شرف ہم کلامی: انتطار حسین سے ملاقاتیں اور یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمودالحسن سے میرے تعارف اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، ایک گہرے نجی تعلق کا ذریعہ آصف فرخی بنے تھے۔ شاید چھ برس پہلے کی گرمیوں کا موسم تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں کئی لوگ ٹھہرے ہوئے تھے۔ محمد حسین آزاد کی سوسالہ تقریبات کا سلسلہ تھا۔ میرے کمرے میں چار پانچ اصحاب اس وقت موجود تھے۔ انہی میں ایک خاموش، بظاہر بہت سنجیدہ ہستی محمود الحسن کی تھی۔ آصف نے بتایا کہ ادب میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مشغلہ صحافت ہے۔ محمودالحسن بہت دھیرے دھیرے کھلنے والوں میں ہیں۔ بہت کم سخن، مگر بولتے ہیں تو نپے تلے انداز میں۔ اس سفر میں ان سے بہت لمبی لمبی ملاقاتیں رہیں۔ کئی بار توشام کے سات آٹھ بجے سے آدھی آدھی رات تک، علم اور ادب کا ایسا بے پایاں شوق نوجوانوں میں پہلے بھی کم دکھائی دیتا تھا۔ اب تو محمودالحسن جیسے لوگ خال خال ہی ملتے ہیں۔ پرانی کتابیں، نئی کتابیں، وہ بھی شعروادب سے لے کر بھانت بھانت کے موضوعات اورعلوم کوسمیٹتی ہوئی۔ مجھے پہلی ہی نظرمیں محمودالحسن بھا گئے۔ زاہد ڈار تو خیرادب کے معاملے میں چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں، مگر محمودالحسن کا دماغ بھی کچھ کم بھرا پرا اسٹور ہاؤس نہیں ہے۔ ایسی سنجیدہ لگن، ایسی تلاش میں نے واقعی کم دیکھی ہے۔ آصف نے کہا، محمود اس مجمع کودیکھ دیکھ کر الجھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ لوگ جلد اٹھ جائیں تو آپ سے باتیں کرسکیں۔ وہ دن اور آج کا دن، لاہور کے ہر سفر میں میرا سب سے زیادہ وقت، انتظارصاحب کے بعد شاید محمودالحسن ہی کے ساتھ گزرا ہے۔ کچھ ملاقاتوں کے بعد انکشاف ہوا کہ انہیں علم و ادب کے ساتھ ساتھ کرکٹ سے بھی گہرا شغف ہے اور کرکٹ بھی محمودالحسن کے لیے علمی تلاش و جستجو کا ایک میدان ہے۔ مجھے آٹھوں پہرصرف ادب کا دم بھرنے والوں سے اکتاہٹ بھی ہونے لگتی ہے۔

محمودالحسن اپنی صلاحیتوں کے اظہار میں خاصے بخیل ہیں، خاصے شرمیلے بھی ہیں، ان کی تحریروں اور صحافتی کمالات کا علم مجھے بہت دنوں بعد ہوا، اس وقت جب باربارکی ملاقاتوں کے نتیجے میں ہمارے مراسم کی نوعیت کسی قدر شخصی ہوچکی تھی اورتکلّفات رفتہ رفتہ ختم ہوتے جارہے تھے، محمودالحسن نے بہت سے ملاقاتیوں کے پروفائلس قلم بند کیے ہیں، اپنے اخبار کے لیے، ان پروفائلس میں ایک دنیاآباد ہے۔ غیر معمولی چہل پہل اور رنگا رنگی سے بھری ہوئی۔ یہ پروفائلس اور محمودالحسن کے لکھے ہوئے وہ گنتی کے مضامین بھی جو میری نظر سے گزرے، نادر اور نامانوس معلومات کا خزانہ بھی ہیں اور ایک ذہین، نوخیز اور ذمہ دار لکھنے والے کی بصیرتوں کا خاکہ بھی مرتب کرتے ہیں۔ محمودالحسن نے اپنے آپ کو صرف شعروادب تک محدود نہیں رکھا ہے۔ انہیں قدیم اور جدید علوم، مذہبیات، تاریخ، فلم، کرکٹ، فنون، سب سے یکساں دل چسپی ہے اور ان کی طبیعت میں سب سے زیادہ گہرائی اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ وہ کتابوں کے رسیا ہونے کے علاوہ، اپنے مشاہدے کی سطح پرچوکنے بہت ہیں اور خود بولنے سے زیادہ دوسروں کی باتیں غور سے سننے کے عادی ہیں۔

لاہور کے ادبی کلچر میں، میرے لیے ایک نہایت پرکشش شخصیت محمد سلیم الرحمن کی ہے۔ ان کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ نہ تو ادبی میلے ٹھیلے میں کوئی حصہ لیتے ہیں، نہ لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا، ان کے تکیے پر حاضری بھی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے محمد سلیم الرحمن کے آس پاس کبھی کسی ان گھڑ شخص کو نہیں دیکھا۔ گردوپیش کی دنیا سے جب کبھی بیزار ہوتے ہیں میز پراپنی نازک، حساس، آرٹسٹک انگلیوں کا رقص شروع کردیتے ہیں۔ ان سے قریب رہنے والوں میں محمودالحسن بھی شامل ہیں۔

2 فروری (2016ء) کو انتظارصاحب رخصت ہوگئے۔ ورنہ پچھلے کچھ عرصے سے ان کے گھر کی شامیں جن دوستوں سے آباد ہونے لگی تھیں، ان میں ایک بہت اچھا اضافہ محمودالحسن کا بھی تھا۔ اکثر زوال کے وقت وہ بھی وہیں پہنچ جاتے تھے اور سب کی باتیں غور سے سننے میں مصروف، انتظار صاحب کی ذات سے ان کی محبت اوردل چسپی بتدریج بڑھتی گئی۔ اس کا ایک خاص فائدہ مجھے یہ پہنچا کہ ہفتے میں ایک دوبارمحمود اپنے فون پر انتظارصاحب سے میری بات بھی کرا دیتے تھے۔

اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے انتظار صاحب کے بارے میں بہت سا سوانحی اورادبی مواد بھی چپ چاپ جمع کرنا شروع کردیا۔ انتظار صاحب کی تصویریں، خطوط، یادیں، کتابیں، ان سب کی قدروقیمت کا احساس ان کے یہاں جیسے جیسے بڑھتا گیا، محمودالحسن انتظارصاحب سے ملاقاتیں بھی زیادہ پابندی اور تواتر کے ساتھ کرنے لگے۔ میرا خیال ہے کہ انتظار صاحب کی باتیں ا پنے حافظے میں یکجا اور محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انتظارصاحب سے انٹرویوز کا ایک خاکہ بھی اپنے ذہن میں مرتب کرلیا تھا۔

پھراسی خاکے کے مطابق ان سے بات چیت شروع کردی۔ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں تھا۔ میں نے انتظار صاحب کے جیسے محتاط، شرمیلے اور وقتاً فوقتاً، حسب ضرورت، چپی سادھ لینے والے دوست ادیب بہت کم دیکھے ہیں۔ دنیا جہان کے ادب، موضوعات اور مسئلوں کے لیے ان کے بے چین دماغ میں خوب جگہ تھی، مگر انتظارصاحب چپ رہنے کے فائدے کا گیان بھی رکھتے تھے اور کبھی کبھی تو اس طرح پیش آتے تھے جیسے انہیں باہرکی دنیا سے نہ تو زیادہ واقفیت ہے نہ زیادہ دل چسپی ہے۔ انتظار صاحب کے مزاج میں سنجیدگی، گہرائی، تکلف، شرمیلے پن، سادگی کے علاوہ شوخی، کبھی کبھی تو ظرافت، فقرے بازی اورصاف گوئی کے عناصر بھی عجیب طریقے سے گھل مل گئے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان لمحوں کا انتخاب وہ خود کرتے تھے جب انہیں دل لگی کی باتیں کرنی ہیں یا صرف حکمت اور دانائی کی۔ مگر ان کے یہاں بقراطیت، علم نمائی، لفاظی، جذباتیت کے بے محابا اظہارکے لیے ذرا بھی گنجائش نہیں تھی، انہیں اپنے خاص دوستوں اور عزیزوں کی مجلس میں بھی حسب منشا چپ رہنے یا باتیں کرنے کی عادت تھی۔

محمودالحسن نے انتظارصاحب کو ہر عالم میں دیکھا، کبھی اداس، کبھی شادماں، کبھی گمبھیر، وہ انتظار صاحب کی محفلوں کے ایک شریک بھی رہے، شاہد بھی اورمشاہد بھی۔ میرا خیال ہے کہ انہیں اپنی تمام یادیں قلم بند کرلینی چاہئیں۔ آصف فرخی کی نئی کتاب ابھی میں نے نہیں دیکھی، لیکن اس کتاب کے بعد مجھے سچ تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ انتظار محمودالحسن کی لکھی ہوئی ڈائریوں، مضامین، خاکوں اور یادوں کا رہے گا۔

انتظار صاحب کی رفاقت میں گزارے ہوئے وقت، دوستوں کی بات چیت اور قہقہوں سے چھلکتی ہوئی شاموں اور جیل روڈ کے اس افسردہ، یادگار (اور اب اجاڑ) گھر کی خاموش دوپہروں کے دوران ہونے والے انٹرویوز کی یہ روداد، جو اس وقت میرے سامنے ہے، بہت انوکھی، بہت غیر معمولی اور میرے لیے بہت پرکشش ہے۔ انتظار صاحب نے محمودالحسن سے جو باتیں کی ہیں، بہت اپنائیت، سادگی اور دل چسپی کے ساتھ کی ہیں، یہ روداد ایک طرح کا سیلف پورٹریٹ ہے۔ انتظار صاحب نے جس گھرا ور ماحول میں آنکھیں کھولیں، اپنی ادبی اور صحافتی زندگی کا جو خاکہ بنایا، جس طرح ہجرت اختیار کی، پھر لاہورمیں ا نہیں جن تجربوں سے گزرنا پڑا، فلموں کا شوق، ٹہلنے کا شوق، ان کا ملنا ملانا جن لوگوں سے رہا، غرض کہ تصویروں کا ایک سلسلہ سا بنتا چلا گیا ہے، یادوں کا دوسرا نام ہی شاید تصویروں کا ایک سلسلہ ہے، دیکھئے کہ اسی سلسلے میں ضیاء الحق کے ساتھ ایک افطاری کا بیان بھی کس طرح چپ چپاتے شامل ہوگیا ہے۔ کیسی مزے کی داستان محمودالحسن نے مرتب کی ہے، مگراتنا کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ انتظار صاحب محمودالحسن کو جگہ جگہ چکمہ بھی دے گئے ہیں۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی باتوں میں خود کو ظا ہر بھی کیا ہے اور چھپایا بھی ہے۔ یہ انتظارحسین کی صورتِ حال کا ایک بے مثال ریکارڈ ہے اور ضرورت اس کی ہے کہ پڑھنے والا خالی جگہوں کو ُ پر کرنے کا شوق بھی ماند نہ پڑنے دے۔

محمودالحسن سے میرا تقاضا یہ ہے کہ اس مختصر سے ریکارڈ کو منظر عام پر لانے کے بعد وہ نچنت ہوکر نہ بیٹھیں۔ زاہد ڈار برسوں سے یہ نوید دیتے آرہے کہ ان دنوں وہ نظمیں چاہے نہ کہتے ہوں، مگر ڈائری پابندی سے لکھتے ہیں۔ پتہ نہیں ان کی ڈائری سے ہمارا تعارف کب ہوگا، ہوگا بھی کہ نہیں، مگر انتظار صاحب کی زندگی کے آخری دور کی گواہی دینے والوں میں، جو زاہد ڈار، مسعوداشعر، ایرج مبارک، آصف فرخی، خالد احمد، اکرام اللہ، محمود الحسن جیسوں کی ایک منتخب جماعت کا احاطہ کرتے ہیں، میں نے یہ امید باندھ رکھی ہے کہ ان میں خصوصاًمحمودالحسن اس کتاب پر قناعت نہیں کریں گے اور ابھی اور بہت سی تصویروں کو اس سلسلے میں پروتے جائیں گے۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے نجی اوراجتماعی حافظے کی روداد ’’کف گل فروش، ، اور ’’دامانِ باغباں، ، کی صورت اپنی یادگار چھوڑی ہے۔ انتظارصاحب یہ کام اپنے جن عزیزوں دوستوں کے سپرد کر گئے ہیں، ان میں محمودالحسن کا نام بھی شامل ہے۔ تو صاحب، اب ہم تمہارے اگلے قدم کی راہ دیکھ رہے ہیں….. خطوط، پروفائلس، خاکے ، یادیں!

شمیم حنفی

ذاکر باغ، نئی دہلی 24 اگست 2016ء

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •