میں پیا سے مل کر آئی ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں آج اپنے ساتھ انصاف کر آئی ہوں میں آج پیا سے مل کر آئی ہوں۔ اس سامری سے جو بانسری بجاتا ہے اور میں عورت سے نا جانے کیا بن جاتی ہوں۔ شاید ایک عورت ہی بن جاتی ہوں۔ ایک ایسی عورت جس کو تلاش ہے کسی شاعر کی۔ یا پھر کوئی اپسرا جو صرف نواز کر ایک انداز بے نیازی سے چاندنی میں گم ہو جاتی ہے. یا پھر کوئی سیاہ کالی لوچ دار ناگن ، جو جذبات کی ناگ منی اپنے ہی حلق میں رکھے پونم کے انتظار میں ہے۔

میرا پیا مجھے منظور ہے۔ جس کو قبول کیا تھا۔ جی بالکل قبول کیا تھا۔ اب اس نے کسی اور کو قبول و منظور کر لیا ہے۔ مجھے میرا پیا ہی منظور ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ منظور ہے۔ یہی تو بات ہے کہ منظور ہے۔۔

کبھی آپ نے کسی ہوٹل کے کمرے سے پوچھا ہے کہ میاں میں تمہیں قبول ہوں؟ نہیں پوچھا ہوگا۔ آپ نے پیسے تھمائے اور کمرہ آپ کو مہمان کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ اس کا کام ہی منظور کرنا ہے۔ آپ اپنی تھکن اتارتے ہیں۔ نیند پوری کرتے ہیں۔ جس بستر پر آپ سوتے ہیں حتیٰ کہ اس بستر کی سلوٹیں بھی آپ دور کر کے نہیں جاتے۔ آپ ایک دکان میں اپنی خلوت کے لمحات گزار رہے ہوتے ہیں۔ ہاں شاید میں وہی ہوٹل کا کمرہ بن جاتی ہوں۔ اور میرا پیا؟ جی میں اس پر واری واری جاتی ہوں۔ میری تنہائی کی بھوک ، میرے احساسات کی بھوک اور میرے پیٹ کی بھوک میرا پیا ہی تو مٹاتا ہے۔ میری باتیں آپ کو بہکی بہکی لگیں تو میں تو میں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کروں گی۔ جب حوصلے تھک جاتے ہیں تو تو انسان بہک جاتا ہے۔

تو میں پیا سے مل آئی۔ کیونکہ میں مقام عشق کو پا نہیں سکی ورنہ میں بہک بہک کر سنبھل گئی ہوتی۔ مگر میں کچھ عجیب ہی ہوں۔ نہ خزاں میں تاریکی نظر آتی ہے نہ بہار میں کوئی روشنی۔ شاید میری نظر کا چراغ کہیں بجھ گیا ہے۔ منظور جو کر لیا۔ جو ہوا اسے ہونے دیا۔ مگر کبھی کبھی یونہی خیال آ ہی جاتا ہے کہ میں نے تو کبھی….. کا بورڈ خود پر آویزاں کرنا ہی نہیں چاہا تھا۔ بلکہ اب تو وہ حال ہے کہ میں خود ایک اشتہاری بورڈ ہوں۔ مجھ پر اپنی مردانگی کا بورڈ لگا کر مجھے عورت لکھو یا اپسرا یا ناگن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس جب کبھی یہ بورڈ خالی ہوتا ہے تب کبھی کبھی میری آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔ تھوڑی سی اچانک پھر بہکنی لگی ہوں۔ میرا مان توڑ گیا ایک شخص۔ عورت کی سب سے قیمتی چیز اس کا چاہے جانے کا احساس یا خواہش ہوتی ہے۔ مگر میری محبّت اور وفا کو نظر انداز کیا گیا جو میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ مکمّل عورت تو نسسانیت کے پکے رنگوں سے رنگی چھنگی ہوتی ہے۔ میں نے کچے ہی سہی پر رنگوں میں رنگ لیا ہے خود کو جو مجھے پیا تک لے جاتے ہیں۔ مگر میرامعیارآج بھی روز اول کی طرح ہے۔ میں توحید کی قائل ہوں۔ اب اگر خدا ہی بدلتے رہیں تو میرا کیا قصور۔ میں نے منظور کر لیا ہے۔ اب مجھے جانا ہے۔ وہاں جہاں سے بھوک مٹتی ہے۔ مگر ایک بات ہے جو میں نا بیان کر پاتی کبھی بھی، احمد فراز جیسا آدمی میرے لئے ہی لکھ کر گیا ہے۔ صرف میرے لئے ہی لکھا ہے انہوں نے

یہاں شوق بھی تماشہ
یہاں عشق بھی ملامت
نہ تو وصل خوبصورت
نہ فراق ہی قیامت

پہلی تاریخ اشاعت: Dec 23, 2017

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •