فیض احمد فیض نے روسی نظموں کا ترجمہ کیسے کیا؟
معروف نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیّر اپنی کتاب ”ہائیڈل برگ کی ڈائری“ میں رقمطراز ہیں:
” ڈاکٹر کرسٹینا نے مجھ سے ظ انصاری کے پندرہ روسی شعراء کے تراجم منگوائے ہیں۔ انہوں نے انڈیا میں کسی سے سنا کہ فیض نے ظ انصاری کے بعض تراجم کو اپنی کلیات میں شامل کر لیا ہے۔ میں نے خود موازنہ کیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ فیض نے رسول حمزہ توف کی پانچ نظموں کے تراجم“نسخہ ہائے وفا“ میں شامل کیے ہیں۔ ان میں چار صد فی صد وہی ہیں جو ظ انصاری کے یہاں موجود ہیں۔ ظ انصاری کی کتاب 1974 میں شائع ہوئی جب کہ فیض کی کلیات بعد میں چھپی۔ ڈاکٹر کرسٹینا بھی حیرت میں مبتلا تھیں۔
معلوم ہوا کہ تراجم فیض نے ہی کیے تھے۔ اس امر کا ذکر ظ انصاری نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں کر دیا ہے۔ ایک معمولی سا سہو یہ ہوا کہ کتاب میں جس جگہ تراجم شائع ہوئے، وہاں بطور مترجم فیض صاحب کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ “
میں یہ پڑھ کر حیران ہوا کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے فیض صاحب روسی زبان سے نابلد تھے۔ میں نے ناصر عباس کو اس سلسلے میں استفسار لکھا، مگر تاحال انہوں نے جواب نہیں دیا۔
کل ہماری ریڈیو روس کے سابق اردو ہندی اہلکاروں کی محفل تھی۔ میں نے فیض صاحب کی جزوی مترجم ارینا ماکسیمینکو کے سامنے ڈاکٹر ناصر کی کتاب رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں لیکن یہ سو فیصد جانتی ہوں کہ فیض صاحب کو روسی زبان نہیں آتی تھی۔
میں چونکہ خود بھی روسی شعرا کے کلام کا منظوم ترجمہ کرتا رہا ہوں اور روسی زبان بہت اچھی نہ جاننے کی وجہ سے میں اپنی رفیق کار لینا بادیکووا سے کہتا تھا کہ مجھے شعروں کا سلیس اردو ترجمہ لکھ دو، پھر میں اسے منظوم کر دیا کرتا تھا۔ میں نے سوچا شاید فیض صاحب نے بھی ایسے ہی کیا ہو۔
مگر تحقیق فرض تھی چنانچہ فیض کی مترجم اور فیضیات پر سند ڈاکٹر لدمیلا واسیلیوا کو فون کرکے اقتباس سنایا اور سوال رکھا۔ انہوں ے کہا یہ پرانی بات ہو گئی۔ اس سلسے میں مجھے حیدرقریشی نے استفسار بھیجا تھا، ان صاحب کا ذکر ڈاکٹر ناصر کی کتاب میں بھی ہے، تو میں نے انہیں تفصیل سے لکھا تھا۔ بات یہ ہے کہ فیض صاحب نے زیادہ تراجم روس میں بیٹھ کر ہی کیے تھے۔ وہ سب تراجم انگریزی ترجموں سے کرتے تھے، جہاں ضرورت پڑتی تھی وہ ہم روسی مددگاروں سے پوچھ لیتے تھے۔
بات واضح ہو گئی کہ فیض صاحب نے رسول حمزہ توف کی نظموں کے ترجموں کا ترجمہ کیا ہے۔

