احساسِ برتری کہیں احساسِ کمتری کا ردِ عمل تو نہیں
منیر نیازی کا شعر ہے
مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں سب سے تھا
میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا
محترمی و مکرمی و معظمی درویش وجاہت مسعور نے ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کے کالم پر نہ صرف خود عالمانہ کالم لکھا ہے بلکہ ’ہم سب‘ کے چند لکھاریوں کو دعوت بھی دی ہے کہ اس موضوع پر کچھ لکھیں۔ میں نے سوچا وجاہت مسعود کی دعوتِ فکر کو قبول نہ کرنا اور درویش خالد سہیل کا کالم نہ لکھنا ادبی بے ادبی ہوگی۔ اس لیے بغیر کسی تیاری کے FREE ASSOCIATION پر عمل کرتے ہوئے وجاہت مسعود کی INSPIRATION سے یہ کالم لکھ رہا ہوں۔
میری نگاہ میں ایمپوسٹر سنڈروم کا بھی‘کئی اور نفسیاتی مسائل کی طرح‘ احساسِ کمتری سے گہرا تعلق ہے۔ جو شاعر‘ ادیب‘ دانشور اور فنکار احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں وہ زندگی میں کامیابیاں‘انعامات اور ایوارڈ حاصل کرنے کے باوجود انہیں دل کی گہرائیوں سے قبول نہیں کرتے اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے رہتے ہیں۔ احساسِ کمتری کے شکار فنکار‘ خاص طور پر جن کا فن سیاست کی نذر ہو جاتا ہے‘ اس بات کی بھی تمیز نہیں کر سکتے کہ کون سی عاجزی‘ انکساری اور کسرِ نفسی درویشی کی آئینہ دار ہے اور کون سی احساسِ کمتری کی۔ میرا ایک شعر ہے
کیا زمانہ تھا کہ فنکار ولی ہوتے تھے
اب وہ ہر بزم میں جاتے ہیں سیاست کرنے
میرے ایک ادیب دوست نے مجھے ایک مزاحیہ واقعہ سنایا کہ ایک ادبی محفل میں ایک شاعر ہر موضوع پر رائے دیتے ہوئے کہتے تھے ’میری ناقص رائے یہ ہے۔۔۔۔‘ ایک دن عدنان کاکڑ جیسے ایک مزاحیہ ادیب نے ان سے کہا’ حضورِ والا اس موضوع پر آپ کی ناقص رائے کیا ہے؟‘
احساسِ کمتری کا ایک نفسیاتی ردِ عمل احساسِ برتری ہے۔ وہ فنکار جو خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں دراصل نفسیاتی طور پر اپنے احساسِ کمتری کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اس نفسیاتی ردِ عمل کو نفسیات کی زبان میں REACTION FROMATION کہتے ہیں۔ میں اپنے شاعر‘ ادیب اور دانشور دوستوں سے کہتا ہوں کہ انہیں محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کا سماجی قد ان کے ادبی قد سے زیادہ نہ ہو جائے۔ بعض ادیب جو دوسرے ادیبوں‘نقادوں اور شاعروں سے کتاب کے فلیپ پر ’بہترین شاعر‘ اور ’عظیم ادیب‘ لکھوا کر مشہور ہو جاتے ہیں انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کا پول نہ کھل جائے اور ان کے قارئین اور ناقدین ان کی تخلیقات پڑھ کر مایوس نہ ہو جائیں۔
بیسویں صدی کے ماہرینِ نفسیات نے ہماری انسانی شخصیت کو سائنسی طریقے سے سمجھنے میں مدد کی ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب انسان کے کردار کو مذہب اور اخلاقی اقدار پر پرکھا جاتا تھا۔ اس کسوٹی پر پرکھنے سے کچھ لوگ نیک بن جاتے تھے کچھ بد‘ کچھ اچھے بن جاتے تھے کچھ برے‘ کچھ جنتی بن جاتے تھے کچھ جہنمی۔ ماہرین نفسیات نے CHARACTER کے مقابلے میں PERSONALITY کا تصور دیا ہے اور ہمیں بتایا کہ ہم انسانی شخصیت کو اخلاقی اقدار کی بجائے نفسیاتی صحت کے پیمانوں پر بھی پرکھ سکتے ہیں۔
سگمنڈ فرائڈ نے ہمیں سکھایا کہ انسانی لاشعور انسانی شخصیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس نے ہمیں DEFENCE AND COPING MECHANISMS کا تصور دیا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ انسان اپنی زندگی کے مسائل‘ مشکلات اور آزمائشوں سے کس طرح نبرد آزما ہوتا ہے۔ صحتمند لوگ صحتمند نفسیاتی طریقے اور ذہنی مسائل کا شکار لوگ غیر صحتمند نفسیاتی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ صحتمند طریقوں میں مزاح‘ تخلیقی اظہار اور حقیقت پسندی شامل ہیں جبکہ نفسیاتی مسائل کا شکار لوگ جن نفسیاتی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں حقائق سے پردہ پوشی اور DENIAL شامل ہیں۔ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لیتا ہے اور بلی اسے چپکے سے کھا جاتی ہے اسی طرح بعض انسان اپنے مسائل سے فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ فرار انفرادی سطح پر بھی ہو سکتا اہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ جو قومیں اپنے حال سے خجل ہوتی ہیں وہ ماضی پرست بن جاتی ہیں اور پدرِ من سلطان بود کے محاورے پر عمل کرتی ہیں۔
بعض فنکار اپنے احساسِ کمتری کا اظہار احساسِ برتری سے کرتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ ان کے رویے میں غرور اور تکبر آ گیا ہے۔ وہ عظیم بننا چاہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ عظمت کا تعلق دولت اور شہرت سے زیادہ تخلیقی ریاضت اور خدمتِ خلق سے ہے۔ درویش فنکار اپنے آپ کو سب سے پیچھے لیکن لوگ انہیں سب سے آگے رکھتے ہیں۔ وہ جب دوسروں کی خدمت کرتے ہیں تو لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔
میرے پسندیدہ ادیبوں میں سے ایک ارجنٹینیا کے ادیب بورخیز ہیں۔ وہ چالیس برس کی عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ ایک دفعہ ایک مشہور ادیب PAUL THERIAULT ان سے ملنے گئے۔ ملاقات کے بعد بورخیز نے انہیں اپنے پسندیدہ رسٹورانٹ میں ڈنر کی دعوت دی۔ پول تھیرو لکھتے ہیں کہ اس دن ایک نابینا ادیب ان کا خضرِ راہ تھا۔ وہ دونوں جب رسٹورانٹ میں داخل ہوئے تو حاضرین نے جب بورخیز کو دیکھا تو وہ ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ پول تھیرو لکھتے ہیں کہ حاضرین جانتے تھے کہ وہ نابینا ہیں لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ بورخیز اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھ نہ گئے۔ پول تھیرو کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی صدر ‘کسی بادشاہ یا کسی وزیرِ اعظم کی اتنی عزت ہوتے نہ دیکھی تھی۔ بورخیز نے بھی کئی اور عظیم ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں کی طرح لوگوں کے دلوں میں گھر بنا لیا تھا۔
رومی بھی فرمایا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد ہمیں قبروں میں مت تلاش کرنا ہم لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔
یہ وہ عزت ہے جس کے لیے دولت اور شہرت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کسی اپموسٹر سنڈروم کا دھڑکا نہیں رہتا۔
ویسے تو میں نے ’ہم سب‘ کے لیے اب تک ستر کالم لکھے ہیں لیکن یہ کالم خاص ہے کیونکہ یہ کالم ایک درویش وجاہت مسعود کے کہنے پر دوسرے درویش خالد سہیل نے لکھا ہے اور اب اسے ’ہم سب‘ کے درویشوں کے ڈیرے پر باقی درویشوں کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تا کہ وہ غور کر سکیں کہ کہیں ہم سب انفرادی یا اجتماعی طور ایمپوسٹر سنڈروم کا شکار تو نہیں۔

