پولیو سے متاثر فاسٹ باؤلر فرحان سعید کے حوصلے کی کہانی
یہ دور معجزوں کا تو نہیں لیکن کچھ لوگ اپنی ہمت، جذبے اور استقامت کے طور پرمعجز نما بن جاتے ہیں۔ فاسٹ باؤلر فرحان سعید کا شمار بھی ان باہمت افراد میں ہے۔ کہ جنہوں نے پولیو سے متاثر ٹانگ کی معذوری کے باوجوداپنے آئیڈیل شعیب اختر کی طرح فاسٹ باؤلر بننے کا خواب دیکھا۔ اور وہ کچھ کر دکھایا کہ جس کا یقین کرنا مشکل ہے۔ گلی کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا اور آج اپنی ہمت، جذبہ اور لگن سے انٹرنیشنل (عالمی) سطح پر کرکٹ کھیل کر وہ اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
پچھلے دنوں ہماری گفتگو پاکستان میں مقیم فرحان سعید سے ٹیلی فون پہ ہوئی۔ جنہوں نے اگر کچھ باتیں ماضی اور حال کے حوالے سے کیں تو کچھ مستقبل کے سپنوں کا بھی ذکر کیا یہ مضمون انٹر نیٹ پہ ان کے متعلق معلومات اور ان سے کی گئی گفتگو کا نچوڑ ہے۔
تیس سالہ فرحان کا تعلق کراچی کی نواحی بستی کورنگی سے ہے۔ جہاں وہ ایک کرائے کے مکان میں اپنے والدین، تین بھائی، بیوی اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی سب سے بڑی اولاد ہونے کے ناطے گھر کے اخراجات کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ مگر پولیو سے معذوری اور تعلیم کی کمی انہیں غربت کے چکر سے نکلنے نہیں دیتی۔
غریب علاقوں میں بسنے والوں کے دکھ بچپن سے شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی صاف پانی نہیں تو کہیں پولیو کے قطروں کی کمیابی۔ ایسا ہی کچھ فرحان کے ساتھ ہوا۔ فرحان کو بچپن میں پولیو کے قطرے نہیں ملے تھے۔ ایک دن بخار ہوا اور وہ پولیو میں مبتلا ہو گئے جس کے نتیجہ میں ان کی بائیں ٹانگ مفلوج ہوگئی۔ بیساکھی کا سہارا لینے والے فرحان کو اس کی معذوری نے احساس محرومی اور تنہائی میں مبتلا کر دیا۔ محلے کے بچے کرکٹ کھیلتے اور وہ ٹی وی پر میچ دیکھتا یا گلی میں کھیلتے بچوں کو کونے میں بیٹھا خاموشی سے دیکھتا رہتا۔ اسے اپنے آئیڈیل کھلاڑی شعیب اختر کی طرح جارحانہ انداز میں دور سے بھاگتے ہوئے تیز گیند کرانے کا شوق تھا۔ معذوری نے اس کے تخیلات کی دنیا کو لامحدود کر دیا تھا۔
ایک فاسٹ باؤلر بننے کی َخواہش کے پر بھلا کون کاٹ سکتا ہے۔ لیکن اس کی مشق کیسے ہوتی؟ بچے اس کا مذاق اڑاتے۔ وہ کیسے کھیلتا، معذوری حائل تھی۔ لیکن باوجود معذوری کے اسے جلد ہی اسے اپنی پڑھائی کا سلسلہ ختم کر کے پندرہ برس کی عمر میں چوڑیوں کی فیکٹری میں ملازمت کرنی پڑی۔ وہ سب سے بڑی اولاد تھا اس کے تین بھائی تھے۔ غربت کے سبب تعلیم کے اخراجات کا بار ممکن نہ تھا۔
ایک دن ایک خوبصورت اتفاق ہوا جب محلے کے لڑکے گلی میں ٹینس بال سے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ فرحان کو پہلی بار بال کرنے کا موقع ملا۔ اس نے یہ پہلی بال اپنی بیساکھی سے ڈورتے ہوئے کچھ اتنی جارحانہ انداز میں کرائی کہ سب حیران ہو گئے۔ اور یوں اس بظاہر معذور مگر حوصلہ مند فرحان کے کھیل کا آغاز ہوا۔ اس کی شاندار باؤلنگ نے اس کی جھجھک کو توڑ دیا۔ وہ پوری محنت سے میچ کھیلنے کی کوشش کرنے لگا۔
تاہم اس کا مذاق اڑانے والوں نے اس کے حوصلے پست کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ ہنستے ہنستے اس کا مذاق اڑاتے اور وہ چپکے چپکے روتا اور خود سے سوال کرتا آخر میں کیوں معذور ہوں؟ یہ میری غلطی تو نہیں ہے۔ فرحان کا آئیڈیل شعیب اختر تھا اور اس جیسا کھیلنے کی خواہش میں وہ گرتا پڑتا کھیلتا رہا، خون نکلتا، چوٹیں بھی لگتیں لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس کا کہنا تھا میرے لیئے کرکٹ کھیلنا بہت مشکل تھا۔
میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے کتنا افسوس تھا کہ میں معذور ہوں۔ بالخصوص جب لوگ ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے۔ اس پر تنقید کرتے۔ ان لوگوں کا مذاق ایک طرف اسے خون کے آنسو رلاتا تو دوسری جانب حوصلہ بلند بھی کرتا کہ میں سب کر سکتا ہوں۔
اسے ایک خوشگوار اتفاق ہی سمجھیں کہ 2007 میں فرحان کے دوست زاہد نے بتایا کہ نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان نیشنل فزیکلی ڈس ایبلڈ ٹیم کے کھلاڑیوں کا چناﺅ ہو رہا ہے۔ اگلے ہی دن وہ ٹرائیل میں گیا۔ ناظم بھائی (جوائنٹ سیکرٹری اور میڈیا مینیجر پی ڈی سی اے) میری فاسٹ باﺅلنگ سے بہت متاثر ہوئے ۔ اور میں پی ڈی سی اے2007 کی ٹیم کے لیئے منتخب ہو گیا۔ اور یوں اس کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ وہ لوگ جو اس کی بے عزتی کرتے اور کہتے کہ وہ ناممکن خوابوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اب اس کی عزت کرنے لگے۔ فرحان کی محنت، لگن اور ہمت نے اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ پی ڈی سی اے ٹیم کے بانی سلیم کریم ہیں جنہوں نے اس منفرد کھیل کا آغاز کیا۔ وہ خود پولیو کا شکار تھے۔ 2006 میں اس ٹیم کو بنانے کا آئیڈیا آیا۔ جو انہوں نے فرسٹ کلاس کھلاڑی عامر الدین انصاری کو بتایا۔ جنہوں نے اسے پاکستان کرکٹ بورڈ تک پہنچایا۔ اور پھر ڈومیسٹک (domestic) کرکٹ کی فعال شخصیت محمد ناظم نے بھی اسے جوائن کیا۔
اس منفرد ٹیم نے یوں تو سینکڑوں میچ مقامی سطح پر کھیلے لیکن عالمی سطح پہ 2010 میں سنگا پور، ملائشیا میں کھیل کر ٹیم کا شاندار تعارف ہوا۔ 2012 میں فرحان کا انتخاب متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف کھیلنے والی ٹیم کے لیئے ہوا۔ فرحان کا یہ خواب تھا جو پورا ہو رہا تھا۔ فرحان کے لیئے بہت مسرت کی بات تھی کہ جب کیمپ کے دوران میچ کی پریکٹس میں اس کے آئیڈیل مشہور کھلاڑی شعیب اختر اس کا کھیل دیکھنے اور کچھ ٹپز (tips) سکھانے کے لئے آئے۔ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف فرحان کا کھیل دیکھ کر ان کی آنکھیں بھیگ گئیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ ٹپز سکھانے آئے تھے مگر وہ خود اس سے کچھ سیکھ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے دوسرے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ وہ فرحان سے سیکھیں۔
2015 ء میں ٹیم نے بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا اور انگلینڈ کے خلاف میچ کی سیریز کھیلی۔ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سارے میچ میں فتح مندی حاصل کی سوائے انڈیا کے ساتھ فائنل میچ میں۔ تاہم اس میں بھی بہترین باﺅلر کی ٹرافی فرحان نے حاصل کی۔
اپنے کھیل کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدا میں یہ کھیل خود ہی سیکھا۔ ان کے دل میں پی ڈی سی اے کے عہدیداران کے لئے بہت عزت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سب ہی خاص کر مینیجر امیر الدین ان کا بہت خیال رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ اپنی پریکٹس کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ ہر اتوار کم ازکم دو ڈھائی گھنٹے باقاعدگی سے تیز باﺅلنگ کی مشق کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سے انہوں نے باقاعدہ میچز کھیلنے شروع کیئے ہیں وہ کبھی بھی نہیں گرے۔ حالانکہ ان کو دیکھنے والے اگرچہ ڈرتے رہتے ہیں کہ گر جائے گا۔ کیونکہ بیلنس خراب ہو سکتا ہے۔ لیکن فرحان نے کہا کہ ان کا اعتماد ہمیشہ بڑھتا ہی رہا ہے۔
اپنے کھیل کی کامیابی کا سہرا انہوں نے اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے سر باندھا۔ تیس سالہ فرحان نے کہا کہ ان کا دو سال کا بیٹا بھی ہے اور ان کی بیوی ہر لحاظ سے بہت تعاون کرتی ہیں۔ آمدنی میں اضافے کے لیئے سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں۔ ان کو بھی کرکٹ کا بہت شوق ہے۔ فرحان نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ خود بھی اور اپنی بیگم کو بھی تعلیم دلوائیں گے۔ تاکہ آگے بڑھ سکیں اور بچے کا مستقبل بہتر ہو سکے۔
اپنے مالی وسائل کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ گارمنٹ کی فیکٹری میں بطور چیکر کام کرتے ہیں۔ جہاں انہیں 8000 روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی گارنٹی نہیں کیونکہ جب وہ ٹریننگ سیشن کے لیئے جاتے ہیں تو چھٹی لینی پڑتی ہے۔ اور اس کے پیسے کٹتے ہیں۔ میرے اس سوال پہ کہ ان میچز سے انہیں کتنا مالی فائدہ ہوتا ہے تو انہوں نے کہا، پچیس سے تیس ہزار جو یقینا انتہائی قلیل رقم ہے۔ فرحان نے کہا کہ حالانکہ ہم 2016 میں انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف فائنل جیت کر آئے تو ہماری ٹیم کا اتنا چرچا نہیں ہوا جس طرح سے ہونا چاہئیے تھا۔
ٹیم کے عہدہ دار محمد ناظم کے مطابق ہم نے کبھی ڈونرز اور کمپنیوں سے مدد نہیں مانگی۔ تاہم اگر کوئی تعاون کرے تو ہم قبول کریں گے۔ ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کہ معاہدہ متعارف کروائیں تاکہ یہ کھلاڑی باقاعدہ سے مستقبل میں معاوضہ حاصل کر سکیں۔ یہ ہمارے ہیروز ہیں اور ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیئے۔
آخر میں فرحان کا جملہ ان تمام ان تمام افراد کے گوش گذار ہے جو معذوری کے سبب اعتماد میں کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معذوری اپنی جگہ، یہ اللہ تعالیٰ نے دی ہے لیکن میں کوشش کروں تو ہر کام کر سکتا ہوں۔ اپنی کامیابی سے میں اپنی معذوری بھول گیا ہوں۔






