اب فوج اور سپریم کورٹ بھی کمزور ہو رہے ہیں

انگریز کے دور میں مشہور تھا کہ ایک نہتا سپاہی پورے گاؤں کو رسی سے باندھ کر تھانے لے جا سکتا تھا۔ کسی میں جرات نہیں ہوتی تھی کہ اس سے غنڈہ گردی کرے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ریاست کی جانب سے اپنے نمائندے کی تذلیل پر جو رد عمل آتا وہ گاؤں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا۔
پشاور کا ایک مشہور واقعہ یاد آتا ہے۔ روایت ہے کہ پشاور کے تھانہ ہشت نگری کی حدود میں ایک متمول ٹھیکیدار کے بیٹے نے ایک قتل کر دیا۔ ٹھیکیدار نے تھانیدار کو رشوت دے کر چالان نرم کروانے کی کوشش کی مگر تھانیدار نے رشوت لینے سے انکار کر کے قانون کے مطابق چالان پیش کیا۔ مجرم کو سزائے موت ہو گئی۔ عدالتوں سے اس کی توثیق ہو گئی۔ ٹھیکیدار نے جنگی فنڈ میں لاکھوں روپے چندہ دیا ہوا تھا۔ اس نے انگریز حکام سے معافی کی اپیل کی جو مسترد ہو گئی۔ کسی خیرخواہ نے اسے مشورہ دیا کہ لندن میں شاہ برطانیہ کی تاجپوشی کے جشن میں شرکت کرے اور وہاں تاج برطانیہ کے لئے اپنی خدمات بتا کر معافی حاصل کر لے۔ شاہ برطانیہ نے معافی نامے پر دستخط کر دیے اور مجرم چھوٹ گیا۔
بعد میں ایک دن تھانیدار اپنے علاقے میں گشت پر تھا تو ٹھیکیدار نے اسے دیکھتے ہوئے زمین پر تھوکا اور کہا کہ تمہیں تمہارے قانون کی اوقات دکھا دی، اب تمہاری پیٹی بھی اترواؤں گا۔ تھانیدار اسی دن گورنر سرحد کے پاس پہنچا اور اسے سیلوٹ کر کے اپنا استعفی اس کے حوالے کیا اور اپنی بیلٹ اتار کر اس کے سامنے میز پر رکھ دی کہ اگر ریاست کی وردی کی یہ اوقات ہے تو ذلیل ہونے کا کیا فائدہ۔
گورنر نے وائسرائے سے رابطہ کر کے معافی کی منسوخی کی درخواست کی۔ وائسرائے نے مجبوری ظاہر کی کہ بادشاہ کی دی ہوئی معافی کو کیسے منسوخ کرنے کے لئے کہا جا سکتا ہے۔ گورنر نے جب معاملہ واضح کیا کہ یہ ریاست کی تحقیر کا معاملہ ہے تو وائسرائے نے بادشاہ سے رابطہ کیا اور بادشاہ نے ریاست کے وقار کی خاطر اپنا وقار ایک طرف رکھتے ہوئے معافی نامہ واپس لیتے ہوئے سزائے موت پر فوری عمل کا حکم دیا۔
تاج برطانیہ اپنے اہلکاروں کے پیچھے ایسے ہی کھڑا ہوتا تھا اور یہی اس کے بہترین نظام کی وجہ تھی کہ چند ہزار انگریز بھی کروڑوں ہندوستانیوں پر حکومت کرنے میں کامیاب رہے۔ آج فیض آباد میں ریاستی وردی پہنے اہلکاروں کو بری طرح مارنے پیٹنے والوں کو ہزار ہزار کے نوٹ دیے جانے پر پولیس والے رو رہے ہیں کہ ہمارا نہیں تو ریاست کی وردی کا ہی خیال کر لینا تھا۔
اداروں کی یہ تحقیر قیام پاکستان کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ پہلے 1949 میں پروڈا کے قانون سے سیاستدانوں کو چور بتایا گیا، بعد میں ایبڈو، احتساب بیورو اور نیب وغیرہ کا زور اسی بات پر دکھائی دیا کہ سب سیاست دان کرپٹ ہیں۔ عوامی نمائندے بے توقیر ٹھہرے۔
اعلی بیوروکریسی کو بھٹو کے دور میں نئے قوانین کے ذریعے بے توقیر کیا گیا۔ انگریز دور سے اعلی افسران کی تنخواہیں اور مراعات ایسی چلی آ رہی تھیں کہ ان کو رشوت کا سوچنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ واپس لے لی گئیں۔ آج صرف اپنی تنخواہ میں کون سا افسر اپنے بچوں کو اعلی درجے کے سکولوں میں پڑھا لکھا سکتا ہے؟ رشوت نہ بھی لیں تو وہ مختلف پراجیکٹس وغیرہ میں لگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ایک اعلی پولیس افسر کو جانتا ہوں جو خودکش دھماکوں کے باوجود کوئٹہ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کچھ عرصے کے لئے اقوام متحدہ میں کہیں ڈیپوٹیشن ہو جائے تاکہ کچھ پیسے جوڑ کر وہ اپنی بچیوں کی اچھی تعلیم کا بندوبست کر سکیں۔
بیوروکریسی کی باقی کسر بھٹو کے بعد آنے والی حکومتوں نے پوری کر دی۔ جب افسران کو ملازمت کا قانونی تحفظ حاصل نہیں رہا۔ کارکردگی کی بجائے حکمرانوں کی جی حضوری پر ان کے ترقیاں تبادلے ہونے لگے تو وہ ریاست کی بجائے حاکم وقت کے نمائندے بن گئے۔ نتیجہ یہ کہ عوام کی نگاہوں میں وہ اپنا مقام کھو بیٹھے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اس لحاظ سے بہت بری رہی ہے۔ ماڈل ٹاؤن، اسلام آباد کے عمران خان اور خادم رضوی کے دھرنوں کے دوران پولیس افسران کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کے بعد وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے سے زیادہ اپنی گردن بچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نظریہ ضرورت کے باوجود اعلی عدلیہ کی عوام میں بہت توقیر تھی۔ اب سیاسی تنازعات کو عدالت میں حل کرنے کی روش نے وہ توقیر ختم کرنی شروع کر دی ہے۔ جب معززین کا نام سڑکوں پر اچھالا جانے لگے تو یہ پریشانی کی بات ہے۔ متاثرہ لیڈروں کے کروڑوں ووٹروں میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ فیصلے عدالت میں نہیں ہو رہے ہیں۔ عدالت کی ایسی بے توقیری تو مولوی تمیز الدین کیس اور بھٹو کی پھانسی کے کیس میں بھی نہیں ہوئی تھی جو آج ہو رہی ہے۔ آج ہمارے چیف جسٹس کو تقاریر میں اپنی نیک نیتی کا یقین دلانا پڑ رہا ہے۔
دوسری طرف فوج کا معاملہ ہے۔ جس دن فاٹا میں مولوی نیک محمد سے پولیٹیکل ایجنٹ کی بجائے کور کمانڈر نے معاہدہ کیا تھا وہ موجودہ تنزل کا آغاز تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب افسران اپنی وردی پہن کر عوام میں نہیں جا سکتے تھے۔ جنرل کیانی کے دور میں صورت حال میں نمایاں بہتری آئی اور جنرل راحیل شریف نے آئی ایس پی آر کے موثر استعمال سے فوج کا امیج بہت حد تک بحال کر لیا۔ گو کہ ان ادوار میں بھی میمو گیٹ وغیرہ جیسے معاملات نے امیج کو متاثر کیا۔ لیکن فیض آباد میں ”امن معاہدے“ کے بعد جو تاثر گیا ہے اس نے فوج کو بے حد پسند کرنے والے پنجاب میں بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کو شدید نالاں کیا۔ فوج کو اپنی عزت اور دبدبہ برقرار رکھنے ہیں تو اسے ماضی کی برطانوی پالیسی کے مطابق عوام سے دور رہنا چاہیے۔
فوج اور عدلیہ کے متعلق یہ تاثر ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ اب سوشل میڈیا کے دور میں دنیا بہت سمٹ گئی ہے۔ اسے کنٹرول کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ ایسے معاملات کو جس طرح سے سوشل میڈیا پر اچھالا جاتا ہے اس کا تدارک آسان نہیں ہے۔ باقی اداروں کی تباہی کے بعد اب اگر یہ ادارے بھی عوام کے لئے قابلِ اعتبار نہ رہے تو یہ بات ہمیں انتہائی بدتر حالات سے دوچار کر سکتی ہے۔ اداروں کو طاقت عوام سے ملتی ہے، عوام بدگمان یا مخالف ہو جائیں تو پھر ڈھاکہ کا پلٹن میدان ہوا کرتا ہے۔ ریاست کے ان اہم ترین اداروں کی توقیر میں کمی وطن سے محبت کرنے والوں کو گوارا نہیں ہے۔
بہتر یہی ہے عوام کے منتخب نمائندوں کو آزادی سے ملکی معاملات چلانے دیں تاکہ وہ اپنے اچھے برے فیصلوں کی ذمہ داری خود اٹھانے پر مجبور ہوں اور اپنے اقتدار کو بچانے کی بجائے پاکستان کو بچانے پر توجہ مبذول کریں۔ ملک میں سیاسی استحکام ہی اسے معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط کر سکتا ہے۔

