قائد اعظم زندہ ہوتے تو میڈیا ان سے کیا سلوک کرتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی انتقال نہ فرما جاتے تو آج کا پاکستان مختلف ہوتا۔ لیکن، ‘یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے’۔ عرض ہے کہ ہم آج میں کیا کر رہے ہیں؟ قائد اعظم تو اب ہم میں نہیں رہے۔ اب ہمارے پاس بس تصوراتی خاکے ہی رہ گئے ہیں۔ تو ایک مفروضہ ہم بھی گھڑ لیتے ہیں۔

چند سال پہلے کسی چینل پر ایک پروگرام دیکھا تھا۔ پروگرام کے میزبان معروف سکالر انیق احمد تھے۔ اس پروگرام میں انیق نے گورنمنٹ کالج سے تعلّق رکھنے والے ایک نوجوان کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ نام نہیں یاد لیکن اس نوجوان نے ایک بڑی ہی دل کو چھو لینے والی بات کہی۔ انیق احمد نے جب ان سے نوجوان نسل کی قائد اور اقبال سے دوری بارے سوال کیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا۔

“ایک بار گورنمنٹ کالج میں ایک کانفرنس میں جرمنی سے ایک وفد آیا ہوا تھا۔ اس وفد میں Ludwig Maximillan University of Munich سے ایک پروفیسر صاحب بھی شامل تھے۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ جرمنی اور بالخصوص اس یونیورسٹی میں علامہ اقبال کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ پروفیسر صاحب نے جواب دیا کہ آپ کے سوال کے جواب میں، میں آپ کے سامنے پاکستانیوں کے بارے میں اپنا ایک مشاہدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ اپنے ماضی کے جناح اور اقبال کے اس قدر مداح ہیں کہ مستقبل کے بہت سے جناح اور اقبال کو نظرانداز کر چکے ہیں”۔

اس پروگرام کو دیکھے کافی عرصہ بیت چکا۔ ہمارے میڈیا نے اس عرصے میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر لی ہے۔ حالیہ برسوں میں کوئی نوجوان ایسی جرات مندی کے ساتھ بات کرتا ٹی وی پر نظر نہیں آیا۔ آج کا کوئی رمضان شو والا اینکر ہوتا تو شاید موصوف کو ڈانٹ پلا دیتا۔ “قائد اعظم کو blame کریں گے ہم؟”

فرض کیجئے کہ ذرائع ابلاغ کا کردار تب بھی وہی ہوتا جو آج کل ہے تو کیا قائد اعظم کا دامن ایسا اجلا رہ پاتا؟ کوئی صاحب ٹی وی پر بیٹھ کر فرما رہے ہوتے یہ Shakespeare کے ڈراموں میں کام کرنے والا، اسے کیا پتہ سیاست کیا ہوتی ہے؟ ضمیر کی آواز پر کانگریس کو خدا حافظ کہتے تو کانگریس کے حامی اینکر پرانے کلپ چلا چلا کر دکھاتے۔

آپ کہتے ہیں ملک صحیح راہ پر چل نکلتا؟ حضور، جانے دیں۔ قائد اعظم کو لگ پتہ جاتا۔ ذرا تصوّر کریں، قائد اعظم لکھنؤ کا معاہدہ کر کے باہر آ رہے ہیں اور ایک صاحب ٹی وی پر بیٹھے اجلاس کے ‘اندر کی کہانی’ بیان کر رہے ہیں۔ اگلی صبح جب تک اخبار نکلتا اور معاہدے کے مندرجات منظر عام پر آتے، ہمارے اینکر حضرات عوام کو یہ باور کروا چکے ہوتے کہ قائد اعظم نے گاندھی سے ‘مک مکا’ کر لیا ہے۔ پروگرام کے شروع سے لے کر آخر تک مسلسل tickers سے اوپر والی پٹی میں “گاندھی کا یار؟” فلیش ہو رہا ہوتا۔

1944 کے قائد اعظم گاندھی مذاکرات تو میڈیا کی چاندی کر جاتے۔ شام کو ساڑھے سات بجے دونوں رہنما کمرے سے بہار آتے اور میڈیا کے سامنے مسکراتے ہوئے pose کرتے تو کوئی رپورٹر ملاقات میں کیا ہوا کی ٹوہ میں نہ ہوتا۔ سب کا مطمع نظر بس یہ جاننا ہوتا کہ کھانے کی میز پر کیا کیا تھا، قطع نظر اس کے کہ ان دو نحیف بزرگان نے زیادہ سے زیادہ کیا کھا لینا تھا؟ ہماری اماں کے ماموں جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کے حامی تھے، پھر مشرّف با مشرّف ہوئے اور اب عمر کے آخری حصّے میں عمران خان کے انقلاب سے آخری امید لگائے بیٹھے ہیں، مسکراتی تصویریں دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے فیصلہ صادر فرماتے، ‘بیچ دیا تھر کا کوئلہ’۔

آٹھ بجے والے پروگرام میں ایک خوش شکل نوجوان بیٹھ کر لوگوں کے منہ میں اپنے الفاظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا اور سامنے ایک ریٹائرڈ افسر سلیقے سے بال بنائے اپنے عقلمند ہونے کا تاثر دیتے سامعین کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہوتے کہ ‘ادارے اس ملاقات سے خوش نہیں ہیں’، چاہے ملاقات کے پیچھے ‘اداروں کا ہاتھ’ ہی کیوں نہ ہو۔

کچھ عرصے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم فرماتے کہ “یہ دونوں ممالک مشکل وقت میں ایک دوسرے کی حفاظت کو آگے بڑھیں گے” اور یہاں تک کہہ جاتے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امریکا سے بھی زیادہ ٹھوس Monroe Doctrine وجود میں آئے گا تو اس شام جو تماشا اینکر صاحب نے لگانا تھا، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ کیمرے کے آگے کاغذ لہرا لہرا کر انہوں نے بتانا تھا کہ یہ میرے پاس جناح کی بھارت میں موجود جائداد کی تفصیل ہے۔ یہ بیانات صرف اپنی جائداد کو بچانے کے لئے ہیں۔ یہ ساری دستاویزات میں آپ کو دکھاؤں گا لیکن اس وقفے کے بعد، ہمارے ساتھ رہیے۔ Take a break”۔

31 جنوری 1948 کو گاندھی کی وفات پر جناح پاکستان میں عام تعطیل کا اعلان کرتے تو بزرگ دانشور تو مایوس ہی ہو جاتے۔ ‘ملک کی توقیر کا انہیں کچھ خیال نہیں، دشمن کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں، قوّت فیصلہ سے جناح عاری ہیں، ملک چلانے کی لئے نا اہل اور عوامی امنگوں کا انہیں ادراک نہیں۔ بمبئی میں ان کی ملکیت میں ایک مکان ہے، تفصیلات مجھ سے مانگی جائیں گی تو ثبوت میں قوم کے سامنے رکھ دوں گا”۔

کبھی بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرنے پر ‘علماء’ جمعہ کو یوم سیاه قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی کال دیتے اور قائد اعظم ان کی تحریک کا تقابل تحریک پاکستان سے کرنے پر خفگی کا اظہار کرتے تو اپنے خطاب کے دوران مولانا صاحب انہیں کس قسم کی مغلظات سے نوازتے، آپ تصوّر کر سکتے ہیں (یہ لوگ تب بھی ایسی ہی مغلظات سے نوازا کرتے تھے۔ کوئی تبدیلی نہیں۔ ارتقا کا عمل اس طبقے پر جیسے ٹھہر گیا ہو)۔ آواز آتی، ‘تیری تحریک سے مقابلہ کر کون رہا ہے؟ پارسیوں کے داماد، پارسیوں کے ایجنٹ! یہ عاشقوں کی تحریک ہے’۔

اور پھر ایک دن قائد اعظم کسی نشست میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی ضرورت پر سیر حاصل بحث کر کے گھر تشریف لا رہے ہوتے کہ اچانک غائب ہو جاتے۔ دوست احباب گھر جا کر دیکھتے تو کمپیوٹر کے CPU کے علاوہ سب چیزیں اپنی جگہ موجود ہوتیں۔ قائد اعظم ‘missing’ ہو جاتے۔ ہم اپنی سی کوشش میں موم بتیاں جلاتے، #FindJinnah ٹرینڈ کرتے۔ ادھر محترمہ فاطمہ جناح ایف آئی آر درج کرواتیں۔ گمشدگی کے گیارہ دن بعد عدالت میں پٹیشن لگتی تو جج صاحب تھانے دار کو چھ دن بعد جواب داخل کروانے کی ہدایت کر کے عدالت برخاست کر دیتے۔

‘میرا بھائی لاپتا ہے جج صاحب۔ اس کو کوئی اٹھا کر لے گیا ہے۔ گیارہ روز ہو گئے ہیں۔ چھ دن اور؟ میں کیا کروں گی؟ آپ کو پتہ ہے جن کا کوئی لاپتا ہو جاتا ہے، ان کے چھ دن کتنے دنوں میں جا کر پورے ہوتے ہیں؟’۔ مادر ملت دل میں چلّاتیں مگر جج صاحب کی خفگی کے ڈر سے آنکھوں میں آنسو لئے وہیں کھڑی خود کو گھونٹتی رہتیں۔ اگلی پیشی پر ایک اور جج صاحب غصّے کا اظہار کرتے ہوئے مقامی SHO کو اگلی پیشی پر قائد اعظم کو ہر حال میں پیش کرنے کا حکم دیتے۔ سولی پر چار دن گزرنے کا انتظار کرتی بہن اور پریشان دوست جانے کس برتے پر آس لگائے کمرہ عدالت میں پہنچتے تو وہاں SHO کو اکیلے بیٹھا دیکھ کر پھر بجھ سے جاتے۔ SHO صاحب قائد اعظم کو ڈھونڈنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے۔ ‘اگلی تاریخ ہائی کورٹ آفس دے گا’۔

تھکی ہاری مادر ملت جب گھر آ کر اپنا موبائل فون کھول کر دیکھتیں، تو Twitter پر کسی کا پیغام دکھائی دیتا،

‘جناح نامی شخص سوشل میڈیا پر جعلی پیج کا ایڈمن ہے’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •