کیا نواز شریف بحالی انصاف کی تحریک چلا سکیں گے؟
سابق وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ ہفتہ کے دوران تحریک انصاف کے عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرارنہ دینے کے فیصلہ کے بعد سے تلخ نوائی میں مصروف ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ یہ توقع کررہے تھے کہ سپریم کورٹ نے جس طرح انہیں ایک غیر موصول شدہ تنخواہ کے جرم میں نااہل قرار دیا ہے ، اسی طرح عمران خان کو بھی بیرون ملک ایک اپارٹمنٹ کی فرخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو ایک آف شور کمپنی کے ذریعے پاکستان روانہ کرنے اور انتخابات کے نامزدگی کاغذات میں اس کو ظاہر نہ کرنے پر آئین کی شق 62 اے کے تحت نااہل قرار دے گی۔ یہ دونوں مقدمات دو پہلوؤں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ نواز شریف پر کاروباری لین دین میں ناجائز طریقہ سے کمائی ہوئی دولت ملک سے باہر لے جانے کا الزام ہے جبکہ عمران خان نے کرکٹ کھیلتے ہوئے جو وسائل حاصل کئے تھے ان کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے بے قاعدگیوں کی شکایت ہے۔ اس کے علاوہ نواز شریف اور ان کا خاندان گزشتہ پانچ دہائیوں سے کاروبار اور سیاست میں ملوث ہے جبکہ عمران خان پر کاروباری لین دین کی وجہ سے کسی قسم کا الزام عائد نہیں کیاجاسکتا۔
اگرچہ ملک کے متعدد قانونی ماہرین نواز شریف اور عمران خان کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان میں دو مختلف معیار قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن اس بات پر بھی عمومی اتفاق رائے موجود ہے کہ عمران خان اور نواز شریف کے معاملات میں رقوم کے لین دین کا حجم بہت مختلف ہے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان پر لندن میں بیش قیمت اپارٹمنٹس کی ملکیت کا الزام ہے۔ عدالت عظمیٰ میں شریف خاندان کئی ماہ کی قانونی جنگ کے دوران اس بارے میں کوئی ایسی دستاویزات پیش نہیں کرسکا جن سے یہ ثابت ہوتا کہ اس قیمتی جائیداد کی خریداری کے لئے رقوم کہاں سے اور کیسے فراہم ہوئی تھیں۔ اسی لئے شریف خاندان کے مالی معاملات پر شبہات میں اضافہ ہؤا۔ دوسری طرف عمران خان پر مالی بے قاعدگیوں کا کوئی الزام نہیں ہے۔ شریف خاندان کے کاروباری اور سیاسی معاملات کی طویل تاریخ کی وجہ سے وہ پہلے بھی بدعنوانی کے الزامات کی زد میں رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین کرکٹ کھیلتے ہوئے رفاہی کاموں سے ہوتے ہوئے سیاست میں وارد ہوئے۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایک دیانتدار انسان ہیں۔
تاہم عدالتی فیصلوں کو دلیل کے کڑے معیار پرجانچا جاتا ہے۔ اس لئے ان دونوں فیصلوں کے حوالے سے عدالت کی طرف سے دو مختلف معیار اختیار کرنے پر تنقید بھی سامنے آرہی ہے۔ خاص طور سے سپریم کورٹ پاناما کیس کی طویل سماعت اور اپنی نگرانی میں تحقیقات کروانے کے باوجود نواز شریف کے خلاف کوئی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی تھی ۔اس کے باوجود انہیں اپنے بیٹے کی دوبئی میں قائم کمپنی کی سربراہی کی مقررہ تنخواہ وصول نہ کرنے، اور اس غیر وصول شدہ تنخواہ کو اثاثہ تسلیم کرتے ہوئے 2013 کے انتخابات کے موقع پر کاغذات نامزدگی میں اس کا ذکر نہ کرنے پر یہ قرار دیا گیا کہ وہ اس عذر کی وجہ سے ’صادق اور امین‘ کی شرط پر پورا نہیں اترتے۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹھوس قانونی بنیاد پر استوار نہیں ہے بلکہ اس تاثر پر مبنی ہے کہ نواز شریف مالی لین دین میں مقررہ قواعد و ضوابط کے پابند نہیں رہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سامنے آنے والی تنقید بھی اسی حوالے سے سامنے آتی ہے کہ ججوں نے شریف خاندان کی مالی بدعنوانی کے تاثر کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دینا ضروری سمجھا۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مقدمہ میں بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے خلاف کچھ بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آنے کے باوجود انہیں ان کی عام شہرت کی بنا پر بری کردیا گیا۔ دوسری طرف جہانگیر ترین چونکہ کاروباری آدمی ہیں لہذا وہ قانون کی گرفت میں لے لئے گئے۔
یہ دونوں فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سپریم کورٹ کے پاس جب کسی معاملہ میں واضح قانونی بنیاد نہیں ہوتی تو وہ ’بادی النظر‘ کی وسیع المعانی اصطلاح کا سہارا لیتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے کی مرتکب ہوتی ہے جو انصاف کے اعلیٰ معیار کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔ ان فیصلوں میں کیوں کہ ٹھوس اور قابل قبول قانونی شواہد اور دلائل فراہم نہیں ہو سکے اسی لئے انہیں غلط قرار دے کر اب نواز شریف بحالی عدلیہ کی طرز پر بحالی انصاف کے لئے مہم چلانا چاہتے ہیں۔ جبکہ عمران خان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ نواز شریف نے کبھی کوئی عوامی تحریک نہیں چلائی، وہ اس بار بھی عدالتوں پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ نواز شریف ہوں یا کوئی دوسرا لیڈر قانون کو ان کے ساتھ مساوی سلوک کرنا چاہئے۔ اس حد تک تو نواز شریف کی بات میں وزن ہے۔ لیکن ملک کی عدالتوں پر یہ دباؤ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ وہ سڑکوں پر رونما ہونے والے حادثات سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے لگیں۔ اگرچہ پاناما کیس اور عمران خان کے خلاف مقدمات کے فیصلوں میں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں تمام سیاسی لیڈروں کو عدالت پر دباؤ ڈالنے کی بجائے ملکی آئین میں شامل ایسی شقات کے خاتمہ کے لئے بین الجماعتی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی جو سپریم کورٹ کو غیر ضروری طور پر قانون کے رکھوالے سے زیادہ اخلاقی نگہبان کی حیثیت عطا کرتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ، وہ ایک آمرانہ دور میں آئین میں شامل کی گئی ایسی شقات کے خلاف اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں جو اب تلوار بن کر سیاسی لیڈروں اور منتخب عوامی نمائیندوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ سپریم کورٹ بھی یہ تسلیم کرنے سے انکار کرچکی ہے کہ وہ ان شقات کو فرسودہ سمجھتے ہوئے بروئے کار لانے سے گریز کرے تاکہ ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم ہونے کا موقع مل سکے۔ اسی طرح سپریم کورٹ آئین کی شق 184 کے تحت حاصل ازخود نوٹس کے اختیار کے استعمال پر بھی مناسب قدغن عائد کرنے یا اس کے استعمال میں احتیاط کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاناما کیس کا فیصلہ بھی اسی شق کے تحت کیا گیا حالانکہ اس کے ملک کی سیاست اور عدالتوں کے کردار پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں عدالتوں کے لئے حدود متعین کرنے کا کام پارلیمنٹ میں قانون سازی اور آئین میں مناسب ترامیم کے ذریعے ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی روایت استوار کرنے کی ضرورت ہے جہاں عدالتیں بھی تعصبات سے بالا ہو کر فیصلے کرسکیں اور پارلیمنٹ میں بھی قانون سازی کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں گروہی مفادات کی بجائے ملک و قوم کی وسیع تر ضرورتوں کو پیش نظر رکھ سکیں۔ نواز شریف جس بحالی انصاف کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں ، اس کی کامیابی کے لئے احتجاجی جلسے کرنے کی بجائے سیاسی افہام تفہیم اورتعاون کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔


