سنی لیون نے ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے ہار مان لی


ہندو انتہا پسندوں نے نامور بالی ووڈ اداکارہ سنی لیون کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ سنی لیون گزشتہ چند روز سے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سےخبروں میں ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کی خوبرو اور بے باک اداکارہ سنی لیون نئے سال کے موقعے پر ریاست کرناٹکا کے شہر بنگلور میں ’سنی نائٹ ان بنگلور2018‘شو میں پرفارم کرنے والی تھیں۔تاہم ہندو انتہا پسند تنظیم رکشنا ویدیکا یووا سینا نےاس شو کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی تھی اگر سنی لیون نے یہ شو کیا تو وہ اجتماعی خودکشی کرلیں گے کیونکہ وہ برداشت نہیں کرسکتے کہ سنی لیون مختصر لباس پہن کر شو میں پرفارم کریں اس طرح ان کے کلچر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور وہ اپنے کلچر کے منافی کوئی کام نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب بنگلور پولیس نے بھی یہ کہتے ہوئے ہاتھ کھینچ لیے تھےکہ نئے سال کے موقعے پر جگہ جگہ نفری تعینات کیے جانے کے باعث ہمارے پاس اتنی نفری نہیں ہوتی کہ سنی لیون اور شومیں آئے مہمانوں کی حفاظت پر مامور کریں لہٰذا اس تقریب میں امن کو نقصان پہنچنے کاخطرہ موجود ہے۔

پولیس کی جانب سے صاف جواب دینے اور ہندو انتہا پسندوں کے خوف نے بالآخر سنی لیون کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ اداکارہ نےٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بنگلور کی پولیس نے سب کے سامنے کہہ دیا ہے کہ وہ نیوائیر شو کے دوران میری اور تقریب میں آئے مہمانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ میرے اور میری ٹیم کے نزدیک لوگوں کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے لہٰذا میں یہ شو نہیں کروں گی ، خدا آپ کا حامی وناصر ہومیری دعا ہے کہ ہر انسان محفوظ رہے نیا سال مبارک ہو‘۔

واضح رہے کہ ہندوانتہا پسندوں کی دھمکی کے بعد شو انتظامیہ نے احتجاج کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیو ائیر پارٹی مکمل طور پر ایک فیملی شو ہے۔ ہم اس شو پر کروڑوں روپے لگا چکے ہیں اور اب پولیس نے شو منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے ہم اس حوالے سے وزیر داخلہ اور پولیس کمشنر کے پاس جائیں گے۔

Facebook Comments HS