تھا جیسے آسمان سے کوئی سفید شے زمین پر منتقل ہورہی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ سمجھ میں آیا کہ اگر آپ کے دماغ میں انفارمیشن ہو اور دل میں اپنے مریض کے لیے ہمدردی تو ہاتھ میں شفا خود بخود آجائے گی۔ کسی بھی فیلڈ میں پڑھتے جائیں، سنتے جائیں اور دیکھتے جائیں تو ہم خود کو کچھ بھی بنا سکتے ہیں۔ زندگی اپنے آپ کو تخلیق کرنے کا نام ہے۔ اس لیے آپ بھی اینڈوکرنالوجسٹ یا زیابیطس ایجوکیٹر بن سکتی ہیں۔
Fake it until you make it!
اینڈوکرنالوجی ایک پیچیدہ فیلڈ ہے لیکن اگر کانسپٹس کو ایک بار سمجھ لیا جائے تو اتنی مشکل نہیں۔ ایک نیوروسرجن کے پچوٹری ٹیومر کو ایکسپلین کرنے پر لطیفہ بن گیا کیونکہ وہ جتنی کوشش کرتے اتنا ہی مزاحیہ بن جاتا تھا۔ وہ لائق آدمی تھے جن کو برین کی سرجری کرنا آتی تھی لیکن ہارمون کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں کام کرتے ہیں، اس کے بارے میں زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ اس لیے پچوٹری سرجری کرنے سے پہلے اینڈوکرنالوجسٹ سے کانسلٹ ضرور کرنا چاہئیے۔ اگر پچوٹری ٹیومر کے مریض یہ مضمون پڑھ رہے ہوں تو آپ اس کا تقاضا کریں کیونکہ کچھ جیسا کہ پرولیکٹن بنانے والے ٹیومر کا دوا سے علاج ممکن ہے۔ میڈیسن کا ایک اصول ہے کہ اپنا مریض سرجن کو مت دیں کیونکہ درست طریقے سے تشخیص کیے بغیر علاج شروع کرنا اور خاص طور پر کاٹ پیٹ والا علاج کرنا شروع کردینا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔
اینڈوکرنالوجی سے سیکھے ہوئے کچھ انمول موتی مندرجہ ذیل ہیں۔
1- جو چیز ٹوٹی ہوئی نہ ہو، اس کو جوڑنے کی کوشش مت کریں۔
2- نارمل لیب کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کے لیے نارمل ہے۔ اس کو نامناسب نارمل کہتے ہیں۔
3- ایب نارمل لیب رزلٹ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی ایب نارمل ہے۔
4- جو ہارمون زیادہ بن رہا ہو، اس کی بیماری کو سمجھنے کے لیے اس کو دبانے کی کوشش کریں۔
5- جو ہارمون مناسب مقدار میں نہیں بن رہا اس کوتحریک دیں۔
6- جب شبہے میں ہوں تو اسٹیرائڈ دے دیں۔
7- اچھے طریقے سے تمام ٹیسٹ کرنے کے بعد اگر دوا سے علاج نہ ہوسکتا ہو تو پھر سرجن کو اپنا مریض دے سکتے ہیں لیکن ایسے سرجن کا چناؤ کریں جس کا اس نوعیت کی سرجری کا تجربہ ہو۔
پڑھاتے ہوئے مجھے امپاسٹر سنڈروم محسوس نہیں ہوتا کیونکہ میں برابری کے لیول سے پڑھاتی ہوں۔ جو بات مجھے سمجھ آگئی وہ اسٹوڈنٹس کو بتادوں گی اور جو وہ نیا سیکھ کر آئے ہیں، مجھے بتا دیں گے اس طرح ہم سب ساتھ میں سیکھتے جائیں گے۔ تعلیم کبھی مکمل نہیں ہوتی اور ہم ہر روز کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ اگر یہ مضمون پڑھنے والے افراد میں سے کوئی بھی نارمن ہسپتال میں ذیابیطس یا اینڈوکرنالوجی سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں تو مجھے ای میل کرسکتے ہیں۔ اس چار ہفتے کے کورس کی کوئی فیس نہیں ہے۔





Comments are closed.