ایک سیاہ تصویر سے سنی لیون کیسے برآمد ہوئی؟


ہمارا بچپن سے ایک شوق تھا۔ اور وہ شوق یہ تھا کہ ہم کچھ ایجاد کر کے دکھائیں۔ گویا ہم سائنس دان بننا چاہتے تھے۔ قسمت نے ہمارا ساتھ نہ دیا اور ہم سائنسی تعلیم میں بس اتنا ہی آگے بڑھ سکے جتنا کہ شدید ٹریفک جام میں کوئی چنگ چی آگے بڑھ سکتی ہے۔

ہمیں محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے یہ قدرت کی طرف سے ایک انعام تھا۔ ہمارے لیے نہیں بلکہ ان کے لیے جو ، اگر ہم سائنسدان بن جاتے تو ہماری ایجادات کی وجہ سے شدید متاثر ہو سکتے تھے۔ ان تمام لوگوں کو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے ہماری ذہنی استعداد کو محض اتنی ہی جلا بخشی کہ ہم بجائے سائنس کے صرف صحافت کی ڈگری ہی لے پائے۔

ایک محاورہ ہے کہ چور چوری سے جاتا ہے مگر ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ خدا گواہ ہے کہ ہم چور ہرگز نہیں ہیں مگر اپنا قومی تشخص برقرار رکھنے کی خاطر اکثر تھوڑی بہت ہیرا پھیری کر گذرتے ہیں تاکہ اقوام عالم میں ہمارا نامِ نامی روشن رہے۔ چناچہ ہم نے سائنسی ایجادات کے میدان میں کچھ نہ کچھ ہیرا پھیری جاری رکھی۔ امید یہ تھی کہ کبھی نہ کبھی کچھ نہ کچھ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو ہی جائیں گے۔ اور قسمت نے یاوری کی تو ایسا تیر مار کر دکھائیں گے کہ لوگ ہماری ایجاد کی وجہ سے ہمیں صدیوں یاد رکھیں گے۔

اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے کمانا پڑتا ہے۔ اور کمانے کے لیے اکثر وبیشتر ایسے طریقے بھی اختیار کرنے پڑ جاتے ہیں جو ہماری طبیعت، مزاج اور عادات سے لگا نہیں کھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود صحافت کی ڈگری ہاتھ میں ہونے کے ہمیں ایک بنک میں نوکری کرنی پڑ رہی ہے تاکہ روزی روٹی کا سلسلہ چلتا رہے اور ہم اپنی سائنسدانی پر بھی توجہ دے سکیں۔

اسی دھن میں زندگی گذر رہی تھی کہ اچانک ہم سے ایک عدد حادثاتی ایجاد سرزد ہو گئی۔ پہلے تو ہم دم بخود رہ گئے مگر پھر رفتہ رفتہ خود کو یقین دلایا کہ ہم کوئی خواب نہیں دیکھ رہے بلکہ واقعی ہم ایک عدد ایجاد کے حادثاتی مؤجد بن چکے ہیں۔

ہوا کچھ یوں کہ ہم نے ایک نیا موبائل فون خریدا۔ اس میں ایک نہایت شاندار قسم کا کیمرہ بھی لگا ہوا تھا۔ اس میں عجیب وغریب قسم کی آپشنز شامل تھیں۔ ہم ٹھہرے ازلی گنوار۔ ہمیں یہ الٹے سیدھے فنکشنز سمجھ میں نہیں آتے۔ کیمرے کا رزلٹ دیکھنے کے لیے ہم نے ایک تصویر لینے کی ٹھانی اور کیمرے میں شامل مختلف قسم کے فنکشنز بیک وقت چلا دئیے اور تصویر لے لی۔

جب ہم نے موبائل فون کی تصاویر والے خانے میں جا کر تصویر دیکھنا چاہی تو حیران رہ گئے۔ نہ جانے کس کیمرہ فنکشن کے ہل جانے سے جو تصویر کیمرے نے لی وہ ایک سیاہ تصویر تھی۔ مطلب یہ موبائل کی اسکرین پر کوئی عکس نہیں تھا۔ سیاہ اسکرین دیکھ کر ہم جھنجھلا اٹھے اور موبائل کو آف کرنا چاہا مگر دوسرے ہی لمحے ہم مارے حیرت کے اچھل پڑے۔ موبائل کی اسکرین پر ایک عدد بھیڑیئے کی تصویر نمودار ہو گئی تھی۔ وہ بھیڑیا غصیلے انداز میں ہمیں ہی گھور رہا تھا۔ بھیڑیئے کی چمکتی ہوئی آنکھوں نے ہمیں خوف زدہ کر دیا ۔دوسرے ہی لمحے موبائل اسکرین پر ایک گیدڑ نظر آنے لگا۔ ہمیں کچھ دیر لگی یہ سمجھنے میں کہ یہ ایک ایسی عجوبہ تصویر ہے جس میں وہی عکس نظر آتا ہے جو دیکھنے والے کی اندرونی کیفیت کا عکاس ہوتا ہے۔

ہم نے کیفیات بدل بدل کر تصویر دیکھنے کا تجربہ کیا۔ موبائل فون کی اسکرین پر ہماری سوچ کے مطابق کبھی شاہ رخ خان ابھرآیا تو کبھی خادم حسین رضوی کا چہرہ پرنور ہماری نگاہوں کو زخمی کر گیا۔ کبھی ہم نے خود کو نواز شریف پایا تو کبھی ہم عمران خان بنے کنٹینر پر چڑھے دکھائی دئیے۔ اب آپ سے کیا پردہ۔ ہم نے ذہن پر "مخصوص ” کیفیت بھی طاری کر کے تصویر دیکھی۔ ٹینس کھیلتی ثانیہ مرزا بھی دکھائی دی اور سبز ساڑی میں جلتی بجھتی سنی لیون بھی جلوہ افروز ہوئی۔ ہم نے جھینپ کر ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا؟ مگر خیر گذری کہ ہم کمرے میں اکیلے تھے۔

ہم چاہتے تھے کہ اپنی ایجاد کا شہرہ دنیا بھر میں کر دیں لہٰذا ہم نے وہ تصویر ایک کالم میں شامل کر کے "ہم سب” پر بھیج دی۔ "ہم سب ” پر نئے لکھاریوں کو خوب موقع دیا جاتا ہے چناچہ ہمارا کالم اور وہ تصویر "ہم سب” پر چھپ گئی۔

اب جو”ہم سب” کے قارئین نے اس تصویر کو دیکھنا شروع کیا تو اپنی اپنی کیفیات کے زیر اثر انہیں وہ وہ مناظر دکھائی دئیے کہ انہوں نے اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔ ہم چونکہ اس کے مؤجد تھے لہٰذا ہمیں اندازہ تھا کہ یہ تصویر کیا گل کھلا سکتی ہے۔ اور ہماری امیدوں کے عین مطابق گل کھلنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ اچھا خاصا فساد پڑ گیا۔

ہم چونکہ "ہم سب” کے قاری بھی ہیں اور کالم نگار بھی اور اس فساد کی اصل وجہ سے واقف بھی ہیں چناچہ ہم نے اپنا فرض جانا کہ اصل حقیقت آپ سب کےسامنے لے آئی جائے۔ عرض بس اتنا کرنا ہے کہ اس ایجاد کو اچھی کیفیات کے زیر اثر دیکھیئے۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کو شکایت نہیں ہو گی۔ تجربہ شرط ہے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad