دنیا جنگ نہیں امن چاہتی ہے! ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر پابندیوں سے متعلق اقدام کو سراہاتے ہوئے کہا کہ دنیا ہلاکتوں کی نہیں بلکہ امن کی خواہاں ہے۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر نئی تجارتی پابندیاں عائد کردی گئیں جس کے ساتھ ہی پیانگ یانگ کی تیل کی سپلائی معطل ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ تیل کی سپلائی منسوخ ہونے کے بعد شمالی کوریا کے لیے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا اور اس کی تمام تیار پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 90 فیصد تک کم ہو جائیں گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیکیورٹی کونسل میں امریکی قردارداد پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کے حق میں اکثریت نے ووٹ دیا۔
شمالی کوریا کے بڑے تجارتی شراکت دار چین اور روس نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیئے جبکہ یہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کیخلاف رواں برس تیسری بین الاقوامی پابندی ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نیکی ہیلی کا کہنا ہے کہ ’پابندیوں کے نفاذ سے شمالی کوریا کو واضح خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پرمزید سزائیں اور علیحدگی کا سامنا ہوگا’۔
خیال رہے کہ چین شمالی کوریا کو تیل کی سپلائی کرنے والا واحد اتحادی ہے اور امریکا نے چین سے مذاکرات کے بعد پابندی سے معتلق مسودہ جمعرات کو بیجنگ بھیج دیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ‘اگر شمالی کوریا مزید جوہری ہیتھار یا بین البراعظمی بلیسٹک میزائل (آئی سی ایم بی) کا تجربہ کرتا ہے تو سلامتی کونسل اس پر پیڑولیم کی ڈی پی آر مصنوعات کے حوالے سے بھی پابندی عائد کردے گی’۔
اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد میں بیرونِ ملک کام کرنے والے شمالی کوریا کی افرادی قوت کو ایک سال کے اندر اندر واپس بھیجوانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد کوئی ممالک شمالی کوریا کو صنعتی مشین، ٹرک، آئرن، اسٹیل اور دیگر دھاتی اشیاء فروخت نہیں کرسکتے۔
امریکا کی جانب سے پیش کردہ اس قردارداد کی رو سے فوڈ، مشینری، برقی آلات، پھتر اور لکڑی سمیت کئی برآمدات پر پابندی عائد ہوگئی۔
دوسری جانب چین اور روس نے شمالی کوریا کے رویے پر مذمت کی جبکہ ساتھ ہی شمالی کوریا کا بحران اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی سطح پر مذاکرات کرنے کی تجویز پر زور دیا۔


